سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 110
عنوان: سفر آخرت
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو اپنا ہاتھ مبارک پانی میں ڈال کر اپنے چہرہ انور پر پھیرنے لگے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے اے اللہ! موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بےچینی کے آثار دیکھے تو میں پکار اٹھی ہائے میرے والد کی بے چینی! یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج کے بعد پھر کوئی بےچینی تمہارے باپ کو نہیں ہوگی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وفات کے وقت جو اس قدر تکلیف اور بےچینی کے آثار ظاہر ہوئے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے، یہ کہ اگر کسی مسلمان کو موت کے وقت اس طرح کی تکلیف اور بےچینی ہو تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کو یاد کرکے خود کو تسلی دے سکتا ہے۔ یعنی دل میں کہہ سکتا ہے کہ جب اللہ کے رسول پر موت کے وقت اتنی تکلیف گذری تو میری کیا حیثیت ہے؟ یوں بھی موت کی سختی مومن کے درجات بلند ہونے کا سبب بنتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر موت کی تکلیف کے بعد اب میں کسی پر بھی موت کے وقت سختی کو ناگوار محسوس نہیں کرتی۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوتی تھی تو فرمایا کرتے تھے اے تمام لوگوں کے پروردگار! یہ تکلیف دور فرمادے اور شفا عطا فرمادے کہ تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری دی ہوئی شفا ہی اصل شفا ہے جس میں بیماری کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بےچینی بڑھی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور دعا کے یہی کلمات پڑھ کر دم کرنے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک کھینچ لیا اور یہ دعا پڑھی اے اللہ! میری مغفرت فرما اور مجھے رفیق اعلیٰ میں جگہ عطا فرما۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی تکلیف ہوتی عافیت اور شفا کی دعا کیا کرتے تھے۔ لیکن جب مرض وفات ہوا تو اس میں شفا کی دعا نہیں مانگی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس حالت میں میرے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ آئے، ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس مسواک کو دیکھنے لگے۔ میں سمجھ گئی کہ مسواک کی خواہش محسوس کررہے ہیں، کیونکہ مسواک کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھا، چنانچہ میں نے پوچھا آپ کو مسواک دو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک سے ہاں کا اشارہ فرمایا۔ میں نے مسواک دانتوں سے نرم کر کے دی۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے سہارا لیے ہوئے تھے۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں میرے اوپر اللہ کے خاص انعامات میں سے ایک انعام یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال میرے گھر میں ہوا۔ آپ کا جسم مبارک اس وقت میرے جسم سے سہارا لیے ہوا تھا۔ وفات کے وقت اللہ تعالیٰ نے میرا لعاب دہن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن سے ملادیا، کیونکہ اس مسواک کو میں نے نرم کرنے کے لیے چبایا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنے دانتوں پر پھیرا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوئی تو سب ازواج مطہرات آس پاس جمع ہوگئیں۔ مرض کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس غلام آزاد فرمائے۔ گھر میں اس وقت چھ یا سات دینار تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ ان دیناروں کو صدقہ کردے،ساتھ ہی ارشاد فرمایا محمد اپنے رب کے پاس کیا گمان لے کر جائے گا کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہو اور یہ مال اس کے پاس ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی وقت ان دیناروں کو صدقہ کردیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سے چند روز پہلے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا تھا کہ چاند زمین سے اٹھ کر آسمان کی طرف چلا گیا۔ انہوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب سنایا تھا،خواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اے عباس! وہ تمہارا بھتیجا ہے۔ یعنی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی طرف اشارہ تھا۔ اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے پناه محبت تھی۔ علالت کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا۔ وہ تشریف لائیں تو ان کے کان میں کچھ باتیں کیں، وہ سن کر رونے لگیں، پھر ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنس پڑیں۔ بعد میں انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسی مرض میں وفات پا جاؤں گا، یہ سن کر میں رو پڑی، دوسری بار فرمایا کہ خاندان میں سب سے پہلے تم مجھ سے ملوگی۔ یہ سن کر میں ہنس پڑی۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے کچھ عرصے بعد سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ہی انتقال ہوا۔ وفات سے ایک یا دو دن پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا یہود اور نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو عبادت گاه بنالیا۔ یہ بھی فرمایا کہ یہودیوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دو اور فرمایا لوگو! نماز، نماز، نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور اپنے غلاموں کا خیال رکھو۔ وفات سے پہلے حضرت جبرئیل علیہ السلام ملک الموت کے ساتھ آئے۔انہوں نے عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ آپ کے مشتاق ہیں۔ یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو حکم کے مطابق میری روح قبض کرلو۔ ایک روایت کے مطابق حضرت جبرئیل علیہ السلام ملک الموت کے ساتھ آئے تھے۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا اے اللہ کے رسول! یہ ملک الموت ہیں اور اور آپ سے اجازت مانگتے ہیں، آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی اور نہ آپ کے بعد کسی سے اجازت مانگیں گے۔کیا آپ انہیں اجازت دیتے ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ تب عزرائیل علیہ السلام اندر آئے۔ انہوں نے آپ کو سلام کیا،اور عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ اگر آپ مجھے حکم دیں کہ میں آپ کی روح قبض کروں تو میں ایسا ہی کروں گا اور اگر آپ حکم فرمائیں کہ چھوڑ دو تو میں ایسا ہی کروں گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم ایسا کرسکتے ہو کہ روح قبض کیے بغیر چلے جاؤ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں! مجھے یہی حکم دیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام کی طرف دیکھا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنے پروردگار سے ملاقات عزیز ہیں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عزرائیل علیہ السلام سے فرمایا تمہیں جس بات کا حکم دیا گیا ہے، اس کو پورا کرو۔ چنانچہ ملک الموت نے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کرلی انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس روز پیر کا دن تھا اور دوپہر کا وقت تھا۔ تاریخ وفات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ معتبر قول کے مطابق ربیع الاول کی 9 تاریخ تھی۔ وفات کے فوراً بعد حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو اطلاع بھیجی گئی، وہ فوراً آئے۔آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، انہوں نے آتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو بوسہ دیا اور یہ الفاظ کہے آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔آپ زندگی میں بھی پاک اور مبارک تھے اور موت کی حالت میں بھی پاک اور مبارک ہیں، جو موت آپ کو آنا تھی آچکی، اب اللہ تعالیٰ آپ کو موت نہیں دیں گے۔