0

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 103 عنوان: غزوہ تبوک

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

قسط نمبر 103

عنوان: غزوہ تبوک

اس پر شیما نے اپنی قوم کے قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ قیدیوں کی تعداد چھ ہزار تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سب قیدی شیما کے حوالے کردیے اور انھوں نے سب کو چھوڑ دیا۔ یہ حد درجے شریفانہ سلوک تھا،اس طرح شیما اپنی قوم کے لیے بے حد بابرکت ثابت ہوئیں، اس کے بعد بنی ہوازن کے دوسرے قیدیوں کو بھی رہائی مل گئی۔ مالک بن عوف جنگ کے میدان سے فرار ہوکر طائف چلے گئے تھے، جب کہ ان کے گھر والے قیدی بنالیے گئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بھی رہا کردیا تھا- جب مالک بن عوف رضی اللہ عنہ کو اپنے گھرانے کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے حسنِ سلوک کا پتا چلا تو وہ بھی طائف سے نکل کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت جعرانہ کے مقام پر تھے، انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بنی ہوازن کے ان لوگوں کا امیر بنادیا جو مسلمان ہوگئے تھے۔ جعرانہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مکہ معظمہ روانہ ہونے لگے تو عمرے کا احرام باندھ لیا۔ وہاں سے روانہ ہوکر رات کے وقت مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسلسل لبیک (یعنی تلبیہ) پڑھتے رہے۔ عمرے سے فارغ ہوکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم 27ذی قعدہ کو واپس مدینہ منورہ تشریف لائے۔ فتح مکہ کے بعد عرب کے تمام قبائل پر اسلام کی دھاک بیٹھ گئی اور وہ جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے۔ رجب 9ہجری میں غزوہ تبوک پیش آیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے اطلاعات ملیں کہ رومیوں نے شام میں بہت زبردست لشکر جمع کرلیا ہے اور یہ کہ انھوں نے اپنے ہر اول دستوں بلقاء کے مقام تک پھیلا دیا ہے، بلقاء ایک مشہور مقام تھا۔ ان اطلاعات کی بنیاد پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے تیاری کا حکم فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ کی تیاری کا حکم فرماتے تھے تو یہ نہیں بتاتے تھے کہ جانا کہاں ہے، مطلب یہ کہ اس بات کو خفیہ رکھتے تھے، لیکن غزوہ تبوک کی باری میں آپ نے معاملہ راز میں نہ رکھا، اس لیے کہ رومیوں کا لشکر بہت زیادہ فاصلے پر تھا، راستے کی تکالیف کا اندازہ کیے بغیر چل پڑنا مناسب نہیں تھا، اس کے علاوہ دشمن کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی، اس لیے اس کے مطابق تیاری کرنے کی ضرورت تھی۔ غزوہ تبوک آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری غزوہ ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کسی غزوے میں تشریف نہ لے جاسکے۔ البتہ مہمات کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روانہ فرماتے رہے۔ سامانِ جنگ اور ضرورت کی دوسری چیزوں کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے امداد کا اعلان فرمایا، اس اعلان کا سننا تھا کہ صحابہ کرام نے اپنا مال اور دولت پانی کی طرح خرچ کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تو اس قدر دولت لٹائی کہ کوئی دوسرا شخص مقدار کے لحاظ سے ان کی برابری نہ کرسکا-انھوں نے نوسو اونٹ، ایک سو گھوڑے، دس ہزار دینار اور ان کے علاوہ بے شمار زادِ راہ دیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی فیاضی کا حال دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے اللہ! میں عثمان سے راضی ہوں، تو بھی ان سے راضی ہوجا۔ ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و سلم کافی رات گئے تک ان کے لیے دعا فرماتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے لیے یہ الفاظ بھی ارشاد فرمائے آج کے بعد عثمان کا کوئی عمل انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہ الفاظ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان دیناروں کو الٹ پلٹ رہے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے علاوہ جو دوسرے مال دار صحابہ تھے، انہوں نے بھی لشکر کی تیاری میں زبردست امداد دی-حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو قربانی میں سب سے بڑھ گئے۔ وہ اپنے گھر کا سارا سامان لے آئے، اس کی تعداد چار ہزار درہم کے برابر تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے پوچھا ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے یا نہیں؟ جواب میں انہوں نے عرض کیا میں نے ان کے لیے اللہ اور اللہ کا رسول چھوڑا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا نصف مال لائے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی بہت سا مال لائے۔ حضرت عباس بن عبد المطلب بھی بہت مال لائے۔ عورتوں نے اپنے زیورات اتار کر بھیجے۔ حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے ستر وسق کھجوروں کے دیے۔ ایک وسق اتنے وزن کو کہتے ہیں جتنا وزن ایک اونٹ پر لادا جاسکے، یہ وزن تقریباً پونے چار ٹن بنتا ہے۔ آخرکار جنگ کی تیاری مکمل ہوگئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تیس ہزار کے لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اس لشکر میں دس ہزار گھوڑے تھے۔ آپ نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام بنایا۔ اس لشکر میں کچھ منافقین بھی شامل ہوئے، ان میں منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی سلول بھی تھا، یہ مہم چونکہ بہت دشوار تھی، طویل فاصلے والی تھی، اس لیے اکثر منافقین تو شروع ہی سے ساتھ نہیں دیتے تھے، پھر جانے والوں میں سے بھی بہت سوں کی ہمتیں جواب دے گئیں اور وہ کچھ ہی دور چلنے کے بعد واپس لوٹ گئے۔ اس طرح منافقوں کا پول کھل گیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس غزوے کے لیے کئی پرچم تیار کرائے تھے۔ سب سے بڑا پرچم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ ہی میں ٹھہرنے کا حکم فرمایا۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کچھ پریشانی محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تمہاری حیثیت میرے لیے وہی ہو جو موسی علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام کی تھی، فرق یہ ہے کہ ہارون علیہ السلام نبی تھے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ مطمئن ہوگئے، سوائے غزوہ تبوک کے اور کوئی غزوہ ایسا نہیں جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ شریک نہ ہوئے ہوں۔ اس سفر کے دوران تبوک کی طرف جاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کھنڈرات کے پاس سے گزرے جو قوم ثمود کا وطن تھا اور جنھیں اللہ تعالٰی نے عذاب سے تباہ و برباد کردیا تھا۔ اس مقام سے گزرتے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے سر مبارک پر کپڑا ڈال لیا تھا اور سواری کے رفتار تیز کردی تھی تاکہ جلد از جلد وہاں سے گزر جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا تھا ان کھنڈرات کے پاس روتے ہوئے گذرو، کہیں تم بھی اس بلا میں گرفتار نہ ہوجاؤ جس میں یہ قوم ہوئی تھی۔ آپ نے یہ اعلان بھی فرمایا آج رات ان پر آندھی کا زبردست طوفان آئے گا، جس کے پاس اونٹ یا گھوڑا ہے، وہ اس کو باندھ کر رکھے۔ ساتھ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم فرمایا آج رات کوئی شخص تنہا اپنے پڑاؤ سے باہر نہ جائے بلکہ کسی نہ کسی کو اپنے ساتھ ضرور رکھے۔ پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ایک شخص کسی ضرورت سے تنہا باہر نکل گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا دم گھٹ گیا۔ ایک دوسرا شخص اپنے اونٹ کی تلاش میں نکل گیا۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ ہوا اسے اڑا لے گئی اور پہاڑوں پر جا پھینکا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو جب ان دو واقعات کا علم ہوا تو فرمایا کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ کوئی تنہا نہ جائے؟ باہر جانا پڑ جائے تو کسی کو ساتھ لے کر نکلے۔ اس سفر کے دوران ایک روز پانی بالکل ختم ہوگیا۔ پیاس نے لوگوں کو پریشان کردیا۔ آخر لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت تک ہاتھ اٹھائے رہے جب تک کہ بارش نہ ہوگئی اور اتنی بارش ہوئی کہ سب سیراب ہوگئے۔ لشکر نے اپنے برتن بھی بھر لیے۔ ان حالات میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اونٹنی گم ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اونٹنی کو تلاش کرنے کا حکم فرمایا، لشکر میں کچھ منافق رہ گئے تھے وہ واپس نہیں گئے تھے اس موقع پر وہ کہنے لگے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا دعوی تو یہ ہے کہ وہ نبی ہیں اور یہ مسلمانوں کو آسمان کی خبریں سناتے ہیں، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تک منافقین کی یہ باتیں فوراً ہی پہنچ گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کے سامنے ارشاد فرمایا مجھ تک کچھ لوگوں کی یہ بات پہنچی ہے، اللہ کی قسم!میں انہی باتوں کو جانتا ہوں جو اللہ تعالٰی مجھے بتادیتے ہیں اور اونٹنی کے بارے میں مجھے ابھی اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ وہ فلاں وادی میں ہے، اس کی مہار ایک درخت کی ٹہنی میں الجھ گئی ہے۔ تم لوگ وہاں جاؤ اور اونٹنی کو میرے پاس لے آؤ۔ لوگ وہاں گئے تو اونٹنی کو اسی حالت میں پایا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا۔ سفر جاری تھا کہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا اونٹ تھک گیا، جب اونٹ کسی طرح چلنے کے لیے تیار نہ ہوا تو تنگ آکر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے سامان اس پر سے اتار کر اپنے سر پر رکھ لیا اور پیدل چل پڑے۔ یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچ گئے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پہلے ہی خبر دے چکے تھے کہ ابوذر پیچھے رہ گئے ہیں، کیونکہ ان کا اونٹ تھک گیا ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے اس کے حال پر چھوڑدو، اگر ابوذر میں کوئی خیر ہے تو اللہ تعالٰی اسے تم تک پہنچا دےگا اور اگر خیر کے بجائے برائی ہے تو سمجھ لو اللہ نے تمہیں اس سے امن دے دیا۔ پھر لوگوں نے دور سے کسی کو آتے دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ابوذر ہوں گے۔ اللہ ان پر رحمت فرمائے، اکیلے ہی پیدل چلے آرہے ہیں، اکیلے ہی مریں گے (یعنی ان کی موت ویرانے میں ہوگی) اور اکیلے ہی دوبارہ زندہ ہوکر قیامت میں اٹھیں گے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ پیش گوئی لفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں وہ ربذہ کے ویران مقام پر چلے گئے تھے، وہیں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔ آخر اسلامی لشکر نے تبوک کے مقام پر پہنچ کر پڑاؤ ڈالا۔

 

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں