سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 101
عنوان: غزوہ حنین
پھر اس روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دیں، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے گھر میں کوئی بت نہ چھوڑے، اس کو توڑ دے۔ لوگ بتوں کو توڑنے لگے۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی ہندہ رضی اللہ عنہا جب مسلمان ہوگئیں تو اپنے اپنے گھر میں رکھے بت کی طرف بڑھیں اور لگیں اس کو ٹھوکریں مارنے، ساتھ میں کہتی جاتی تھیں ہم لوگ تیری وجہ سے بہت دھوکے اور غرور میں تھے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردونواح میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیجا تاکہ ان علاقوں میں رکھے بتوں کو بھی توڑ دیا جائے۔ بعض علاقوں میں لوگوں نے باقاعدہ عبادت گاہیں بنا رکھی تھی، ان میں بت رکھے گئے تھے، مشرکین ان بتوں کو اور عبادت خانوں کا اتنا ہی احترام کرتے تھے جتنا کہ کعبہ کا۔دو دن میں جانور بھی قربان کرتے تھے، جس طرح کہ کعبہ میں کیے جاتے تھے، حد یہ کہ ان عبادت خانوں کا طواف بھی کیا جاتا تھا۔ غرض ہر خاندان کا الگ بت تھا۔ فتح مکہ کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس دن تک وہاں قیام فرمایا۔ اس دوران آپ قصر نمازیں پڑھتے رہے۔ اس دوران ایک عورت نے چوری کرلی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا۔ اس کی قوم کے لوگ جمع ہوکر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کردیں۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب اس عورت کی سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، فرمایا کیا تم اللہ کے مقرر کردہ سزاؤں میں سفارش کرتے ہو؟ حضرت اسامہ رضی الله عنہ نے فوراً عرض کیا اے اللہ کے رسول!میرے لیے استغفار فرمایئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت کھڑے ہوئے۔ پہلے اللہ کی حمدوثنا بیان کی پھر یہ خطبہ دیا لوگو! تم سے پہلی قوموں کو صرف اسی بات نے ہلاک کیا کہ اگر ان میں کوئی باعزت آدمی چوری کرلیتا تو اسے سزا نہیں دیتے تھے، لیکن اگر کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اسے سزا دیتے تھے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتیں تو میں ان کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ معظمہ کا والی مقرر فرمایا۔ انہیں حکم فرمایا کہ لوگوں کو نماز پڑھایا کریں۔ یہ پہلے امیر ہیں، جنہوں نے فتح مکہ کے بعد مکہ میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس چھوڑا تاکہ وہ لوگوں کو حدیث اور فقہ کی تعلیم دیں۔ عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ دھوکے بازوں اور بے نمازوں پر بہت سخت تھے وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ جس کے بارے میں میں نے سنا کہ وہ بلاوجہ جماعت کی نماز چھوڑتا ہے، میں اسے قتل کردوں گا، ان کی اس سختی کو دیکھ کر مکہ کہ لوگوں نے ان کی شکایت ان الفاظ کی اے اللہ کے رسول! آپ نے اللہ کے گھروالوں پر عتاب بن اسید جیسے دیہاتی اور اجڈ آدمی کو امیر مقرر کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ عتاب جنت کے دروازے پر آئے اور بڑے زور سے زنجیر ہلائی۔ آخر دروازہ کھلا اور وہ اس میں داخل ہوگئے۔ ان کے ذریعے اللہ نے اسلام کو سربلند فرمایا ہے، جو شخص مسلمانوں پر ظلم کرنا چاہتا ہے، عتاب اس کے خلاف مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ فتح مکہ کہ بعد غزوہ حنین پیش آیا۔ حنین طائف کے قریب ایک گاؤں ہے۔ اس غزوے کو غزوہ ہوازن اور غزوہ اوطاس بھی کہتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر مکہ فتح فرمادیا تو سبھی قبیلوں نے اطاعت قبول کرلی مگر قبیلہ بنی ہوازن اور بنی ثقیف نے اطاعت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ یہ دونوں قبیلے بہت سرکش اور مغرور تھے۔ اپنے غرور میں وہ کہنے لگے خدا کی قسم! محمد کو اب تک ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جو جنگوں سے اچھی طرح واقف ہی نہیں تھے۔ اب انہوں نے جنگ کی تیاری شروع کردی، انہوں نے مالک بن عوف نضیری کو اپنا سردار بنالیا (یہ بعد میں مسلمان ہوگئے تھے)۔ جب مالک بن عوف کو سب نے متفقہ طور پر تمام قبیلوں کا سردار بنالیا تو ہر طرف سے مختلف قبیلے بڑی تعداد میں آ آ کر لشکر میں شامل ہونے لگے۔ آخر مالک بن عوف نے اپنا یہ لشکر لے کر اوطاس کے مقام پر جاکر پڑاؤ ڈالا۔ ادھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبریں ملیں کہ بنی ہوازن نے ایک بڑا لشکر جمع کرلیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن ابی حدوداسلمی کو ان کی جاسوسی کے لیے روانہ کیا اور رخصت کرتے ہوئے ان سے فرمایا ان کے لشکر میں شامل ہوجانا اور سننا کہ وہ کیا فیصلے کررہے ہیں؟ چنانچہ وہ بنی ہوازن کے لشکر میں شامل ہوگئے، ان کی باتیں سنتے رہے، پھر واپس آکر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو ساری تفصیلات سنائیں۔ قبیلہ بنی ہوازن والے اپنے ساتھ اپنی عورتیں، بچے اور مال اور دولت بھی لے آئےتھے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی تو مسکرائے اور ارشاد فرمایا ان شاءاللہ! کل یہ سب کچھ مسلمانوں کے لیے مال غنیمت بنے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی ہوازن سے مقابلے کے لیے باره ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ ان میں دو ہزار نوجوان مکہ معظمہ اور گردونواح کے تھے۔ باقی دس ہزار وہ صحابہ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے تھے اور جن کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح کرایا تھا۔جب اسلامی لشکر دشمن کے پڑاؤ کے قریب پہنچ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی صف بندی فرمائی۔ مہاجرین اور انصار میں جھنڈے تقسیم فرمائے۔ مہاجرین کا پرچم آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپردفرمایا، ایک پرچم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اور ایک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ انصار میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرچم حباب بن منزر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا ایک پرچم اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہوئے تو دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ خود (لوہے کا ہیلمٹ) بھی پہن رکھا تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کو لے کر آگے بڑھے۔ مشرکوں کے لشکر کی تعداد بیس ہزار تھی۔اور انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑوں اور دروں میں چھپا رکھا تھا۔ جونہی اسلامی لشکر وادی میں داخل ہوا، مشرکین نے اچانک ان جگہوں سے مسلمانوں پر حملہ کردیا اور زبردست تیراندازی شروع کردی۔ یہ لوگ تھے بھی بہت ماہر تیرانداز ان کا نشانہ بہت پختہ تھا۔ اس اچانک اور زبردست حملے سے مسلمان گھبرا گئے، ان کے پاؤں اکھڑ گئے، مشرکین کے ہزاروں تیر ایک ساتھ آرہے تھے، بہت سے مسلمان منہ پھیر کر بھاگے لیکن اللہ کے رسول اپنی جگہ جمے رہے، ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔ مسلمانوں کے لشکر میں اس روز دراصل مکہ کے کچھ مشرک بھی چلے آئے، یہ مال غنیمت کے لالچ میں آئے تھے، جب زبردست تیراندازی ہوئی تو یہ ایک دوسرے کو کہنے لگے بھئی موقع ہے میدان سے بھاگ نکلنے کا، اس طرح مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ یک دم بھاگ کھڑے ہوئے۔انہیں بھاگتے دیکھ کر بعض ایسے مسلمان جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا یہ سمجھے کہ ان کے ساتھی مسلمان بھاگ رہے ہیں۔ ان پر گھبراہٹ طاری ہوگئی وہ بھی بھاگنے لگے، اس طرح ایک دوسرے کو بھاگتا دیکھ سب پریشان ہوگئے لہٰذا باقیوں کے بھی پاؤں اکھڑ گئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس صرف چند صحابہ رہ گئے، ان میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر،حضرت علی، حضرت عباس، ان کے بیٹے حضرت فضل، ربیعہ بن حارث اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ شامل تھے، ان کے علاوہ نوے کے قریب اور صحابہ کرام تھے، گویا آپ کے آس پاس صرف سو کے قریب صحابہ رہ گئے۔ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم اس وقت فرمارہے تھے میں اللہ کا رسول ہوں! میں محمد بن عبداللہ ہوں! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا عباس! لوگوں کو پکارو!اور کہو! اے گروہ انصار! اے بیعت رضوان والوں! اے مہاجرین۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بلند آواز میں پکارے، مسلمانوں کو بلایا، جو مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع تھے، انہوں نے کافروں پر زبردست حملہ کردیا، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھائی اور کافروں کی طرف پھینک دی، ساتھ میں فرمایا یہ چہرے بگڑ جائے۔ اس وقت تک حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور چند دوسرے صحابہ کی آواز سن کر بھاگتے ہوئے مسلمان بھی واپس پلٹ چکے تھے اور انہوں نے جم کر لڑنا شروع کردیا، اس طرح جنگ ایک بار پھر ہوچکی تھی، کنکریوں کی اس مٹھی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے کافروں کی آنکھوں تک پہنچادیا، یہ ان کی آنکھوں میں کیا گری کہ وہ بری طرح بدحواس ہوگئے، وہ بری طرح بھاگ نکلے۔ اس جنگ کے شروع ہونے سے پہلے لشکر کی تعداد دیکھ کر ایک صحابی نے یہ کہا تھا اے اللہ کے رسول! آج ہماری تعداد اس قدر ہے کہ دشمن سے شکست نہیں کھاسکتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناگوار گزری تھی، یہ الفاظ بہت گراں محسوس ہوئے تھے کیونکہ ان میں فخر اور غرور کی بو تھی، اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی یہ جملہ ناپسندیدہ تھا، شاید اسی لیے شروع میں مسلمانوں نے شکست ہوئی تھی لیکن پھر اللہ نے کرم فرمایا اور مسلمانوں کے قدم جم گئے، پھر جب مشرکوں کو شکست ہوئی تو وہ بری طرح بھاگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا جو مشرک ہاتھ لگے، اسے قتل کردیا جائے۔