سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 48
عنوان: ہجرت کا آغاز
اگلے سال قبیلہ خزرج کے دس اور قبیلہ اوس کے دو آدمی مکہ آئے۔ ان میں سے پانچ وہ تھے جو پچھلے سال عقبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر گئے تھے۔ ان لوگوں سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے ان کے سامنے سورۃ النساء کی آیات تلاوت فرمائیں۔ بیعت کے بعد جب یہ لوگ واپس مدینہ منورہ جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو مصعب رضی اللہ عنہ بن عمیر کو بھی ان کےساتھ بھیجا، تا کہ وہ نئے مسلمانوں کو دین سکھائیں، قرآن کی تعلیم دیں۔ انہیں قاری کہا جاتا تھا۔ یہ مسلمانوں میں سب سے پہلے آدمی ہیں جنہیں قاری کہا گیا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے وہاں کے مسلمانوں کو نماز پڑھانا شروع کی۔ سب سے پہلا جمعہ بھی انہوں نے ہی پڑھایا۔ جمعہ کی نماز اگرچہ مکہ میں فرض ہو چکی تھی، لیکن وہاں مشرکین کی وجہ سے مسلمان جمعہ کی نماز ادا نہیں کر سکے۔ سب سے پہلا جمعہ پڑھنے والوں کی تعداد چالیس تھی۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں دین کی تبلیغ شروع کی تو حضرت سعد بن معاذ اور ان کے چچا زاد بھائی حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما ان کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے۔ ان کے اسلام لانے کے بعد مدینہ میں اسلام اور تیزی سے پھیلنے لگا۔ اس کے بعد حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ حج کے دنوں میں واپس مکہ پہنچے۔ مدینہ منورہ میں اسلام کی کامیابیوں کی خبر سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ مدینہ منورہ میں جو لوگ اسلا م لا چکے تھے ان میں سے جو حج کے لئے آئے تھے انہوں نے فارغ ہونے کے بعد منی میں رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ جگہ اور وقت پہلے ہی طے کر لیا گیا تھا۔ ان لوگوں کے ساتھ چونکہ مدینہ سے مشرک لوگ بھی آئے ہوئے تھے اور ان سے اس ملاقات کو پوشیدہ رکھنا تھا، اس لئے یہ ملاقات رات کے وقت ہوئی۔ یہ حضرات کل 73 مرد اور 2 عورتیں تھیں۔ ملاقات کی جگہ عقبہ کی گھاٹی تھی۔ وہاں ایک ایک دو دو کر کے جمع ہو گئے۔ اس مجمع میں 11 آدمی قبیلہ اوس کے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ ان کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم گویا اپنے چچا کے ساتھ آئے تھے تا کہ اس معاملہ کو خود دیکھیں۔ ایک روایت کے مطابق اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ساتھ آئے تھے۔ سب سے پہلے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے تقریر کی۔ انہوں نے کہا تم لوگ جو عہد و پیمان ان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے کرو، اس کو ہر حال میں پورا کرنا، اگر پورا نہ کر سکو تو بہتر ہے کہ کوئی عہد و پیمان نہ کرو۔ اس پر ان حضرات نے وفا داری نبھانے کے وعدے کیے۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا تم ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اپنی ذات کی حد تک یہ کہتا ہوں کہ میری حمایت کرو اور میری حفاظت کرو۔ اس موقع پر ایک انصاری بولے اگر ہم ایسا کریں تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کے بدلے تمہیں جنت ملے گی۔ اب وہ سب بول اٹھے یہ نفع کا سودا ہے ہم اسے ختم نہیں کریں گے۔ اب ان سب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاطت کا وعدہ کیا۔ حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے کہا ہم ہر حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاطت کریں گے۔ حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ یہ الفاظ کہہ رہے تھے کہ ابو الہیثم بن التیہان رضی اللہ عنہ بول اٹھے چاہے ہم پیسے پیسے کو محتاج ہو جائیں اور چاہے ہمیں قتل کر دیا جائے، ہم ہر قیمت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے۔ اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ بولے ذرا آہستہ آواز میں بات کرو، کہیں مشرک آواز نہ سن لیں۔ اس موقع پر ابو الہیثم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے اور یہودیوں کے درمیان کچھ معاہدے ہیں اب ہم ان کو توڑ رہے ہیں، ایسا تو نہیں ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چھوڑ کر مکہ آجائیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا، نہیں! بلکہ میرا خون اور تمہارا خون ایک ہے، جس سے تم جنگ کرو گے اس سے میں جنگ کروں گا، جسے تم پناہ دو گے اسے میں پناہ دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بارہ آدمی الگ کیے یہ نو خزرج میں سے اور تین اوس میں سے تھے۔ آپ نے ان سے فرمایا تم میرے جاں نثار ہو، میرے نقیب ہو۔ ان بارہ حضرات میں یہ شامل تھے۔ سعد بن عبادہ، اسعد بن رواحہ٬ براء بن معرور، ابوالہیثم ابن التیہان، اسید بن حضیر، عبداللہ بن عمرو بن حزام، عبادہ بن صامت اور رافع بن مالک رضی اللہ عنہم۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے قبیلے کا نمائندہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جاں نثاروں سے فرمایا تم لوگ اپنی اپنی قوم کی طرف سے اس طرح میرے کفیل ہو جیسے عیسی علیہ السلام کے بارہ حواری ان کے کفیل تھے اور میں اپنی قوم یعنی مہاجروں کی طرف سے کفیل اور ذمے دار ہوں۔ اس بیعت کو بیعتِ عقبہ ثانیہ کہا جاتا ہے۔ یہ بہت اہم تھی۔ اس بیعت کے ہونے پر شیطان نے بہت واویلا کیا، چیخا اور چلایا کیوں کہ یہ اسلام کی ترقی کی بنیاد تھی۔ جب یہ مسلمان مدینہ پہنچے تو انہوں نے کھل کر اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا۔ اعلانیہ نمازیں پڑھنے لگے۔ مدینہ منورہ میں حالات سازگار دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا کیونکہ قریش کو جب یہ پتا چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگجو قوم کے ساتھ ناطہ جوڑ لیا ہے اور ان کے ہاں ٹھکانہ بنالیا ہے تو انہوں نے مسلمانوں کا مکہ میں جینا اور مشکل کردیا، تکالیف دینے کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ اب تک ایسا نہیں کیا تھا۔ روز بروز صحابہ کی پریشانیاں اور مصیبتیں بڑھتی چلی گئیں۔ کچھ صحابہ کو دین سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے طریقے آزمائے گئے، طرح طرح کے عذاب دیے گئے۔ آخر صحابہ نے اپنی مصیبتوں کی فریاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی اور مکہ سے ہجرت کر جانے کی اجازت مانگی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چند دن خاموش رہے۔ آخر ایک دن فرمایا مجھے تمہاری ہجرت گاہ کی خبر دی گئی ہے، وہ یثرب ہے (یعنی مدینہ) اور اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ اس اجازت کے بعد صحابہ کرام ایک ایک دو دو کرکے چھپ چھپا کر جانے لگے۔ مدینہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ فرمایا، انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ مثلاً حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ فرمایا، اسی طرح حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے درمیان، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد ابن ابی وقاص کے درمیان، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ کے درمیان، حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اور حضرت علی رضی اللہ کو خود اپنا بھائی بنایا۔ مسلمانوں میں سے جن صحابہ نے سب سے پہلے مدینہ کی طرف ہجرت کی، وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت ابوسلمہ عبداللہ بن عبد اللہ مخزومی رضی اللہ عنہ ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے تنہا جانے کا ارادہ فرمایا۔ جب یہ حبشہ سے واپس مکہ آئے تھے تو انہیں سخت تکالیف پہنچائی گئی تھیں۔ آخر انہوں نے واپس حبشہ جانے کا ارادہ کرلیا تھا مگر پھر انہیں مدینہ کے لوگوں کے مسلمان ہونے کا پتا چلا تو یہ رک گئے اور ہجرت کی اجازت ملنے پر مدینہ روانہ ہوئے۔ مکہ سے روانہ ہوتے وقت یہ اپنے اونٹ پر سوار ہوئے اور اپنی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور اپنے دودھ پیتے بچے کو بھی ساتھ سوار کرلیا۔ جب ان کے سسرال والوں کو پتا چلا تو وہ انہیں روکنے کے لیے دوڑے اور راستے میں جا پکڑا۔ ان کا راستہ روک کر کھڑے ہوگئے۔