سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 82
عنوان: منافقین کی سازش
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کوچ کا اعلان ہوتے ہی میں قضائے حاجت کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور لشکر سے دور جنگل کی طرف چلی گئی، جب میں فارغ ہوگئی تو واپس لشکر گاہ کی طرف روانہ ہوئی، میرے گلے میں ایک ہار تھا، وہ ہار کہیں ٹوٹ کر گر گیا، مجھے اس کے گرنے کا پتا نہ چلا، جب اس کا خیال آیا تو ہار کی تلاش میں واپس جنگل کی طرف گئی، اس طرح اس ہار کی تلاش میں مجھے دیر ہوگئی، لشکر میں جو لوگ میرا ہودج اٹھا کر اونٹ پر رکھا کرتے تھے، انہوں نے خیال کیا کہ میں ہودج میں موجود ہوں، انہوں نے ہودج کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا، اور انہیں احساس نہ ہوا کہ میں اس میں نہیں ہوں، کیونکہ میں دبلی پتلی اور کم وزن کی تھی، میں کھاتی بھی بہت کم تھی، جسم پر موٹاپے کے آثار نہیں تھے، اس طرح لشکر روانہ ہوگیا (ہودج محمل کو کہتے ہیں، یہ ایک ڈولی نما چیز ہوتی ہے جو اونٹ پر نشست کے طور پر بلند کی جاتی ہے تاکہ عورت پردے میں رہے)۔ ادھر کافی تلاش کے بعد میرا ہار مل گیا اور میں لشکر کی طرف روانہ ہوئی، وہاں پہنچی تو لشکر جاچکا تھا، دور دور تک سناٹا تھا، میں جس جگہ ٹھہری ہوئی تھی، وہیں بیٹھ گئی، میں نے سوچا، جب انہیں میری گم شدگی کا پتا چلے گا تو سیدھے یہیں آئیں گے، بیٹھے بیٹھے مجھے نیند نے آلیا۔ صفوان سلمی رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ لشکر کے پیچھے رہا کرتے تھے تاکہ کسی کا کوئی سامان رہ جائے یا گر جائے تو اٹھا لیا کریں، اس روز بھی لشکر سے پیچھے تھے، چنانچہ جب یہ اس جگہ پہنچے جہاں قافلہ تھا، تو انہوں نے مجھے دور سے دیکھا اور خیال کیا کہ کوئی آدمی سویا ہوا ہے، نزدیک آئے تو انہوں نے مجھے پہچان لیا، مجھے دیکھتے ہی انہوں نے “انا لله وانا اليه راجعون” پڑھا، ان کی آواز سن کر میں جاگ گئی، انہیں دیکھتے ہی میں نے اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں صفوان سلمی حیرت زدہ تھے کہ یہ کیا ہوا، لیکن منہ سے انہوں نے ایک لفظ نہ کہا، نہ میں نے ان سے کوئی بات کی، انہوں نے اپنی اونٹنی کو میرے قریب بٹھادیا، اور صرف اتنا کہا ماں! سوار ہوجایئے! میں نے اونٹ پر سوار ہوتے وقت کہا “حَسْبِيَ اللّهُ وَ نِعْمَ الوَكِيْل.” (اللہ تعالی کی ذات ہی مجھے کافی ہے اور وہی میرا بہترین سہارا ہے) پھر میرے سوار ہونے کے بعد انھوں نے اونٹ کو اٹھایا اور اس کی مہار پکڑ کر آگے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ لشکر میں پہنچ گئے، لشکر اس وقت نخلِ ظہیرہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا اور وہ دوپہر کا وقت تھا، جب ہم لشکر میں پہنچے تو منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی کو بہتان لگانے کا موقع مل گیا، اس نے کہا یہ عورت کون ہے جسے صفوان ساتھ لایا ہے؟ اس کے ساتھی منافق بول اٹھے یہ عائشہ ہے، صفوان کے ساتھ آئی ہیں۔ اب یہ لوگ لگے باتیں کرنے، پھر جب لشکر مدینہ منورہ پہنچ گیا تو منافق عبداللہ بن اُبئی دشمنی کی بنا پر اور اسلام سے اپنی نفرت کی بنیاد پر اس بات کو شہرت دینے لگا۔ امام بخاری لکھتے ہیں جب منافق اس واقعہ کا ذکر کرتے تو عبداللہ بن اُبئی بڑھ چڑھ کر ان کی تائید کرتا تاکہ اس واقعہ کو زیادہ سے زیادہ شہرت ملے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مدینہ منورہ آکر میں بیمار ہوگئی، میں ایک ماہ تک بیمار رہی، دوسری طرف منافق اس بات کو پھیلاتے رہے، بڑھا چڑھا کر بیان کرتے رہے، اس طرح یہ باتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم تک اور میرے ماں باپ تک پہنچیں، جب کہ مجھے کچھ بھی نہیں معلوم ہوسکا تھا، البتہ میں محسوس کرتی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مجھ سے پہلے کی طرح محبت سے پیش نہیں آتے تھے جیسا کہ پہلے بیماری کے دنوں میں میرا خیال رکھتے تھے (دراصل حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھرانے پر منافقین کی الزام تراشی سے سخت غمزدہ تھے اس فکر ورنج کی وجہ سے گھر والوں سے اچھی طرح گھل مل بات کرنے کا موقع بھی نہ ملتا تھا)۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس طرزِ عمل سے میں پریشان رہنے لگی، میری بیماری کم ہوئی تو اُمّ مسطح رضی اللہ عنہا نے مجھے وہ باتیں بتائی جو لوگوں میں پھیل رہی تھیں، ام مسطح رضی اللہ عنہا نے خود اپنے بیٹے مسطح کو بھی برا بھلا کہا کہ وہ بھی اس بارے میں یہی کچھ کہتا پھرتا ہے، یہ سنتے ہی میرا مرض لوٹ آیا، مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، بخار پھر ہوگیا، گھر آئی تو بری طرح بےچین تھی، تمام رات روتے گزری، آنسو رکتے نہیں تھے، نیند آنکھوں سے دور تھی، صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا کیا حال ہے؟ تب میں نے عرض کیا، کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں اپنے ماں باپ کے گھر ہو آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے اجازت دے دی، دراصل میں چاہتی تھی، اس خبر کے بارے میں والدین سے پوچھوں۔ جب میں اپنے ماں باپ کے گھر پہنچی تو میری والدہ (ام رومان رضی اللہ عنہا) مکان کے نچلے حصے میں تھیں، جب کہ والد اوپر والے حصے میں قرآن کریم کی تلاوت کررہے تھے، والدہ نے مجھے دیکھا تو پوچھا تم کیسے آئیں؟ میں نے ان سے پورا قصہ بیان کردیا اور اپنی والدہ سے کہا اللہ آپ کو معاف فرمائے، لوگ میرے بارے میں کیا کیا کہہ رہے ہیں، لیکن آپ نے مجھے کچھ بتایا ہی نہیں۔ اس پر میری والدہ نے کہا بیٹی! تم فکر نہ کرو! اپنے آپ کو سنبھالو، دنیا کا دستور یہی ہے کہ جب کوئی خوب صورت عورت اپنے خاوند کے دل میں گھر کر لیتی ہے تو اس سے جلنے والے اس کی عیب جوئی شروع کردیتے ہیں۔ یہ سن کر میں نے کہا اللہ کی پناہ! لوگ ایسی باتیں کررہے ہیں، کیا میرے ابا جان کو بھی ان باتوں کا علم ہے۔ انھوں نے جواب دیا ہاں! انھیں بھی معلوم ہے۔ اب تو مارے رنج کے میرا برا حال ہوگیا، میں رونے لگی، میرے رونے کی آواز والد کے کانوں تک پہنچی تو وہ فوراً نیچے اتر آئے، انھوں نے میری والدہ سے پوچھا اسے کیا ہوا؟ تو انھوں نے کہا اس کے بارے میں لوگ جو افواہیں پھیلا رہے ہیں، وہ اس کے کانوں تک پہنچ چکی ہیں۔ اب تو والدہ بھی رونے لگیں، والد بھی رونے لگے، اس رات بھی میں روتی رہی، پوری رات سو نہ سکی، میری والدہ بھی رو رہی تھیں، والد بھی رو رہے تھے، ہمارے ساتھ گھر کے دوسرے لوگ بھی رو رہے تھے، ایسے میں ایک انصاری عورت ملنے کے لیے آگئی، میں نے اسے اندر بلالیا، ہمیں روتے دیکھ کر وہ بھی رونے لگی، یہاں تک کہ ہمارے گھر میں جو بلی تھی، وہ بھی رو رہی تھی، ایسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سلام کیا اور بیٹھ گئے، جب سے یہ باتیں شروع ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے پاس بیٹھنا چھوڑ دیا تھا، لیکن اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم میرے پاس بیٹھ گئے، ان باتوں کو ایک ماہ ہوچکا تھا، اس دوران آپ پر وحی بھی نازل نہیں ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیٹھنے کے بعد کلمہ شہادت پڑھا اور فرمایا عائشہ! مجھ تک تمہارے بارے میں ایسی باتیں پہنچی ہیں، اگر تم ان تہمتوں سے بری ہو اور پاک ہو تو اللہ تعالی خود تمہاری براءت فرمادیں گے اور اگرتم اس گناہ میں مبتلا ہوئی ہو تو اللہ تعالٰی سے استغفار کرو اور توبہ کرو، کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرلیتا ہے اور اللہ سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کی توبہ قبول کرتے ہیں۔ اس پر میں نے اپنے والد اور والدہ سے عرض کیا جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے، اس کا جواب دیجیے۔ جواب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول سے کیا کہوں۔ تب میں نے عرض کیا آپ سب نے یہ باتیں سنی ہیں، اب اگر میں یہ کہتی ہوں کہ میں ان الزامات سے بری ہوں اور میرا اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں تو کیا اس پر یقین کرلیں گے، لہٰذا میں صبر کروں گی، میں اپنے رنج اور غم کی شکایت اپنے اللہ سے کرتی ہوں۔ اس کے بعد میں اٹھی اور بستر پر لیٹ گئی، اس وقت میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اللہ تعالٰی میرے معاملے میں آیات نازل فرمائے گا، جن کی تلاوت کی جایا کرے گی، جن کو مسجدوں میں پڑھا جایا کرے گا، البتہ میرا خیال تھا کہ اللہ تعالٰی میرے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کوئی خواب دکھادیں گے اور مجھے اس الزام سے بری فرمادیں گے، ابھی ہم لوگ اسی حالت میں تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی کے آثار محسوس ہوئے۔