سیرت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ
قسط نمبر 1
نام و نسب
آپ رضی اللہ عنہ کا نام علی اور لقب حیدر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوالحسن اور ابوتراب ہے۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے والد ماجد کا نام ابو طالب ہے۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بنت اسد ہے اور آپ رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں۔
کنیت ابو تراب کی وجہ تسمیہ
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو تراب کی وجہ تسمیہ کتب سیرت میں یوں منقول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنی زوجہ حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا سے ناراض ہو گئے اور مسجد میں جا کر فرش پر لیٹ گئے جس سے آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کو مٹی لگ گئی۔ اس دوران حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی سے ملنے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ حضرت سیدنا على المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ناراض ہو کر مسجد میں چلے گئے ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ کو لینے کے لئے مسجد میں پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ سور ہے تھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے ابوتراب! اٹھ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی تو اٹھ کھڑے ہوئے۔ چنانچہ اس دن سے آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوتراب مشہور ہو گئی۔
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوتراب کے سلسلے میں ایک اور روایت کتب سیز میں یہ موجود ہے کہ غزوہ عشیرہ کے سفر کے دوران جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آرام کرنے کے لئے ایک نخلستان میں قیام کرنے کا حکم دیا تو حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ایک درخت کے نیچے جا کر لیٹ گئے۔ صحرائی مٹی آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک پر لگ گئی۔ اس دوران حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈتے ہوئے تشریف لائے اور یوں محو خواب دیکھ کر فرمایا: اے ابوتراب! اٹھو۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوتراب! میں تجھے یہ نہ بتاؤں کہ سب سے زیادہ بد بخت کون ہے؟ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتائیے؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وہ شخص جس نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کونچیں کاٹیں اور دوسرا وہ شخص جو تیرے چہرہ اور داڑھی کو خون میں ڈبوئے گا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے جاتے اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیرے جاتے تھے۔ چنانچہ اس دن کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوتراب مشہور ہوئی۔
سلسلہ نسب
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا والد ماجد کی جانب سے سلسلہ نسب کچھ یوں ہے:
علی بن ابو طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی۔
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بنت اسد پہلی ہاشمی خاتون تھیں جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں۔