سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 92
عنوان: خیبر کے قلعے
اس کے بعد حضور صلی اللہ علییہ وسلم نے حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو پرچم عنایت فرمایا اور لوگوں کو جنگ کے لئے جوش دلایا۔ ناعم نامی قلعہ میں سے جولوگ یہودیوں میں سے جان بچاکر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے، وہ وہاں سے صعب نامی قلعہ میں پہنچ گئے، یہ فطات کے قلعوں میں سے ایک تھا، اس قلعہ کا محاصرہ دو دن تک جاری رہا۔ قلعہ میں یہودیوں کے پانچ سو جانباز تھے، محاصرے کے بعد اس میں سے ایک جنگ جو نکل کر میدان میں آیا اور مقابلے کے لئے للکارا، اس جنگ جو کا نام یوشع تھا، اس کے مقابلے کے لئے حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ گئے اور اسے پہلے ہی وار میں قتل کرنے میں کامیاب رہے، اس کے بعد دوسرا یہودی نکلا، اس نے بھی مقابلے کے لئے للکارا، اس کا نام دیال تھا، اس کے مقابلے کے لئے حضرت عمارو بن عقبہ غفاری رضی اللہ عنہ نکلے، انہوں نے ایک دم دیال کی کھوپڑی پر وار کردیا اور بولے لے سنبھال، میں ایک غفاری ہوں۔ دیال پہلے ہی وار میں ڈھیر ہوگیا۔ اب یہودیوں نے زبردست حملہ کیا، اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا اور وہ ادھر ادھر بکھرتے چلے گئے، یہودی آگے بڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گھوڑے سے اتر کر نیچے کھڑے تھے، اس حالت میں حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ پوری طرح ثابت قدم رہے اور جم کر لڑتے رہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو پکارا اور جوش دلایا تو وہ پلٹ کر یہودیوں پر حملہ آور ہوئے، انہوں نے یہودیوں پر ایک بھرپور حملہ کیا، حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے دشمن پر زبردست یلغار کی، یہودی اس حملے کی تاب نہ لاسکے اور تیزی سے پسپا ہوئے، یہاں تک کہ اپنی حویلیوں تک پہنچ گئے، اندر گھستے ہی انہوں نے دروازے بند کرلیے، اب مسلمانوں نے یلغار کی اور یہودیوں کو قتل کرنے لگے، ساتھ میں انہیں گرفتار کرنے لگے، آخر قلعہ فتح ہوگیا۔ اس قلعہ میں مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر گیہوں، کھجوریں، گھی، شہد، شکر، زیتون کا تیل اور چربی ہاتھ آئی، یہاں سے مسلمانوں کو بہت سا جنگی سامان بھی ہاتھ لگا۔ اس میں منجنیق، زرہیں، تلواریں وغیرہ شامل تھیں۔ اس قلعہ سے جو یہودی جان بچاکر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے، انہوں نے قلہ نامی قلعہ میں پناہ لی، یہ قلعہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر تھا، مسلمانوں نے اس کا بھی محاصرہ کرلیا، ابھی محاصرے کو تین دن گزرے تھے کہ ایک یہودی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا اے ابوالقاسم! آپ اگر میری جان بخشی کردیں تو میں آپ کو ایسی اہم خبریں دوں گا کہ آپ اطمینان سے قلعہ فتح کرلیں گے۔ ورنہ آپ اگر اس قلعہ کا ایک مہینے تک محاصرہ کئے رہے تو بھی اس کو فتح نہیں کرسکیں گے، کیوں کہ اس قلعہ میں زمین دوز نہریں ہیں، وہ لوگ رات کو نکل کر نہروں میں سے ضرورت کا پانی لے لیتے ہیں، اب اگر آپ ان کا پانی بند کردیں تو یہ لوگ آسانی سے شکست مان لیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امان دے دی، اس کے بعد اس کے ساتھ ان نہروں پر تشریف لے گئے اور یہودیوں کا پانی بند کردیا، اب یہودی قلعہ سے باہر نکلنے پر مجبور ہوگئے خون ریز جنگ ہوئی اور آخر کار یہودی شکست کھاگئے، اس طرح مسلمانوں نے فطات کے تینوں حصے فتح کرلئے۔ اب وہ شق کے قلعوں کی طرف بڑھے، اس میں بھی کئی قلعہ تھے۔مسلمان سب سے پہلے قلعہ ابئ کی طرف بڑھے، یہاں زبردست جنگ ہوئی، سب سے پہلے یہودیوں میں سے ایک جنگ جو باہر نکلا، اس کا نام غزوال تھا، اس نے مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی، اس کی للکار پر حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ آگے آئے، انہوں نے نزدیک پہنچتے ہی غزوال پر حملہ کردیا، پہلے ہی وار میں اس کا دایاں ہاتھ کلائی پر سے کٹ گیا… وہ زخمی ہوکر واپس بھاگا، حضرت حباب رضی اللہ عنہ نے اس کا پیچھا کیا اور بھاگتے بھاگتے دوسرا وار کیا۔ یہ وار غزوال کی ایڑی پر لگا، زخم کھا کر وہ گرا، اسی وقت حباب رضی اللہ عنہ نے اس کا کام تمام کردیا۔ اس وقت ایک اور یہودی مقابلے کے لیے نکلا، اس کے مقابلے میں ایک اور مسلمان آئے، لیکن وہ اس کے ہاتھوں شہید ہوگئے، یہودی اپنی جگہ کھڑا رہا، اس مرتبہ اس کے مقابلے کے لیے مسلمانوں میں سے حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ نکلے اور نزدیک پہنچتے ہی اس پر حملہ آور ہوئے، پہلے وار میں انہوں نے اس کا پاؤں کاٹ ڈالا اور دوسرے وار میں اس کا کام تمام کردیا۔ پھر کسی یہودی نے میدان میں آکر مسلمانوں کو نہ للکارا، اس پر مسلمانوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور قلعہ پر حملہ کردیا۔ مسلمان قلعہ کے اندر گھس گئے۔ان میں سب سے آگے ابودجانہ رضی اللہ عنہ تھے، اس قلعہ سے بھی مسلمانوں کو بہت مال ہاتھ لگا، مویشی اور کھانے پینے کا سامان بھی ملا۔قلعہ میں جو لوگ تھے، وہ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے شق کے دوسرے قلعہ میں پناہ لی، اس کا نام قلعہ بری تھا۔شق کے دو ہی قلعہ تھے۔ ایک ابئی اور دوسرا بری قلعہ بری میں یہودیوں نے بہت زبردست حفاظتی انتظام کر رکھے تھے، ان لوگوں نے مسلمانوں پر بہت سخت تیراندازی کی، پتھر بھی برسائے، بعض تیر تو اس جگہ آکر گرے جہاں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھائی اور اس کو قلعہ کی طرف پھینک دیا۔ ان کے پھینکنے سے یہ قلعہ لرز اٹھا، یہودی بھاگ نکلے، یہاں سے بھی مسلمانوں کو مال غنیمت ہاتھ آیا، یہودیوں کے برتن بھی ہاتھ لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ان کو دھوکر استعمال میں لاؤ۔ اس طرح فطات اور شق کے پانچ قلعوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔ ان جگہوں سے بھاگنے والے یہودیوں نے کتیبہ کے قلعوں میں پناہ لی، کتیبہ کے بھی تین قلعہ تھے۔ ان میں سب سے پہلے قلعہ کا نام غوص تھا۔ دوسرے کا وطیع اور تیسرے کا نام سلالم تھا، ان تمام تر قلعوں میں غوص کا قلعہ سب سے بڑا اور مضبوط تھا۔ مسلمان بیس دن تک اس کا محاصرہ کیے رہے۔ آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے اس قلعہ کو بھی فتح کرادیا، اسی قلعہ سے حضرت صفیہ بنت حئ بن اخطب گرفتار ہوئیں۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز عطا فرمایا کہ مسلمان ہوئیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں شامل ہوئیں۔ قموص کی فتح کے بعد مسلمانوں نے قلعہ وطیع اور قلعہ سلالم کا محاصرہ کرلیا۔ دونوں کا محاصرہ چودہ دن تک رہا مگر دونوں میں سے کوئی شخص باہر نہ نکلا۔ چودہ دن بعد انہوں نے صلح کی درخواست کی، اس شرط پر صلح ہوگئی کہ یہ یہودی اپنے بیوی بچوں کو لے کر وہاں سے نکل جائیں گے اور بدن کے کپڑوں کے علاوہ کوئی چیز نہیں لے جائیں گے، اس طرح یہ دونوں قلعہ بغیر خون ریزی کے فتح ہوئے، مسلمانوں کے ہاتھ ايک بڑا خزانہ بھی لگا۔ خیبر ہی میں آپ کی خدمت میں اشعری اور دوسی قبیلے کے لوگ حاضر ہوئے، اشعری لوگوں میں حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی تھے اور دوسیوں میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ان حضرات کو بھی مال غنیمت دیا گیا۔ خیبر کی فتح کے موقع پر حبشہ سے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے۔ انہوں نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی، یہ اس موقع پر وہاں لوٹے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے، کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔ ان کی پیشانی پر بوسہ دیا، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا، مجھے خیبر کی فتح کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر کے آنے پر زیادہ خوشی ہے۔ اس وقت حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کے رہنے والے بہت سے لوگ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۃ یاسین پڑھ کر سنائی، اس کو سن کر یہ لوگ رو پڑے اور ایمان لے آئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زبردست خاطر تواضع فرمائی اور فرمایا ان لوگوں نے میرے صحابہ کی بہت عزت افزائی کی تھی۔ مطلب یہ تھا کہ جب مکہ کے مشرکوں نے مسلمانوں پر ظلم ڈھائے تھے تو بہت سے مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے تھے، اس وقت وہاں ان کی بہت عزت افزائی ہوئی تھی۔ حبشہ سے جو لوگ آئے تھے، ان میں حضرت اُمّ حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں شامل تھیں، حبشہ میں رہتے ہوئے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا۔ مکہ سے دوسری ہجرت کے موقع پر انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ اس وقت ان کا پہلا خاوند عبداللہ بن حجش ساتھ تھا۔ لیکن حبشہ پہنچ کر وہ مرتد ہوگیا تھا۔ اس نے عیسائی مذہب قبول کرلیا تھا اور اسی حالت میں مرگیا تھا۔ جب کہ اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا اسلام پر قائم رہی تھیں۔ 7 ہجری محرم کے مہینے میں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن امیہ خمری رضی اللہ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا تھا تاکہ وہ اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کردیں، چنانچہ یہ نکاح نجاشی نے پڑھایا تھا۔ اس نکاح سے پہلے حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ایک خواب دیکھا تھا، اس میں انہیں کوئی پکارنے والا اُمّ المومنین کہہ کر پکار رہا تھا، اس سے اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا گھبرا سی گئیں، جب انہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نکاح کا پیغام ملا تو تب انہیں اس کی تعبیر معلوم ہوئی۔ ان کا مہر بھی شاه نجاشی کی طرف سے ادا کیا گیا… شادی کا کھانا بھی انہیں کی طرف سے کھلایا گیا، نجاشی کی جس کنیز کے ذریعے یہ سارے معاملات طے ہوئے۔وہ کنیز بھی اللہ کے رسول پر ایمان لے آئی تھیں اور انہوں نے اپنے ایمان لانے کا پیغام حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا، آپ کو جب اس کنیز کا پیغام ملا تو آپ مسکرائے اور فرمایا اس پر سلامتی ہو۔