سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 12
عنوان: نسطورا کی ملاقات
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عہد یعنی حلف الفضول کو بہت پسند فرمایا۔ آپ فرماتے تھے میں اس عہد نامے میں شریک تھا۔ یہ عہد نامہ بنو جدعان کے مکان میں ہوا تھا۔ اگر کوئی مجھ سے کہے کہ اس عہد نامے سے دست بردار ہوجائیں اور اس کے بدلے میں سو اونٹ لے لیں تو میں نہیں لوں گا۔ اس عہد نامے کے نام پر اگر کوئی آج بھی مجھے آواز دے تو میں کہوں گا۔ میں حاضر ہوں۔ آپ کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ اگر آج بھی کوئی مظلوم یہ کہہ کر آواز دے، اے حلف الفضول والو! تو میں اس کی فریاد کو ضرور پہنچوں گا۔ کیوں کہ اسلام تو آیا ہی اس لئے ہے کہ سچائی کا نام بلند کرے اور مظلوم کی مدد اور حمایت کرے۔ یہ حلف الفضول بعد میں بھی جاری رہا۔ مکہ میں آپ کی امانت اور دیانت کی وجہ سے آپ کو امین کہہ کر پکارا جانے لگا تھا۔ آپ کا یہ لقب بہت مشہور ہوگیا تھا۔ لوگ آپ کو امین کے علاوہ اور کسی نام سے نہیں پکارتے تھے۔ انہی دنوں ابوطالب نے آپ سے کہا اے بھتیجے! میں ایک بہت غریب آدمی ہوں اور قحط سالی کی وجہ سے اور زیادہ سخت حالات کا سامنا ہے، کافی عرصہ سے خشک سالی کا دور چل رہا ہے، کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ اپنا کام چلاسکیں اور نہ ہماری کوئی تجارت ہے، ایک تجارتی قافلہ شام جانے والا ہے، اس میں قریش کے لوگ شامل ہیں۔ قریش کی ایک خاتون خدیجہ بنت خویلد شام کی طرف اپنا تجارتی سامان بھیجا کرتی ہیں، جو شخص ان کا مال لے کر جاتا ہے وہ اپنی اجرت ان سے طے کرلیتا ہے، اب اگر تم ان کے پاس جاؤ اور ان کا مال لے جانے کی پیش کش کرو تو وہ ضرور اپنا مال تمہیں دے دیں گی، کیوں کہ تمہاری امانت داری کی شہرت ان تک پہنچ چکی ہے، اگرچہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تم شام کے سفر پر جاؤ۔ یہودی تمہارے دشمن ہیں، لیکن حالات کی وجہ سے میں مجبور ہوں، اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں۔ یہاں تک کہہ کر ابوطالب خاموش ہوگئے، تب آپ نے فرمایا ممکن ہے، وہ خاتون خود میرے پاس کسی کو بھیجیں۔ یہ بات آپ نے اس لئے کہی تھی کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ایک بااعتماد آدمی کی ضرورت تھی اور اس وقت مکہ میں آپ سے زیادہ شریف، پاک باز، امانت دار، سمجھ دار اور قابل اعتماد آدمی کوئی نہیں تھا۔ ابوطالب اس وقت بہت پریشان تھے۔ آپ کی یہ بات سن کر انہوں نے کہا اگر تم نہ گئے تو مجھے ڈر ہے، وہ کسی اور سے معاملہ طے کرلیں گی۔ یہ کہہ کر ابوطالب اٹھ گئے۔ ادھر آپ کو یقین سا تھا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا خود ان کی طرف کسی کو بھیجیں گی اور ہوا بھی یہی۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا، پھر آپ سے کہا میں نے آپ کی سچائی، امانت داری اور نیک اخلاق کے بارے میں سنا ہے اور اسی وجہ سے میں نے آپ کو بلوایا ہے، جو معاوضہ آپ کی قوم کے دوسرے آدمیوں کو دیتی ہوں، آپ کو ان سے دو گنا دوں گی۔ آپ نے ان کی بات منظور فرما لی۔ پھر آپ اپنے چچا ابو طالب سے ملے۔ انہیں یہ بات بتائی۔ ابو طالب سن کر بولے۔ یہ روزی تمہارے لئے اللہ نے پیدا فرمائی ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامان تجارت لے کر شام کی طرف روانہ ہوئے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلام میسرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ روانگی کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے میسرہ سے کہا کسی معاملے میں ان کی نافرمانی نہ کرنا، جو یہ کہیں وہی کرنا، ان کی رائے سے اختلاف نہ کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب چچاؤں نے قافلے والوں سے آپ کی خبر گیری رکھنے کی درخواست کی۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ذمے داری کے لحاظ سے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا تجارتی سفر تھا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کام میں بالکل نئے تھے۔ ادھر آپ روانہ ہوئے ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شروع ہو گیا۔ ایک بدلی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سایہ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام پہنچے تو بصری شہر کے بازار میں ایک درخت کے سائے میں اترے۔ یہ درخت ایک عیسائی راہب نسطورا کی خانقاہ کے سامنے تھا۔ اس راہب نے میسرہ کو دیکھا تو خانقاہ سے نکل آیا۔ اس وقت اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس نے میسرہ سے پوچھا یہ شخص کون ہے جو اس درخت کے نیچے موجود ہے؟ میسرہ نے کہا یہ ایک قریشی شخص ہیں۔ حرم والوں میں سے ہیں۔ یہ سن کر راہب نے کہا اس درخت کے نیچے نبی کے سوا کبھی کوئی آدمی نہیں بیٹھا۔ مطلب یہ تھا کہ اس درخت کے نیچے آج تک کوئی شخص نہیں بیٹھا، اللہ تعالی نے اس درخت کو ہمیشہ اس سے بچایا ہے کہ اس کے نیچے نبی کے سوا کوئی دوسرا شخص بیٹھے۔ اس کے بعد اس نے میسرہ سے پوچھا کیا ان کی آنکھوں میں سرخی ہے؟ میسرہ نے جواب دیا ہاں بالکل ہے اور یہ سرخی ان کی آنکھوں میں مستقل رہتی ہے۔ اب نسطورا نے کہا یہ وہی ہیں۔ میسرہ نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا اور بولے کیا مطلب، یہ وہی ہیں، کون وہی؟ یہ آخری پیغمبر ہیں۔ کاش میں وہ زمانہ پا سکتا جب انہیں ظہور کا حکم ملے گا، یعنی جب انہیں نبوت ملے گی۔ اس کے بعد وہ چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، پہلے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کو بوسہ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کو بوسہ دیا اور بولا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالی نے تورات میں فرمایا ہے۔ اس کے بعد نسطورا نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ تمام نشانیاں دیکھ لی ہیں، جو پرانی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی علامتوں کے طور پر درج ہیں۔ صرف ایک نشانی باقی ہے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا اپنے کندھے سے کپڑا ہٹائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شانہ مبارک سے کپڑا ہٹا دیا۔ تب نسطورا نے وہاں مہر نبوت کو جگمگاتے دیکھا۔ وہ فوراً مہر نبوت کو چومنے کے لیے جھک گیا، پھر بولا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے پیغمبر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت عیسی ابن مریم علیہما السلام نے خوش خبری دی تھی اور انہوں نے کہا تھا میرے بعد اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھے گا، سوائے اس پیغمبر کے جو امی (یعنی ان پڑھ) ہاشمی، عربی اور مکی (یعنی مکہ کے رہنے والے) ہوں گے۔ قیامت میں حوض کوثر اور شفاعت والے ہوں گے۔
اس واقعے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بصری کے بازار تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال فروخت کیا جو ساتھ لائے تھے اور کچھ چیزیں خریدیں۔ اس خرید و فروخت کے دوران ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ جھگڑا کیا اور بولا لات اور عزی کی قسم کھاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان بتوں کے نام پر کبھی قسم نہیں کھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جملہ سن کر وہ شخص چونک اٹھا۔