سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 80
عنوان: غزوہ حمراءالاسد اور کفّار کی پسپائی
یہ اعلان قریش کو ڈرانے کے لیے کیا گیا تھا تاکہ انھیں معلوم ہوجائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ان کے تعاقب میں تشریف لارہے ہیں اور ساتھ میں انھیں یہ بھی معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں میں ابھی بھی طاقت موجود ہے، اُحد کی شکست کی وجہ سے وہ کمزور نہیں ہوگئے۔ اس طرح تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوئے سب لوگ زخمی تھے لیکن کسی نے بھی اپنے زخموں کی پرواہ نہ کی، جبکہ حالت یہ تھی کہ بنو سلمہ کے چالیس آدمی زخمی ہوئے تھے۔ خود اللہ کے رسول بھی زخمی تھے اور اسی حالت میں صحابہ کو لےکر روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے زخموں کی صورت یہ تھی کہ چہرہ مبارک زرہ کے گڑجانے کی وجہ سے زخمی تھا۔ چہرہ مبارک پر پتھر کا ایک زخم بھی تھا۔ نچلا ہونٹ اندر کی طرف سے زخمی تھا۔ ایک روایت میں اوپر کا ہونٹ زخمی ہونے کا ذکر بھی موجود ہے۔ ان زخموں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دایاں کندھا بھی زخمی تھا، اس کندھے پر ابن قیمیہ نے اس وقت وار کیا تھا جب آپ گڑھے میں گرے تھے، گڑھے میں گِر جانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دونوں گھٹنے بھی زخمی تھے۔ ایسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ و نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا طلحہ تمہارے ہتھیار کہاں ہے؟ انھوں نے فرمایا یہیں ہیں اللہ کے رسول! یہ کہہ کر وہ گئے اور ہتھیار پہن کر آگئے، حالانکہ ان کے سینے پر صرف نو زخم تھے جبکہ پورے جسم پر 70 زخم تھے، اللہ اکبر۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا لشکر آگے بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ حمراءالاسد کے مقام پر ٹھہرا۔ یہ جگہ مدینہ منوّرہ سے تقریباً 12 کلومیٹر دور ہے، اس مقام پر مسلمانوں نے تین دِن تک قیام کیا، ہر رات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے پڑاؤ میں جگہ جگہ آگ روشن کرتے رہے تاکہ دشمن کو دور سے روشنیاں نظر آتی رہیں، اس تدبیر سے دشمن نے خیال کیا کہ مسلمان بڑی تعداد کے ساتھ آئے ہیں۔ چنانچہ ان پر رعب پڑ گیا۔ اس مہم کو غزوہ حمراءالاسد کہا جاتا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس غزوے میں مسلمانوں کے پاس کھانے کے لیے صرف کھجوریں تھیں یا صرف اونٹ ذبح کیے جاتے تھے۔ کفّار نے جب یہ خبر سنیں کہ مسلمان تو ایک بار پھر تیاری کے ساتھ میدان میں موجود ہیں تو وہ مکّہ کی طرف لوٹ گئے، جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی مدینہ کوچ فرمایا۔
حمراءالاسد کے مقام پر مسلمانوں نے ابوعزہ شاعر کو گرفتار کیا، یہ شخص مسلمانوں کے خلاف اشعار کہا کرتا تھا، غزوہ بدر کے موقع پر بھی گرفتار ہوا تھا، گرفتار ہوکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے لایا گیا تھا تو گِڑ گڑانے لگا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس شرط پر چھوڑ دیا تھا کہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف اشعار نہیں کہے گا لیکن یہ اپنے وعدے سے پھر گیا تھا اور مسلمانوں کے خلاف اشعار کہتا رہا تھا۔ اس موقع پر یہ پھر گرفتار ہوا، اب پھر اس نے رونا گِڑ گِڑانا شروع کیا، لگا معافی مانگنے، اس نے کہا اے محمّد مجھے چھوڑ دیجئے! مجھ پر احسان کیجیے! میری بیٹیوں کی خاطر رہا کردیجیے میں آپ کے سامنے عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا نہیں اب تو مسلمانوں کو دکھ نہیں پہنچا سکے گا۔ اس کے بعد اس کو قتل کردیا گیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس موقع پر یہ بھی ارشاد فرمایا مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان کی وضاحت علماء نے یہ بھی لکھی ہے کہ مومن کو چاہیے کوئی اسے دھوکہ دے تو اس سے ہوشیار رہے اور پھر اس کے دھوکے میں نہ آئے۔ اسی سال یعنی 3 ہجری میں شراب حرام ہوئی۔ 4 ہجری میں غزوہ بنو نضیر پیش آیا۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم بنو نضیر کے محلے میں تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ایک ضروری معاملہ میں بنو نضیر سے بات طئے کرنا تھی، یہ یہودیوں کا قبیلہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے معاہدہ کر رکھا تھا کہ مسلمانوں کو کسی کا خون بہا دینا پڑا تو بنو نضیر بھی اس سلسلہ میں مدد کریں گے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جب ان کے محلے میں تشریف لے گئے تو صحابہ کرام کی ایک مختصر جماعت بھی ساتھ تھی، ان کی تعداد دس سے بھی کم تھی۔ ان میں حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے وہاں پہنچ کر ان سے بات شروع کی تو وہ بولے ہاں ہاں! کیوں نہیں، ہم ابھی رقم ادا کر دیتے ہیں آپ پہلے کھانا کھالیں۔ اس طرح وہ بظاہر بہت خوش ہوکر ملے لیکن دراصل وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قتل کی سازش پہلے سے تیار کر چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو انھوں نے ایک دیوار کے ساتھ بٹھایا۔ پھر ان میں سے ایک یہودی اس مکان کی چھت پر چڑھ گیا۔ وہ چھت سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایک بڑا سا پتھر گرانا چاہتا تھا۔ ابھی وہ ایسا کرنے ہی والا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھیج دیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سازش سے باخبر کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے وہاں سے اٹھے، انداز ایسا تھا جیسے کوئی بات یاد آگئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو وہیں بیٹھا چھوڑ کر مدینہ منورہ لوٹ آئے۔ جب حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی واپسی میں دیر ہوئی صحابہ کرام حیران ہوئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل پڑے، انہیں مدینہ منورہ سے آتا ہوا ایک شخص دکھائی دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ میں دیکھ کر آرہا ہے۔ اب صحابہ رضی اللہ عنہم فوراً مدینہ منورہ پہنچے، تب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سازش کے بارے میں بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بنو نظیر کے پاس بھیجا اور انہیں یہ پیغام دیا میرے شہر (یعنی مدینہ) سے نکل جاؤ، تم لوگ اب اس شہر میں نہیں رہ سکتے۔ اس لیے کہ تم نے جو منصوبہ بنایا تھا، وہ غداری تھی۔ تمام یہودیوں کو یہ بھی بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف انہوں نے کیا سازش کی تھی، اس لیے کہ سب کو اس بارے میں معلوم نہیں تھا۔ سازش کی تفصیل سن کر یہودی خاموش رہ گئے۔ کوئی منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکال سکا۔ پھر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تم دس دن کے اندر اندر یہاں سے نکل جاؤ، اس مدت کے بعد جو شخص بھی یہاں پایا گیا، اس کی گردن مار دی جائے گی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سن کر یہودیوں نے وہاں سے کوچ کی تیاریاں شروع کردیں۔ اونٹوں وغیرہ کا انتظام کرنے لگے، لیکن ایسے میں منافقوں کی طرف سے انہیں پیغام ملا کہ اپنا گھر بار اور وطن چھوڑ کر ہرگز کہیں نہ جاؤ، ہم لوگ تمہارے ساتھ ہیں، اگر جنگ کی نوبت آئی تو ہم تمہاری مدد کو آئیں گے اور اگر تم لوگوں کو یہاں سے نکلنا ہی پڑا تو ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے۔ یہودیوں کو روکنے میں سب سے زیادہ کوشش منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی نے کی، اس نے یہودیوں کو پیغام بھیجا اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر مت جاؤ، اپنی حویلیوں میں جمے رہو، میرے ساتھ دو ہزار جانباز ہیں، ان میں میری قوم کے لوگ بھی ہیں اور عرب کے دوسرے قبائل بھی ہیں، وقت آن پڑا تو یہ لوگ تمہاری حویلیوں میں پہنچ جائیں گے اور آخر دم تک لڑیں گے، تم پر آنچ نہیں آنے دیں گے، تم سے پہلے جانیں دیں گے، ہمارے ساتھ قبیلہ بنی قریظہ کے لوگ بھی ہیں اور قبیلہ غطفان کے لوگ بھی، یہ سب تمہاری طرف مدد کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ بنی نظیر کو یہ پیغامات ملے تو انہوں نے جلاوطن ہونے کا خیال ترک کردیا، چنانچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا ہم اپنا وطن چھوڑ کر ہرگز نہیں جائیں گے، آپ کا جو جی چاہے، کرلیں۔ یہ پیغام سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ تکبیر بلند کیا، آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے فرمایا یہودی جنگ پر آمادہ ہیں لہٰذا جہاد کی تیاری کرو۔ مسلمانوں نے جہاد کی تیاری شروع کردی، اس وقت یہودیوں کو جنگ پر ابھارنے والا شخص حیی بن اخطب تھا، اسی شخص کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں جو بعد میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور ام المومنین کا اعزاز پایا۔ حیی بن اخطب بنو نضیر کا سردار تھا، بنو نظیر کے ایک دوسرے سردار سلام بن مشکم نے اسے سمجھانے اور جنگ سے باز رکھنے کی بہت کوشش کی، لیکن حیی بن اخطب منافقوں کی شہہ پر باز نہ آیا اور جنگ پر تلا رہا، اس پر سلام بن مشکم نے اس سے کہا تم نے میری بات نہیں مانی، اب تم دیکھنا، ہم اپنے وطن سے بے وطن کردیئے جائیں گے، ہماری عزت خاک میں مل جائے گی، ہمارے گھر والے قیدی بنا لیے جائیں گے اور ہمارے نوجوان اس جنگ میں مارے جائیں گے۔ حیی بن اخطب پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔