سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 42
عنوان: جنات سے ملاقات
پہاڑوں کے فرشتے کی بات کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں! مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالی ان کی اولاد میں ضرور ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اللہ تعالی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹہرائے گے۔ اس پر پہاڑوں کے فرشتے نے جواب دیا اللہ تعالی نے جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نام دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت میں رؤف و رحیم ہیں یعنی بہت معاف کرنے والے اور بہت رحم کرنے والے ہیں۔ طائف کے اسی سفر سے واپسی پر 9 جِنوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزر ہوا۔ وہ نصیبین کے رہنے والے تھے۔ یہ شام کے ایک شہر کا نام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ جنات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی آواز سنی تو اسی وقت مسلمان ہو گئے۔ پہلے وہ یہودی تھے۔
طائف سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو حرم میں آئے اور بیت اللہ کا طواف فرمایا۔ اس کے بعد گھر تشریف لے گئے۔ ادھر 9 جن جب اپنی قوم میں گئے تو انہوں نے باقی جنوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتایا، چنانچہ وہ سب کے سب مکہ پہنچے۔ انہوں نے حجون کے مقام پر قیام کیا اور ایک جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا میری قوم حجون کے مقام پر ٹھہری ہوئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے چلیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وعدہ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کسی وقت حجون آیئں گے۔ حجون مکہ کے ایک قبرستان کا نام تھا۔ رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ حجون پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گرد ایک خط کھینچ دیا اور فرمایا اس سے باہر مت نکلنا، اگر تم نے دائرے سے باہر قدم رکھ دیا تو قیامت کے دن تک تم مجھے نہیں دیکھ پاؤ گے اور نہ میں تمہیں دیکھ سکوں گا۔ ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا میرے آنے تک تم اسی جگہ رہو۔ تمہیں کسی چیز سے ڈر نہیں لگے گا، نہ کسی چیز کو دیکھ کر ہول محسوس ہو گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فاصلے پر جا کر بیٹھ گئے۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بالکل سیاہ فام لوگ آئے۔ یہ کافی تعداد میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجوم کر کے ٹوٹے پڑ رہے تھے، یعنی قرآن پاک سننے کی خواہش میں ایک دوسرے پر گر رہے تھے۔ اس موقع پر حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے چاہا کے آگے بڑھ کر ان لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹا دیں، لیکن پھر انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یاد آگیا اور وہ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ ادھر جنات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم جس جگہ کے رہنے والے ہیں یعنی جہاں ہمیں جانا ہے وہ جگہ دور ہے ، اس لئے ہمارے اور ہماری سواریوں کے لئے سامان سفر کا انتظام فرما دیجیے۔ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، جب تمہارے ہاتھوں میں پہنچے گی تو پہلے سے زیادہ پر گوشت ہو جائے گی اور یہ لید اور گوبر تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔ اس طرح جنات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔