سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 17
عنوان: گم شدہ بیٹا
لیکن احتیاط کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد کو ان کے قبول اسلام کا علم ہوگیا۔ تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق استفسار کیا۔ اپنے والد کا سوال سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابا جان! میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکا ہوں اور جو کچھ اللہ کے رسول لے کر آئے ہیں، اس کی تصدیق کرچکا ہوں، لہذا ان کے دین میں داخل ہوگیا ہوں اور ان کی پیروی اختیار کرچکا ہوں۔ یہ سن کر ابوطالب نے کہا جہاں تک ان کی بات ہے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی) تو وہ تمہیں بھلائی کے سوا کسی دوسرے راستے پر نہیں لگائیں، لہذا ان کا ساتھ نہ چھوڑنا۔ ابوطالب اکثر یہ کہا کرتے تھے میں جانتا ہوں، میرا بھتیجا جو کہتا ہے، حق ہے، اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش کی عورتیں مجھے شرم دلائیں گی، تو میں ضرور ان کی پیروی قبول کرلیتا۔ عفیف کندی رضی اللہ عنہ ایک تاجر تھے، ان کا بیان ہے۔ اسلام کرنے سے بہت پہلے میں ایک مرتبہ حج کے لئے آیا۔ تجارت کا کچھ مال خریدنے کے لئے میں عباس ابن عبدالمطلب کے پاس گیا۔ وہ میرے دوست تھے اور یمن سے اکثر عطر خرید کر لاتے تھے۔ پھر حج کے موسم میں مکہ میں فروخت کرتے تھے، میں ان کے ساتھ منیٰ میں بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان آیا۔ اس نے غروب ہوتے سورج کی طرف غور سے دیکھا، جب اس نے دیکھ لیا کہ سورج غروب ہوچکا تو اس نے بہت اہتمام سے وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگا۔ یعنی کعبہ کی طرف منہ کرکے، پھر ایک لڑکا آیا، جو بالغ ہونے کے قریب تھا۔ اس نے وضو کیا اور اس نوجوان کے برابر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگا۔ پھر ایک عورت خیمے سے نکلی اور ان کے پیچھے نماز کی نیت باندھ کر کھڑی ہوگئی۔ اس کے بعد ان نوجوان نے رکوع کیا تو اس لڑکے اور عورت نے بھی رکوع کیا۔ نوجوان نے سجدے میں گیا تو وہ دونوں بھی سجدے میں چلے گئے۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے عباس بن عبدالمطلب سے پوچھا عباس! یہ کیا ہوررہا ہے۔ انہوں نے بتایا یہ میرے بھائی عبداللہ کے بیٹے کا دین ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالٰی نے اسے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ یہ لڑکا میرا بھتیجا ہے علی ابن طالب ہے اور یہ عورت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی خدیجہ ہے۔ یہ عفیف کندی رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو کہا کرتے تھے کاش! اس وقت ان میں چوتھا آدمی میں ہوتا۔ اس واقعے کے وقت غالباً حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا وہاں موجود نہیں تھے، اگرچہ اس وقت تک دونوں مسلمان ہوچکے تھے۔
حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہا غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لائے تھے، یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے پہلے یہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلام تھے۔ شادی کے بعد انہوں نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں دے دیا تھا۔ یہ غلام کس طرح بنے، یہ بھی سن لیں۔
جاہلیت کے زمانے میں ان کی والدہ انہیں لیے اپنے ماں باپ کے ہاں جارہی تھیں کہ قافلہ کو لوٹ لیا گیا۔ ڈاکو ان کے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھی لے گئے۔ پھر انہیں عکاظ کے میلے میں بیچنے کے لیے لایا گیا۔ ادھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو میلے میں بھیجا۔ وہ ایک غلام خریدنا چاہتی تھیں۔ آپ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ میلے میں آئے تو وہاں انہوں نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بکتے دیکھا، اس وقت ان کی عمر آٹھ سال تھی، حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو یہ اچھے لگے، چنانچہ انہوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے انہیں خرید لیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ پسند آئے اور انہوں نے انہیں اپنی غلامی میں لے لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کردیا۔ اس طرح حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ صلی علیہ وسلم کے غلام بنے۔ پھر جب آپ نے اسلام کی دعوت دی تو فوراً آپ پر ایمان لے آئے۔ بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کردیا تھا مگر یہ عمر بھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے۔ ان کے والد ایک مدت سے ان کی تلاش میں تھے۔ کسی نے انہیں بتایا کہ زید مکہ میں دیکھے گئے ہیں۔ ان کے والد اور چچا انہيں لینے فوراً مکہ معظمہ کی طرف چل پڑے۔ مکہ پہنچ کر یہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایاکہ زید ان کے بیٹے ہیں۔
ساری بات سن کر آپ نے ارشاد فرمایا تم زید سے پوچھ لو، اگر یہ تمہارے ساتھ جانا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہيں اور یہاں میرے پاس رہنا چاہیں تو ان کی مرضی۔ زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ اس پر باپ نے کہا تیرا برا ہو زید، تو آزادی کے مقابلے میں غلامی کو پسند کررہا ہے۔ جواب میں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں، ان کے مقابلے میں میں کسی اور کو ہرگز نہیں چن سکتا۔ آپ نے حضرت زید رضی اللّٰہ عنہ کی یہ بات سنی تو آپ کو فوراً حجر اسود کے پاس گئے اور اعلان فرمایا آج سے زید میرا بیٹا ہے۔ ان کے والد اور چچا مایوس ہوگئے۔ تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ جب چاہیں زید سے ملنے آسکتے ہیں۔ چنانچہ وہ ملنے کے لیے آتے رہے۔ تو یہ تھے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔ حضرت زید واحد صحابی ہیں جن کا قرآن کریم میں نام لے کر ذکر کیا گیا ہے۔