سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 62
عنوان: میدان بدرمیں
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کچے کنویں پر ایک حوض بنوایا، جہاں اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پانی بھروادیا اور ڈول ڈلوادیئے۔ اس طرح حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے مشورے پر عمل ہوا۔ اس کے بعد سے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو ذی رائے کہا جانے لگا تھا۔ اس موقع پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیوں نہ ہم آپ کے لیے ایک عریش بنادے (عریش کھجور کی شاخوں اور پتوں کا ایک سائبان ہوتا ہے) آپ اس میں تشریف رکھیں۔ اس کے پاس آپ کی سواریاں تیار رہیں اور ہم دشمن سے جاکر مقابلہ کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مشورہ قبول فرمایا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سائبان بنایا گیا۔ یہ ایک اونچے ٹیلے پر بنایا گیا تھا۔ اس جگہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے میدان جنگ کا معائنہ فرماسکتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں قیام فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا آپ کے ساتھ یہاں کون رہے گا تاکہ مشرکوں میں سے کوئی آپ کے قریب نہ آسکے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کی قسم! یہ سن کر ہم میں سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اپنی تلوار کا سایہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر کرتے ہوئے بولے جو شخص بھی آپ کی طرف بڑھنے کی جرات کرے گا، اسے پہلے اس تلوار سے نمٹنا پڑے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ان جُرات مندانہ الفاظ کی بنیاد پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سب سے بہادر شخص قرار دیا۔ یہ بات جنگ شروع ہونے سے پہلے کی ہے۔ جب جنگ شروع ہوئی تو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس سائبان کے دروازے پر کھڑے تھے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بھی انصاری صحابہ کے ایک دستے کے ساتھ وہاں موجود تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت پر مامور تھے۔ اس طرح صبح ہوئی، پھر قریشی لشکر ریت کے ٹیلے کے پیچھے سے نمودار ہوا۔ اس سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مشرکوں کے نام لے لے کر فرمایا کہ فلاں اس جگہ قتل ہوگا، فلاں اس جگہ قتل ہوگا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کے نام لے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس جگہ قتل ہوگا، وہ بالکل وہیں قتل ہوئے، ایک انچ بھی ادھر ادھر پڑے نہیں پائے گئے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ قریش کا لشکر لوہے کا لباس پہنے ہوئے اور ہتھیاروں سے خوب لیس بڑھا چلا آرہا ہے تو اللہ رب العزت سے یوں دعا فرمائی اے اللہ! یہ قریش کے لوگ، یہ تیرے دشمن اپنے تمام بہادروں کے ساتھ بڑے غرور کے عالم میں تجھ سے جنگ کرنے (یعنی تیرے احکامات کے خلاف ورزی) اور تیرے رسول کو جھٹلانے کے لئے آئے ہیں، اے اللہ! آپ نے مجھ سے اپنی مدد اور نصرت کا وعدہ فرمایا ہے، لہذا وہ مدد بھیج دے۔ اے اللہ! تو نے مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھے ثابت قدم رہنے کا حکم فرمایا ہے، مشرکوں کے اس لشکر پر ہمیں غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! انہیں آج ہلاک فرمادے۔ ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ صلی علیہ وسلم کی دعا میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں۔ اے اللہ! اس امت کے فرعون ابوجہل کو کہیں پناہ نہ دے، ٹھکانہ نہ دے۔ غرض جب قریشی لشکر ٹھہر گیا تو انہوں نے عمیر بن وہب جہمی رضی اللہ عنہ کو جاسوسی کے لیے بھیجا۔ یہ عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ بعد میں مسلمان ہوگئے تھے اور بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ قریش نے عمیر رضی اللہ عنہ سے کہا جاکر محمد کے لشکر کی تعداد معلوم کرو اور ہمیں خبر دو۔ عمیر رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر نکلے۔ انہوں نے اسلامی لشکر کے گرد ایک چکر لگایا۔ پھر واپس قریش کے پاس آئے اور یہ خبر دی ان کی تعداد تقریباً تین سو ہے۔ ممکن ہے کچھ زیادہ ہوں، مگر اے قریش! میں نے دیکھا ہے ان لوگوں کو لوٹ کر اپنے گھروں میں جانے کی کوئی تمنا نہیں اور میں سمجھتا ہوں، ان میں سے کوئی آدمی اس وقت تک نہیں مارا جائے گا جب تک کہ کسی کو قتل نہ کردے۔گویا تمہارے بھی اتنے ہی آدمی مارے جائے گے جتنا کہ ان کے، اس کے بعد پھر زندگی کا کیا مزہ رہ جائے گا، اس لیے جنگ شروع کرنے سے پہلے اس بارے میں غور کرلو۔ ان کی بات سن کر کچھ لوگوں نے ابوجہل سے کہا جنگ کے ارادے سے بعض آجاؤ اور واپس چلو، بھلائی اسی میں ہے۔ واپس چلنے کا مشورہ دینے والوں میں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ابو جہل نے ان کی بات نہ مانی اور جنگ پر ٹل گیا اور جو لوگ واپس چلنے کی کہہ رہے تھے، انہیں بزدلی کا طعنہ دیا۔ اس طرح جنگ ٹل نہ سکی۔ ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ اسود مخزومی نے قریش کے سامنے اعلان کیا میں اللہ کے سامنے عہد کرتا ہو کہ یا تو مسلمانوں کے بنائے ہوئے حوض سے پانی پیوں گا یا اس کو توڑ دوں گا یا پھر اس کوشش میں جان دے دوں گا۔ پھر یہ اسود میدان میں نکلا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں آئے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر تلوار کا وار کیا، اس کی پنڈلی کٹ گئی، اس وقت یہ حوض کے قریب تھا، ٹانگ کٹ جانے کے بعد یہ زمین پر چت گرا، خون تیزی سے بہہ رہا تھا، اس حالت میں یہ حوض کی طرف سرکا اور حوض سے پانی پینے لگا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ فوراً اس کی طرف لپکے اور دوسرا وار کرکے اس کا کام تمام کردیا۔اس کے بعد قریش کے کچھ اور لوگ حوض کی طرف بڑھے۔ ان میں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آتے دیکھ کر فرمایا انہیں آنے دو، آج کے دن ان میں سے جو بھی حوض سے پانی پی لے گا، وہ یہیں کفر کی حالت میں قتل ہوگا۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے پانی نہیں پیا، یہ قتل ہونے سے بچ گئے اور بعد میں اسلام لائے، بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔
اب سب سے پہلے عتبہ، اس کا بھائی شیبہ اور بیٹا ولید میدان میں آگے نکلے اور للکارے۔ ہم سے مقابلے کے لیے کون آتا ہے۔ اس للکار پر مسلمانوں میں سے تین انصاری نوجوان نکلے۔ یہ تینوں بھائی تھے۔ ان کے نام معوذ، معاذ اور عوف رضی اللہ عنہم تھے۔ ان کے والد کا نام عفرا تھا۔ ان تینوں نوجوانوں کو دیکھ کر عتبہ نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہم انصاری ہیں۔ اس پر عتبہ نے کہا تم ہمارے برابر کے نہیں، ہمارے مقابلے میں مہاجرین میں سے کسی کو بھیجو، ہم اپنی قوم کے آدمیوں سے مقابلہ کرے گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس آنے کا حکم فرمایا۔ یہ تینوں اپنی صفوں میں واپس آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور انہیں شاباش دی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا اے عبیدہ بن حارث اٹھو! اے حمزہ اٹھو! اے علی اٹھو۔ یہ تینوں فوراً اپنی صفوں میں سے نکل کر ان تینوں کے سامنے پہنچ گئے۔ ان میں عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ زیادہ عمر کے تھے، بوڑھے تھے۔ ان کا مقابلہ عتبہ بن ربیعہ سے ہوا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا مقابلہ شیبہ سے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ولید سے ہوا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ کو وار کرنے کا موقع نہ دیا اور ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کردیا۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک ہی وار میں ولید کا کام تمام کردیا۔ البتہ عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور عتبہ کے درمیان تلواروں کے وار شروع ہوگئے۔