سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 94
عنوان: پہلا عمرہ
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک انتہائی تنگ اور خشک علاقے میں ہوں… لیکن پھر اچانک وہاں سے نکل کر ایک نہایت سرسبز شاداب اور بہت بڑے علاقے میں پہنچ گیا ہوں۔ اس کے بعد جب ہم نے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہونے کا فیصلہ کیا تو مجھے صفوان ملے۔ میں نے ان سے کہا صفوان! تم دیکھ رہے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم عرب و عجم پر چھاتے جارہے ہیں، اس لیے کیوں نہ ہم بھی ان کے پاس پہنچ کر ان کی اطاعت قبول کرلیں، کیونکہ حقیقت میں ان کی سربلندی خود ہماری ہی سربلندی ہوگی۔ اس پر صفوان نے کہا میرے علاوہ اگر ساری دنیا بھی ان کی اطاعت قبول کرلے، میں پھر بھی نہیں کروں گا۔ اس کا جواب سن کر میں نے سوچا، اس کا باپ اور بھائی جنگِ بدر میں مارے گئے ہیں، لہٰذا اس سے امید رکھنا فضول ہے، چنانچہ اس سے مایوس ہوکر میں ابوجہل کے بیٹے عکرمہ کے پاس گیا اور اس سے بھی وہی بات کہی جو صفوان سے کہی تھی، مگر اس نے بھی وہی جواب دیا… میں نے کہا اچھا خیر… لیکن تم میری بات کو راز میں رکھنا۔ جواب میں عکرمہ نے کہا ٹھیک ہے، میں کسی سے ذکر نہیں کروں گا۔ اس کے بعد میں عثمان بن طلحہ سے ملا، یہ میرا دوست تھا، اس کے بھی باپ اور بھائی وغیرہ غزوہ بدر میں مارے جاچکے تھے، لیکن میں نے اس سے دل کی بات کہہ دی، اس نے فوراً میری بات مان لی، ہم نے مدینہ جانے کا وقت، دن اور جگہ طے کرلی… ہم دونوں مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے، ایک مقام پر ہمیں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ملے، ہمیں دیکھ کر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا، ہم نے بھی انہیں مرحبا کیا، اس کے بعد عمرو نے پوچھا آپ لوگ کہاں جارہے ہیں؟ ہم نے صاف کہہ دیا اسلام قبول کرنے جارہے ہیں۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فوراً بولے میں بھی تو اسی لیے جارہا ہوں۔ اس پر تینوں خوش ہوئے… اور مدینہ منورہ کی طرف چلے، آخر حرّہ کے مقام پر پہنچ کر ہم اپنی سواریوں سے اترے، ادھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو ہماری آمد کی اطلاع ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ سے ارشاد فرمایا مکہ نے اپنے جگرپارے تمہارے سامنے لا ڈالے ہیں۔ اس کے بعد ہم اپنے بہترین لباس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چلے، اسی وقت میرے بھائی ولید ہم تک پہنچ گئے اور بولے جلدی کرو، اللہ کے رسول تمہاری آمد پر بہت خوش ہیں اور تم لوگوں کا انتظار فرمارہے ہیں۔ چنانچہ اب ہم تیزی سے آگے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے پہنچ گئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے گرم جوشی سے سلام کا جواب دیا، اس کے بعد میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے ہیں، جس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی… میں جانتا تھا کہ تم عقلمند ہو، اسی لیے میری آرزو تھی اور مجھے امید تھی کہ تم خیر کی طرف ضرور جھکو گے۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! اللہ تعالٰی سے دعا فرمائیں کہ وہ میری ان غلطیوں کو معاف فرمادیں جو میں نے آپ کے مقابلے پر آکر کی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرمایا اسلام قبول کرنا سابقہ تمام غلطیوں اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اسی طرح عمرو بن عاص اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہما آگے آئے اور انہوں نے بھی اسلام قبول کیا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے دراصل اس سے پہلے شاہِ حبشہ نجاشی کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تھا، اس طرح ایک تابعی کے ہاتھ پر ایک صحابی نے اسلام قبول کیا، کیونکہ نجاشی صحابی نہیں ہیں، انھوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کو نہیں دیکھا تھا، لیکن تابعی وہ اس لیے ہیں کہ انھوں نے صحابہ کرام کو دیکھا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ہمیشہ گُھڑ سوار دستے کا امیر بنائے رکھا۔ یہ تھی تفصیل ان تین حضرات کے ایمان لانے کی… حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی بہترین جنگی صلاحیتوں کے مالک تھے… وہ خود فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! ہمارے مسلمان ہونے کے بعد اللہ کے رسول نے جنگی معاملات میں میرے اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھا، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران بھی ہمارا یہی درجہ رہا۔ صلح حدیبیہ میں طے پایا تھا کہ مسلمان اس سال تو عمرہ کیے بغیر لوٹ جائیں گے، البتہ انہیں آئندہ سال عمرہ کرنے کی اجازت ہوگی، اس معاہدے کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم عمرۂ قضا کی نیت کرکے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ دوہزار صحابہ تھے، روانہ ہوتے وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان فرمایا تھا کہ جو لوگ صلح حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے، ان سب کا ساتھ چلنا ضروری ہے، چنانچہ وہ سبھی صحابہ ساتھ روانہ ہوئے، ان کے علاوہ کچھ وہ تھے جو حدیبیہ میں شریک نہیں تھے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ قربانی کے جانور بھی تھے، اس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے احتیاط کے طور پر ہتھیار بھی ساتھ لیے تھے… مسلمانوں میں سے ایک سو آدمی گُھڑسوار تھے، ان کے امیر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجدِ نبوی کے دروازے پر احرام باندھ لیا تھا، قریش کے کچھ لوگوں نے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہتھیار دیکھے تو وہ بوکھلا کر مکہ معظمہ پہنچے اور قریش کو بتایا کہ مسلمان ہتھیار لے آئے ہیں… اور ان کے ساتھ تو گُھڑ سوار دستہ بھی ہے، قریش یہ سن کر بدحواس ہوئے اور کہنے لگے ہم نے تو کوئی ایسی حرکت نہیں کی جو اس معاہدے کے خلاف ہو، بلکہ ہم معاہدے کے پابند ہیں، جب تک صلح نامے کی مدت باقی ہے، ہم اس کی پابندی کریں گے، پھر آخر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کس بنیاد پر ہم سے جنگ کرنے آئیں ہیں؟”… آخر قریش نے مکرز بن حفص کو قریش کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ کیا، انہوں نے آپ سے ملاقات کی اور کہا:”آپ ہتھیار بند ہوکر حرم میں داخل ہونا چاہتے ہیں، جب کہ معاہدہ یہ نہیں ہوا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:”ہم ہتھیار لے کر حرم میں داخل نہیں ہوں گے، معاہدے کے تحت صرف میانوں میں رکھی ہوئی تلواریں ہمارے ساتھ ہوں گی… باقی ہتھیار ہم باہر چھوڑ کر جائیں گے۔ مکرز نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بات سن کر اطمینان کا اظہار کیا اور قریش کو جاکر اطمینان دلایا، جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کے مکہ معظمہ میں داخلے کا وقت آیا تو قریش کے بڑے بڑے سردار مکہ معظمہ سے نکل کر کہیں چلے گئے، ان لوگوں کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم سے بغض تھا، دشمنی تھی، وہ مکہ معظمہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کو برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس لیے نکل گئے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکہ معظمہ میں داخل ہوئے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار تھے، صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دائیں بائیں تلواریں لیے چل رہے تھے، اور سب “لبيك اللهم لبيك” پڑھ رہے تھے۔ روانہ ہونے سے پہلے باقی ہتھیار آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جگہ محفوظ کرادیے تھے، وہ جگہ حرم سے قریب ہی تھی، مسلمانوں کی ایک جماعت کو ان ہتھیاروں کی نگرانی کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ مکّہ کے مشرکوں نے مسلمانوں کو بہت مدت بعد دیکھا تھا… وہ انہیں کمزور کمزور سے لگے تو آپس میں کہنے لگے یثرب کے بخار نے مہاجرین کو کمزور کردیا ہے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچی تو حکم فرمایا اللہ تعالٰی اس شخص پر رحمت فرمائے گا جو ان مشرکوں کو اپنی جسمانی طاقت دکھائے گا۔ اس بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کریں یعنی اکڑ اکڑ کر اور سینہ تان کر چلیں اور مشرکین کو دکھادیں کہ ہم پوری طرح طاقتور ہیں۔ اس کے بعد جب مسلمانوں نے رمل شروع کیا تو مکہ کے دوسرے مشرکوں نے ان مشرکوں سے جنھوں نے مسلمانوں کو کمزور بتایا تھا، کہا تم تو کہہ رہے تھے کہ انہیں یثرب کے بخار نے کمزور کردیا ہے، حالانکہ یہ تو پوری طرح طاقتور نظر آرہے ہیں۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی چادر اس طرح اپنے اوپر ڈال رکھی تھی کہ دایاں کندھا کھلا تھا اور اس کا پلّو بائیں کندھے پر تھا۔ چنانچہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی ایسے ہی کرلیا، اس طرح چادر لینے کو اضطباع کہتے ہیں… اور اکڑ کر چلنے کو رمل کہتے ہیں… یہ اسلام میں پہلا اضطباع اور پہلا رمل تھا… اب حج کرنے والوں ہوں یا عمرہ کرنے والے ، انہیں یہ دونوں کام کرنے ہوتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم معاہدے کے مطابق تین دن تک مکہ معظمہ میں ٹھہرے، تین دن پورے ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ معظمہ سے باہر نکل آئے، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت میمونہ بنتِ حارث رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا، ان کا پہلا نام برّہ تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے نام تبدیل کرکے میمونہ رکھا۔