سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 89
عنوان: صلح حدیبیہ
حدیبیہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی طرف قاصد بھیجنے کا ارادہ فرمایا تاکہ بات چیت ہوسکے… کفار پر واضح ہوجائے کہ مسلمان لڑائی کے ارادے سے نہیں آئے… بلکہ عمرہ کرنے کی نیت سے آئے ہیں… اس غرض کےلیے دو یا تین قاصد بھیجے گئے، لیکن بات نہ بن سکی… آخر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ مکہ میں ان مسلمان مردوں اور عورتوں کے پاس جائیں جو وہاں پھنسے ہوئے ہیں… انہیں فتح کی خوش خبری سنائیں اور یہ خبر دیں کہہ بہت جلد اللہ تعالیٰ مکہ میں اپنے دین کو سربلند فرمائیں گے، یہاں تک کہ وہاں کسی کو اپنا ایمان چھپانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔مکہ میں داخل ہونے سے پہلے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ابان بن سعید کی پناہ لی جو کہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، بعد میں مسلمان ہوئے۔ ابان بن سعید نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پناہ منظور کرلی۔ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنے آگے کرلیا… خود ان کے پیچھے چلے تاکہ لوگ جان لیں، یہ ان کی پناہ میں ہیں…اس طرح عثمان رضی اللہ عنہ قریش مکہ تک پہنچے۔انہیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔ جواب میں قریش نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہماری مرضی کے خلاف کبھی مکہ میں داخل نہیں ہوسکتے… ہاں تم چاہو تو بیت اللہ کا طواف کرلو۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر طواف کرلوں۔ قریش نے بات چیت کے سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو تین دن تک روکے رکھا، ایسے میں کسی نے یہ خبر اڑادی کہ قریش نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا ہے… اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غمزدہ ہوکر ارشاد فرمایا اب ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک دشمن سے جنگ نہیں کرلیں گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے مسلمانوں سے بیعت لینے کا حکم فرمایا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پکار پکار کر بیعت کا اعلان کیا، اس اعلان پر سب لوگ بیعت کے لیے جمع ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے، صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں پر بیعت کی۔ کسی حالت میں آپ کا ساتھ چھوڑ کر نہیں بھاگیں گے۔ فتح حاصل کریں گے یا شہید ہوجائیں گے۔ مطلب یہ کہ یہ بیعت موت پر بیعت تھی۔ اس بیعت کی خاص بات یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے خود بیعت کی… اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا اے اللہ! یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے، کیونکہ وہ تیرے اور تیرے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں، اس لیے ان کی طرف سے میں خود بیعت کرتا ہوں۔ پھر چودہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے باری باری بیعت کی۔ بعد میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اطلاع مل گئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید نہیں کیا گیا… وہ زندہ سلامت ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اعلان فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مغفرت کردی، جو غزوہ بدر اور حدیبیہ میں شریک تھے۔ اس بیعت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ میں کیا اے پیغمبر! جب مومن آپ سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے، تو اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور جو سچائی اور خلوص ان کے دلوں میں تھا، اس نے وہ معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی۔ ادھر قریش کو جب موت کی اس بیعت کا پتہ چلا تو وہ خوفزدہ ہوگئے، ان کے عقل مند لوگوں نے مشورہ دیا کہ صلح کرلینا مناسب ہوگا… اور صلح اس شرط پر کرلی جائے کہ مسلمان اس سال تو واپس لوٹ جائیں، آئندہ سال آجائیں اور تین دن تک مکہ میں ٹھہرکر عمرہ کرلیں۔ جب یہ مشورہ طے پاگیا تو انہوں نے بات چیت کے لیے سہیل بن عمرو کو بھیجا، اس کے ساتھ دو آدمی اور تھے۔ سہیل آپ کے سامنے پہنچ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، بات چیت شروع ہوئی، سہیل نے بہت لمبی بات کی، آخر صلح کی بات چیت طے ہوگئی۔ دونوں فریق اس بات پر راضی تھے کہ خوں ریزی نہیں ہونی چاہئے، بلکہ صلح کرلی جائے۔ صلح کی بعض شرائط بظاہر بہت سخت تھیں۔ اس معاہدے میں یہ شرائط لکھی گئیں۔
1- دس سال تک آپس میں کوئی جنگ نہیں کی جائے گی۔
2- جو مسلمان اپنے ولی اور سرپرست کی اجازت کے بغیر مکہ سے بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے گا، اللہ کے رسول اسے واپس بھیجنے کے پابند ہوں گے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ (یہ شرط ظاہر میں مسلمانوں کے لیے بہت سخت تھی، لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ یہ شرط بھی دراصل مسلمانوں کے حق میں تھی۔کیونکہ اس طرح بیت اللہ مسلمانوں سے آباد رہا اور دین کا کام جاری رہا)
3- کوئی شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی رہا ہو اور وہ بھاگ کر قریش کے پاس آجائے تو قریش اسے واپس نہیں کریں گے۔
4- کوئی شخص، یا کوئی خاندان یا کوئی قبیلہ اگر مسلمانوں کا حلیف (معاہدہ برادر) بننا چاہے تو بن سکتا ہے اور جو شخص یا خاندان یا قبیلہ قریش کا حلیف بننا چاہے تو وہ ان کا حلیف بن سکتا ہیں۔
5- مسلمانوں کو اس سال عمرہ کیے بغیر واپس جانا ہوگا، البتہ آئندہ سال تین دن کے لیے قریش مکہ کو خالی کردیں گے، لہذا مسلمان یہاں غیر مسلح حالت میں آکر ٹھہر سکتے ہیں اور عمرہ کرسکتے ہیں۔
یہ شرائط بظاہر قریش کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ اس لیے صحابہ کرام کو ناگوار بھی گزریں، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ناگواری محسوس کی، وہ سیدھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے ابوبکر! کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے فرمایا بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر فاروق اعظم بولے کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا بالکل! ہم مسلمان ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا وہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ بولے ہاں! بے شک وہ مشرک ہیں۔ اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تب پھر ہم ایسی شرائط کیوں قبول کریں… جن سے مسلمان نیچے ہوتے ہیں۔ اس وقت حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے بہت ہی خوب جواب دیا، فرمایا اے عمر! وہ اللہ کے رسول ہیں… ان کے احکامات اور فیصلوں پر سر جھکاؤ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہیں۔ یہ سنتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوراً بولے میں گواہی دیتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسی قسم کے سوالات کیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باتوں کے جواب میں جو الفاظ فرمائے وہ بالکل وہی تھے جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرما چکے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں میں کسی حالت میں بھی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا، وہی میرا مددگار ہے۔ اسی وقت حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بول اٹھے اے عمر! جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں، کیا تم اس کو سن نہیں رہے ہو؟ ہم شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی بولے میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا اے عمر! میں تو ان شرائط پر راضی ہوں اور تم انکار کررہے ہو۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے، میں نے اس وقت جو باتیں کی تھیں، اگرچہ وہ اس تمنا میں تھیں، کہ اس معاملے میں خیر اور بہتری ظاہر ہو، مگر اپنی اس وقت کی گفتگو کے خوف سے میں اس کے بعد ہمیشہ روزے رکھتا رہا، صدقات دیتا رہا، نمازیں پڑھتا رہا اور غلام آزاد کرتا رہا۔ پھر اس صلح کی تحریر لکھی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ معاہدہ لکھیں، اس پر سہیل بن عمرو نے کہا یہ معاہدہ علی لکھیں گے یا پھر عثمان؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو معاہدہ لکھنے کا حکم فرمایا اور فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اس پر سہیل بن عمرو نے پھر اعتراض کیا میں رحمٰن اور رحیم کو نہیں مانتا… آپ یوں لکھوائیں “بِسْمِکَ اَللّٰہُم (یعنی شروع کرتا ہوں، اے اللہ تیرے نام سے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسی طرح لکھ دو۔ انہوں نے لکھ دیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو! محمد رسول اللہ نے ان شرائط پر سہیل بن عمرو سے صلح کی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ لکھنے لگے، لیکن سہیل بن عمرو نے پھر اعتراض کیا اگر میں یہ شہادت دے چکا ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، تو پھر نہ تو آپ کو بیت اللہ سے روکا جاتا نہ آپ سے جنگ ہوتی ، اس لیے یوں لکھیے محمد بن عبداللہ۔