سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 100
عنوان: فتح مکہ کے بعد
چابیاں آگئیں تو دروازہ کھولا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کعبہ میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ کعبہ میں پہنچ کر وہاں بنی ہوئی تصاویر مٹادیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم، کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہی تصاویر مٹائی جاچکی تھیں، لیکن ان تصاویر میں ایک تصویر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو نہیں مٹایا تھا۔ اس پر نظر پڑی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا عمر! کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ کعبہ میں کوئی تصویر باقی نہ چھوڑنا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا اللہ تعالٰی ان لوگوں کو ہلاک کرے جو ایسی چیزوں کی تصاویر بناتے ہیں جنہیں وہ پیدا نہیں کرسکتے، اللہ تعالٰی انہیں ہلاک کرے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے، نہ نصرانی بلکہ وہ پکے سچّے مسلمان تھے۔ اس کے بعد اس تصویر کو بھی مٹادیا گیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے وہاں دو ستونوں کے درمیان میں دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ جب آپ اور آپ کے چند ساتھی کعبہ کے اندر داخل ہوئے تھے، اس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پہرہ دینے کے لیے دروازے پر کھڑے ہوگئے، وہ مزید لوگوں کو اندر داخل ہونے سے روکتے رہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم باہر تشریف لائے اور مقام ابراہیم پر پہنچے۔ مقام ابراہیم اس وقت خانہ کعبہ سے ملا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہاں دو رکعتیں ادا کیں، اس کے بعد آبِ زمزم منگا کر پیا اور وضو فرمایا-صحابہ کرام اس وقت لپک لپک کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے وضو کا پانی لے کر اپنے چہروں پر ملنے لگے۔ مطلب یہ کہ وہ آپ کے وضو کے پانی کو نیچے نہیں گرنے دے رہے تھے۔ مشرکینِ مکہ نے جب یہ حالت دیکھی تو پکار اٹھے ہم نے آج تک ایسا منظر دیکھا نہ سنا نہ یہ سنا کہ کوئی بادشاہ اس درجے کو پہنچا ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم جب حرم میں آکر بیٹھ گئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ارد گرد جمع ہوگئے۔ ایسے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھ کر گئے اور اپنے والد ابوقحافہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں لے آئے۔ ابوقحافہ کی بینائی جاتی رہی تھی۔ ادھر جونہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہ حضرت ابوقحافہ پر پڑی تو فرمایا اے ابوبکر! تم نے والدِ محترم کو گھر پر ہی کیوں نہ رہنے دیا،میں خود ان کے پاس چلا جاتا۔ اس پر ابوبکر نے عرض کیا اللہ کے رسول! یہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ خود چل کر آپ کے پاس آئیں۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ابوقحافہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے بٹھادیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا دستِ مبارک ان کے سینے پر پھیرا اور فرمایا مسلمان ہوکر عزت اور سلامتی کا راستہ اختیار کرو۔ وہ اسی وقت مسلمان ہوگئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ابوبکر! تمہیں مبارک ہو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق اور صداقت کے ساتھ ظاہر فرمایا، میرے والد ابوقحافہ کے اسلام کے مقابلے میں آپ کے چچا ابوطالب ایمان لے آتے تو یہ میرے لیے زیادہ خوشی کی بات ہوتی۔ اس وقت حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کے بال بڑھاپے کی وجہ سے بالکل سفید ہوچکے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا ان بالوں کو مہندی سے رنگ لو لیکن سیاہ خضاب نہ لگاؤ۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بالوں کی سفیدی کا احساس ہوا تھا۔ جب زیادہ عمر ہونے پر بال سفید ہونے لگے تو انھوں نے اللہ تعالٰی سے عرض کیا کہ اے باری تعالٰی!یہ کیسی بدصورتی ہے جس سے میرا روپ بدنما ہوگیا ہے۔ اس پر اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا یہ چہرے کا وقار ہے، اسلام کا نور ہے۔ میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم! جس نے یہ گواہی دی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میری خدائی میں کوئی شریک نہیں اور اس کے بال بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہوگئے تو قیامت کے دن مجھے اس بات سے حیا آئے گی کہ اس کے لیے میزانِ عدل قائم کروں یا اس کا نامہ اعمال سامنے لاؤں یا اسے عذاب دوں۔ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی اے پروردگار!پھر تو اس سفیدی کو میرے لیے اور زیادہ کردے۔ چنانچہ اس کے بعد ان کا سر برف کی طرح سفید ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بڑھاپے کی سفیدی اور خود بڑھاپا اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت ہے اور مومن کے لیے عمر کی یہ منزل بھی شکر کا مقام ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھرانے کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ ان کا سارا کا سارا گھرانہ ہی مسلمان ہوا۔ کوئی ایک فرد بھی نہ رہا جو مسلمان نہ ہوا ہو۔ عکرمہ بن ابی جہل ان گیارہ افراد میں سے ایک تھے جن کے قتل کا حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے دیا تھا، اس حکم کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے اور اس کے باپ ابوجہل نے مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادتیاں کی تھیں، یہ حکم سنتے ہی عکرمہ یمن کی طرف بھاگ نکلے۔ اس وقت تک ان کی بیوی حضرت اُمِّ حکیم بنت حارث مسلمان ہوچکی تھیں۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے حضرت عکرمہ کے لیے امان طلب کرلی اور ان کے تعاقب میں گئیں۔ حضرت عکرمہ بحری جہاز میں سوار ہوچکے تھے تاکہ کسی دوسرے ملک چلے جائیں۔ یہ بحری جہاز سے انہیں واپس لے آئیں اور ان سے کہا میں تمہاری طرف سے اس شخصیت کے پاس سے آئی ہوں جو سب سے زیادہ رشتہ داریوں کا خیال کرنے والے اور سب سے بہترین انسان ہیں۔ تم اپنی جان ہلاکت میں مت ڈالو، کیونکہ میں تمہارے لیے امان حاصل کرچکی ہوں۔ اس طرح حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام لے آئے-حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بہت بہترین مسلمان ثابت ہوئے۔ وہ بہت زبردست جنگجو بھی تھے،خوب جہاد کیا، بڑے صحابہ میں آپ کا شمار ہوا۔ جنگِ یرموک میں رومیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ اس طرح باقی لوگوں کو بھی امان مل گئی-ان میں ہندہ بنت حارث بھی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے قتل کا بھی حکم دیا تھا۔ یہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کے قتل کا حکم آپ نے اس بنا پر دیا تھا کہ غزوہ احد میں انھوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا مثلہ کیا تھا، یعنی ان کے ناک کان وغیرہ کاٹے تھے لیکن انھیں بھی معافی مل گئی اور یہ بھی مسلمان ہوگئیں۔ صفوان بن امیہ کے بھی قتل کا حکم ہوا تھا، انھیں بھی معافی مل گئی اور یہ بھی مسلمان ہوگئے۔ کعب بن زہیر کو بھی معافی مل گئی، یہ اپنے اشعار میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو برا بھلا کہتے تھے، یہ بھی مسلمان ہوگئے۔ اسی طرح وحشی نے غزوہ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے بھی قتل کا فرمایا تھا، لیکن یہ بھی مسلمان ہوگئے۔ پھر اس روز یعنی فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ و سلم صفا پہاڑی پر جا بیٹھے اور لوگ گروہ در گروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرتے رہے۔ تمام چھوٹے بڑے مرد حاضر ہوئے، عورتیں بھی آئیں۔ سب اپنے اسلام کا اعلان کرتے رہے۔ ایک اور صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے رعب سے کانپنے لگے اور دہشت زدہ ہوگئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی حالت دیکھ کر فرمایا ڈرو نہیں!میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ میں تو قریش کی ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو معمولی کھانا کھایا کرتی تھی۔ اس وقت جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان میں حضرت امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہی اسلام کی محبت میرے دل میں گھر کرچکی تھی۔ میں نے اس بات کا ذکر اپنی والدہ سے کیا تو انہوں نے کہا خبردار! اپنے والد کی خلاف ورزی نہ کرنا۔ اس کے باوجود میں نے اسلام قبول کرلیا مگر اس کو چھپائے رہا، پھر کسی طرح میرے والد ابوسفیان کو پتا چل گیا انھوں نے ناراضی کے انداز میں مجھ سے کہا تمہارا بھائی تم سے کہیں بہتر ہے کیونکہ وہ میرے دین پر قائم ہے۔ پھر فتح مکہ کے موقع پر میں نے اپنے دین کو ظاہر کردیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے خوش آمدید کہا پھر میں کاتبِ وحی بن گیا یعنی قرآن کی نازل ہونے والی آیات حضور صلی اللہ علیہ و سلم مجھ سے لکھوایا کرتے تھے۔ اسی روز حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہندہ رضی اللہ عنہا بھی مسلمان ہوئیں۔ ان کے علاوہ بے شمار عورتیں اس روز اسلام لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت ہوئیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں سے مصافحہ نہیں فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی بھی کسی عورت سے مصافحہ نہیں فرمایا۔ مطلب یہ کہ عورتوں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم زبانی بیعت لیا کرتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا میرے پروردگار نے مجھ سے اسی فتح اور نصرت کا وعدہ فرمایا تھا۔ خانہ کعبہ کی چابی عثمان بن طلحہ کے پاس تھی۔ ان سے منگواکر خانہ کعبہ کو کھولا گیا تھا۔ پھر دروازے پر تالا لگادیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے چابی پھر عثمان بن طلحہ کو دےدی، اس وقت تک وہ اسلام نہیں لائے تھے مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ سلوک دیکھ کر وہ بھی مسلمان ہوگئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے بنی طلحہ! یہ چابی ہمیشہ کے لیے تمہارے خاندان کو دی گئی اور نسل در نسل یہ تمہارے ہی خاندان میں رہے گی۔ اس موقع پر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ہجرت سے پہلے ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ کعبہ میں داخل ہونا چاہتے تھے،لیکن عثمان بن طلحہ بہت بگڑے تھے اور چابی دینے سے صاف انکار کردیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو برا بھلا بھی کہا تھا۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا عثمان! عنقریب! ایک دن تم دیکھو گے کہ یہ کنجی میرے ہاتھ میں ہوگی اور میں جسے چاہوں گا، یہ چابی اسے دوں گا۔ اس پر عثمان بن طلحہ نے کہا تھا کیا اس دن قریش ہلاک و برباد ہوچکے ہوں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب میں ارشاد فرمایا تھا نہیں بلکہ اس دن آباد اور سربلند ہوجائیں گے۔ حضرت عثمان بن طلحہ کو یہ تمام باتیں یاد آگئیں جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ چابی ان کے حوالے کی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا عثمان! میں نے تم سے کہا تھا نا کہ ایک دن تم دیکھو گے، یہ چابی میرے ہاتھ میں ہوگی اور میں جسے چاہوں گا یہ چابی اسے دوں گا۔ یہ سن کر حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔