0

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 102 عنوان: طائف کا محاصرہ

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

قسط نمبر 102

عنوان: طائف کا محاصرہ

ساتھ ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا جس شخص نے کسی مشرک کو قتل کیا ہے، اس کے ہتھیار وغیرہ اسی کے ہوں گے۔ حنین کے میدان سے شکست کھاکر بنی ہوازن کے کچھ لوگ اوطاس کے مقام پہنچ گئے۔ انہوں نے وہاں ڈیرے ڈال دیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک دستہ دے کر ان کی طرف روانہ فرمایا اور خود اپنے خیمے میں تشریف لے آئے۔ حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین میں میری پیشانی میں ایک تیر آکر لگا، خون بہہ کر میرے سینے پر گرنے لگا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری پیشانی سے پیٹ تک پھیرا۔ خون اسی وقت بند ہوگیا اور میرے لیے دعا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کا نشان میری پیشانی پر باقی رہ گیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی اس جنگ میں زخمی ہوئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کے زخم پر لگایا۔ وہ فرماتے ہیں کہ تکلیف اسی وقت جاتی رہی۔ حنین میں مشرکوں کی شکست کے بعد بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے۔ وہ جان گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا تمام قیدی اور مال غنیمت ایک جگہ جمع کردیا جائے۔ جب یہ مال اور قیدی جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ جعرانہ کے مقام پر بھیجوادیا۔ غزوہ طائف سے واپسی تک یہ سارا سامان وہیں رہا، یعنی اس کے بعد مسلمانوں میں تقسیم ہوا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ بنی ہوازن اور اس کا سردار مالک بن عوف شکست کھانے کے بعد طائف پہنچ گئے ہیں۔ طائف اس وقت بھی ایک بڑا شہر تھا۔ ان لوگوں نے وہاں ایک قلعہ میں پناه لے رکھی تھی۔ یہ اطلاع ملنے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف روانہ ہوئے۔آپ نے ہر اول دستہ پہلے روانہ فرمایا۔ اس دستے کا سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔آخر یہ لشکر طائف پہنچ گیا اور اس قلعہ کے پاس جاٹھیرا جس میں مالک بن عوف اور اس کا بچا کھچا لشکر پناه لے چکا تھا۔ مشرکوں نے جونہی اسلامی لشکر کو دیکھا،انہوں نے قلعہ پر سے زبردست تیراندازی کی، ان تیروں سے بہت سے مسلمان زخمی ہوگئے۔ ایک تیر حضرت ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کی آنکھ میں لگا۔ ان کی آنکھ باہر نکل آئی۔ یہ اپنی آنکھ ہتھیلی پر رکھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اللہ کے رسول!میری یہ آنکھ اللہ کے راستے میں جاتی رہی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم چاہو تو میں دعا کروں گا اور تمہاری یہ آنکھ واپس اپنی جگہ پر ٹھیک ہوجائے گی، اگر آنکھ نہ چاہو تو پھر بدلے میں جنت ملے گی۔ اس پر انہوں نے فرمایا مجھے تو جنت ہی عزیز ہیں۔ یہ کہا اور آنکھ پھینک دی۔ غزوہ طائف میں جو لوگ تیروں سے زخمی ہوئے تھے، ان میں سے بارہ آدمی شہادت پا گئے۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قلعہ کے پاس سے ہٹ کر اس جگہ آگئے جہاں اب مسجد طائف ہے۔ قلعہ کا محاصرہ جاری تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ لشکر سے آگے نکل کر آگے بڑھے اور پکارے۔ کوئی ہے جو میرے مقابلے پر آئے۔ ان کی للکار کے جواب میں کوئی مقابلے کے لیے نہ آیا۔ قلعہ کے اوپر سے عبدیالیل نے کہا ہم میں سے کوئی شخص بھی قلعہ سے اتر کر تمہارے پاس نہیں آئے گا۔ ہم قلعہ بند رہیں گے، ہمارے پاس کھانے پینے کا اتنا سامان ہے کہ ہمیں برسوں کافی ہوسکتا ہے، جب تک ہمارا غلہ ختم نہیں ہوجاتا، ہم باہر نہیں آئیں گے، تم اس وقت تک ٹھر سکتے ہو تو ٹھیرے رہو۔ محاصرے کو جب کئی دن گزر گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ طائف والوں پر فیصلہ کن حملہ کیوں نہیں فرمارہے۔ اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابھی مجھے طائف والوں کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم نہیں ملا، میرا خیال ہے کہ ہم اس وقت اس شہر کو فتح نہیں کریں گے۔ آخر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہ ملا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا حکم فرمادیا، لوگوں کو فتح کے بغیر واپس جانا اچھا نہ لگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ناگواری بھانپ لی چنانچہ فرمایا اچھا تو پھر حملے کی تیاری کرو۔ لوگوں نے فوراً حملے کی تیاری کی اور قلعہ پر دھاوا بول دیا، اس طرح بہت سے مسلمان زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد آپ نے پھر اعلان فرمایا اب ہم ان شاءاللہ روانہ ہورہے ہیں۔ اس مرتبہ یہ اعلان سن کر لوگ خوش ہوگئے اور فرمابرداری کے ساتھ کوچ کی تیاری کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، آپ کو ہنسی اس بات پر آئی کہ پہلے تو لڑنے پر تیار تھے اور واپس جانا برا محسوس کررہے تھے، اب کس قدر جلد اور خوشی سے واپس جانے کے لیے تیار ہوگئے۔ دراصل اب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جان لیا تھا کہ اللہ کے رسول کی رائے ہی بالکل درست تھی۔ واپس روانگی کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا وعدہ سچا ہے۔اس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی، اس اکیلے نے “احزاب” کو شکست دی (احزاب کا مطلب ہے وہ فوج جس میں بہت سے گروہ جمع ہوں)۔ کچھ آگے بڑھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں اور عبادت کرنے والے ہیں اپنے پروردگار کی اور اس کی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ طائف وہ شہر تھا جہاں کے لوگوں نے ہجرت سے پہلے بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ستایا تھا، لہولہان کردیا تھا مگر اس کے باوجود پہلے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا نہیں کی تھی اور اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف کے لوگوں کے لیے یہ دعا فرمائی اے اللہ! بنی ثقیف کو ہدایت عطا فرما اور انہیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے پاس بھیج دے۔ اس لڑائی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی زخمی ہوئے تھے، اس زخم کے اثر سے وہ چند سال بعد حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں انتقال کرگئے۔ واپسی کے سفر میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ کے مقام پر پہنچنے کے لیے نشیب میں اترے تو وہاں سراقہ بن مالک ملے۔ سراقہ وہ شخص ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انہوں نے انعام کے لالچ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاقب کیا تھا، نزدیک پہنچنے پر ان کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے تھے، انہوں نے معافی مانگی تو گھوڑے کے پاؤں نکل آئے، یہ پھر قتل کے ارادے سے آگے بڑھے تو پھر گھوڑے کے پاؤں دھنس گئے، تین بار ایسا ہوا، آخر انہیں عقل آگئی اور سچے دل سے معافی مانگی، پھر واپس لوٹ گئے تھے، اس وقت یہ مسلمان نہیں ہوئے تھے، لیکن انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا اے محمد! میں جانتا ہوں ایک دن ساری دنیا میں آپ کا بول بالا ہونے والا ہے، آپ لوگوں کی جانوں کے مالک ہوں گے، اس لیے مجھے اپنی طرف سےایک تحریر لکھ دیجئے تاکہ جب آپ کی حکومت کے دور میں آپ کے پاس آؤں تو آپ میرے ساتھ عزت سے پیش آئیں۔ ان کی درخواست پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یا ان کے غلام عامر بن ابی فہیرہ رضی اللہ عنہ سے تحریر لکھوا کر انہیں دی تھی، سراقہ اب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے ہی آئے تھے اور جعرانہ کے مقام پر یہ ملاقات ہوگئی، اسی مقام پر مسلمان غزوہ حنین کا مال غنیمت منتقل کرچکے تھے، سراقہ بن مالک اس وقت یہ پکار رہے تھے میں سراقہ بن مالک ہوں اور میرے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر موجود ہے۔ اس کے الفاظ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج وفا، محبت اور وعدے کا دن ہے، اسے میرے قریب لاؤ۔ صحابہ کرام نے سراقہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب لاکھڑا کیا، آپ ان سے بہت مہربانی سے پیش آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے مال غنیمت کا حساب لگوایا اور اس کو مسلمانوں میں تقسیم فرمایا، حنین میں جو قیدی ہاتھ لگے، ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن شیما بنت حلیمہ سعدیہ بھی تھیں۔ یعنی آپ کی دایہ حضرت حلیمہ سعدیہ کی بیٹی تھیں اور بچپن میں آپ کی دودھ شریک بہن تھیں۔ جب یہ گرفتار ہوئی تھیں تو صحابہ سے کہنے لگیں کہ میں تمہارے نبی کی بہن ہوں لیکن انہوں نے شیما کی بات پر یقین نہیں کیا تھا، آخر انصار کی ایک جماعت انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئی۔شیما جب آپ کے سامنے آئیں تو بولیں اے محمد! میں آپ کی بہن ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا اس بات کا کیا ثبوت ہے۔ جواب میں شیما بولیں میرے انگوٹھے پر آپ کے کاٹنے کا نشان ہے، جب میں نے آپ کو گود میں اٹھا رکھا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نشان کو پہچان لیا۔ پہچانتے ہی آپ کھڑے ہوگئے۔ ان کے لیے اپنی چادر بچھائی اور انہیں عزت سے بٹھایا۔ اس وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا تم جو کچھ مانگو گی، دیا جائے گا، جس بات کی سفارش کروگی، قبول کی جائے گی۔

  

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں