سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر  53 عنوان: حضرت اُمّ معبد کے خیمے پر 0

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 53 عنوان: حضرت اُمّ معبد کے خیمے پر

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

قسط نمبر  53

عنوان: حضرت اُمّ معبد کے خیمے پر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی آپ کے دعا فرماتے ہی حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑی کے پاؤں زمین سے نکل آئے۔ گھوڑی کے پاؤں جونہی باہر آئے، سراقہ رضی اللہ عنہ پھر اس پر سوار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! ہمیں اس سے باز رکھ۔ اس دعا کے ساتھ ہی گھوڑی پیٹ تک زمین میں دھنس گئی۔ اب انہوں نے کہا اے محمد! میں قسم کھا کر کہتا ہوں، مجھے اس مصیبت سے نجات دلادیں، میں آپ کا ہمدرد ثابت ہوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے زمین! اسے چھوڑ دے۔ یہ فرمانا تھا کہ ان کے گھوڑی زمین سے نکل آئی۔ بعض تفاسیر میں لکھا ہے کہ سراقہ رضی اللہ عنہ نے سات مرتبہ وعدہ خلافی کی، ہر بار ایسا ہی ہوا، بعض روایات میں ہے کہ ایسا تین بار ہوا، آخر حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ سکتے، چنانچہ انہوں نے کہا میں اب آپ کا پیچھا نہیں کروں گا، آپ میرے سامان میں سے کچھ لینا چاہیں تو لے لیں، سفر میں آپ کے کام آئے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ لینے سے انکار کردیا اور فرمایا تم بس اپنے آپ کو روکے رکھو اور کسی کو ہم تک نہ آنے دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ رضی اللہ سے یہ بھی فرمایا اے سراقہ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہیں کسریٰ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ سراقہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر حیران ہوئے اور بولے آپ نے کیا فرمایا، کسریٰ بادشاہ کے کنگن مجھے پہنائے جائیں گے۔ ارشاد فرمایا ہاں! ایسا ہی ہوگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حیرت انگیز پیشن گوئی تھی کیونکہ اس وقت ایسا ہونے کا قطعاً کوئی امکان دور دور تک نہیں تھا، لیکن پھر ایک وقت آیا کہ حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے۔ حضرت عمر رضی الله عنہ کے دور میں جب مسلمانوں کو فتوحات پر فتوحات ہوئیں اور ایران کے بادشاہ کسریٰ کو شکست فاش ہوئی تو اس مال غنیمت میں کسریٰ کے کنگن بھی تھے۔ یہ کنگن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کو پہنائے، اور اس وقت سراقہ رضی اللہ عنہ کو یاد آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے وقت ارشاد فرمایا تھا: اے سراقہ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا، جب تمہیں کسریٰ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ اپنے ایمان لانے کی تفصیل سراقہ رضی اللہ عنہ یوں بیان کرتے ہیں۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حنین اور طائف کے معرکوں سے فارغ ہوچکے تو میں ان سے ملنے کے لیے روانہ ہوا۔ ان سے میری ملاقات جعرانہ کے مقام پر ہوئی۔ میں انصاری سواروں کے درمیان سے لشکر کے اس حصے کی طرف روانہ ہوا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر تشریف فرما تھے۔ میں نے نزدیک پہنچ کر عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں سراقہ ہوں۔ ارشاد فرمایا قریب آجاؤ۔ میں نزدیک چلا آیا اور پھر ایمان لے آیا۔ حضرت عمر صدیق رضی اللہ عنہ نے کسریٰ کے کنگن مجھے پہناتے ہوئے فرمایا تھا  تمام تعریفیں اس ذات باری تعالی کے لیے ہیں جس نے یہ چیزیں شاہ ایران کسریٰ بن ہرمز سے چھین لیں جو یہ کہا کرتا تھا، میں انسانوں کا پروردگار ہوں۔ یہ سراقہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی ملنے کے بعد واپس پلٹے اور راستے میں جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں آتا ہوا انہیں ملا، یہ اسے یہ کہہ کر لوٹاتے رہے۔ میں اس طرف ہی سے ہوکر آرہا ہوں، ادھر مجھے کوئی نہیں ملا اور لوگ جانتے ہی ہیں مجھے راستوں کی کتنی پہچان ہے۔ غرض اس روز یہ قافلہ تمام رات چلتا رہا، یہاں تک کہ چلتے چلتے اگلے دن دوپہر کا وقت ہوگیا۔ اب دور دور تک کوئی آتا جاتا نظر نہیں آرہا تھا۔ ایسے میں سامنے ایک چٹان ابھری ہوئی نظر آئی۔ اس کا سایہ کافی دور تک پھیلا ہوا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پر پڑاﺅ ڈالنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سواری سے اترے اور اپنے ہاتھوں سے جگہ کو صاف کرنے لگے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چٹان کے سائے میں سو سکیں، جگہ صاف کرنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی پوستین وہاں بچھادی اور عرض کیا، اللہ کے رسول! یہاں سوجائے۔ میں پہرہ دوں گا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے۔ ایسے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک چرواہے کو چٹان کی طرف آتے دیکھا، شاید وہ بھی سائے میں آرام کرنا چاہتا تھا۔  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوراً اس طرف مڑے اور اس سے بولے تم کون ہوں؟ اس نے بتایا میں مکہ کا رہنے والا ایک چرواہا ہوں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بولے کیا تمہاری بکریوں میں کوئی دودھ والی بکری ہے۔ جواب میں اس نے کہا ہاں ہے۔ پھر وہ ایک بکری سامنے لایا۔ اپنے ایک برتن میں دودھ دوہا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیا۔ وہ دودھ کا برتن اٹھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جوکہ اس وقت سورہے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگانا مناسب نہ سمجھا، دودھ کا برتن لیے اس وقت تک کھڑے رہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ نہیں گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دودھ میں پانی کی دھار ڈالی تاکہ وہ ٹھنڈا ہوجائے، پھر خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا یہ دودھ پی لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا، اور پوچھا کیا روانگی کا وقت ہوگیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں! ہوگیا ہے۔ اب یہ قافلہ پھر روانہ ہوا۔ ابھی کچھ دور ہی گئے ہوں گے کہ ایک خیمہ نظر آیا۔ خیمے کے باہر ایک عورت بیٹھی تھی۔ یہ ام معبد رضی اللہ عنہا تھیں۔ جو اس وقت تک اسلام کی دعوت سے محروم تھیں۔ ان کا نام عاتکہ تھا۔ یہ ایک بہادر اور شریف خاتون تھیں۔ انہوں نے بھی آنے والوں کو دیکھ لیا۔ اس وقت ام معبد رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ چھوٹا سا قافلہ کن ہستیوں کا ہے۔ نزدیک آنے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ام معبد رضی اللہ عنہا کے پاس ایک بکری کھڑی نظر آئی۔ وہ بہت ہی کمزور اور دبلی پتلی سی بکری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام معبد رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کیا اس کے تھنوں میں دودھ ہے؟ اُمّ معبد رضی اللہ عنہا بولیں، اس کمزور اور مریل بکری کے تھنوں میں دودھ کہا سے آئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم مجھے اس کو دوہنے کی اجازت دوگی۔ اس پر اُمّ معبد رضی اللہ عنہا بولیں لیکن یہ تو ابھی ویسے بھی دودھ دینے والی نہیں ہوئی۔ آپ خود سوچیئے، یہ دودھ کس طرح دے سکتی ہے۔ میری طرف سے اجازت ہے، اگر اس سے آپ دودھ نکال سکتے ہیں تو نکال لیجئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس بکری کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمر اور تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی اے اللہ! اس بکری میں ہمارے لیے برکت عطا فرما۔ جونہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی‌، بکری کے تھن دودھ سے بھر گئےاور ان سے دودھ ٹپکنے لگا۔ یہ نظارہ دیکھ کر اُمّ معبد رضی اللہ عنہا حیرت زردہ رہ گئیں۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں