سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 43
عنوان: طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام
طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ ایک اونچے درجے کے شاعر تھے۔ یہ ایک مرتبہ مکہ آئے۔ ان کی آمد کی خبر سن کر قریش ان کے گرد جمع ہو گئے۔ انہوں نے طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہمارے درمیان ایسے وقت میں آئے ہیں جب کہ ہمارے درمیان اس شخص نے اپنا معاملہ بہت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس نے ہمارا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ ہم میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ اس کی باتوں میں جادو جیسا اثر ہے، اس نے دو سگے بھائیوں میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ اب ہمیں آپ کی اور آپ کی قوم کی طرف سے بھی پریشانی لاحق ہو گئی ہے، اس لئے اب آپ نہ تو اس سے کوئی بات کریں اور نہ اس کی کوئے بات سنیں۔ انہوں نے ان پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے۔ نہ میں محمد کی کوئی بات سنوں گا اور نہ ان سے کوئی بات کروں گا۔
دوسرے دن طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کعبہ کا طواف کرنے کے لئے گئے تو انہوں نے اپنے کانوں میں کپڑا ٹھونس لیاکہ کہیں ان کی کوئے بات ان کے کانوں میں نہ پہنچ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی کھڑے ہو گئے۔ اللہ کو یہ منظور تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ کلام ان کے کانوں میں پڑ جائے۔ چنانچہ انہوں نے ایک نہایت پاکیزہ اور خوب صورت کلام سنا۔ وہ اپنے دل میں کہنے لگے: میں اچھے اور برے میں تمیز کر سکتا ہوں۔ اس لئے ان صاحب کی بات سن لینے میں حرج ہی کیا ہے۔ اگر یہ اچھی بات کہتے ہیں تو میں قبول کر لو ں گا اور بری بات ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔ کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر اپنے گھر کی طرف چلے تو انہوں نے کہا اے محمد! آپ کی قوم نے مجھ سے ایسا ایسا کہا ہے، اسی لئے میں آپ کی باتوں سے بچنے کے لئے کانوں میں کپڑا ٹھونس لیا تھا، مگر آپ اپنی بات میرے سامنے پیش کریں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اسلام پیش کیا اور ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت فرمائے، قرآن سنکر طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ بول اٹھے اللہ کی قسم میں نے اس سے اچھا کلام کبھی نہیں سنا۔ اس کے بعد انہوں نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئے۔ پھر انہیوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنی قوم میں اونچی حیثیت کا مالک ہوں، وہ سب میری بات سنتے ہیں، مانتے ہیں، میں واپس جا کر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دوں گا۔ اس لئے آپ میرے لئے دعا فرمائیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا فرمائی۔ پھر وہ واپس روانہ ہو گئے۔ اپنی بستی کے قریب پہنچے تو وہاں انہیں پانی کے پاس قافے کھڑے نظر آئے۔ عین اس وقت ان کی دونوں آنکھوں کے درمیاں چراغ کی مانند ایک نور پیدا ہو گیا اور ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے ہوا تھا۔ رات بھی اندھیری تھی۔ اس وقت انہوں نے دعا کی اے اللہ ! اس نور کو میرے چہرے کے علاوہ کسی اور چیز میں پیدا فرما دے۔ مجھے ڈر ہے، میری قوم کے لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ دین بدلنے کی وجہ سے اس کی شکل بگڑ گئی۔ چنانچہ اسی وقت وہ نور ان کے چہرے سے ان کے کوڑے میں آگیا۔ اب ان کا کوڑا کسی قندیل کی طرح روشن ہوگیا۔ اسی بنیاد پر حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کو ذی النور کہا جانے لگا۔ یعنی نور والے، وہ گھر پہنچے تو ان کے والد ان کے پاس آئے۔ انہوں نے ان سے کہا آپ میرے پاس نہ آئیں، اب میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ آپ کا مجھ سے کوئی تعلق رہ گیا ہے۔ یہ سن کر ان کے والد نے پوچھا کیوں بیٹے! یہ کیا بات ہوئی؟ انہوں نے جواب دیا میں مسلمان ہوگیاہوں، میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین قبول کرلیاہے۔ یہ سنتے ہی ان کے والد بول اٹھے بیٹے جو تمہارا دین ہے، وہی میرا دین ہے۔ تب طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نے انہیں غسل کرنے اور پاک کپڑے پہننے کے لیے کہا۔ جب وہ ایسا کرچکے تو ان پر اسلام پیش کیا۔ وہ اسی وقت کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔ پھر ان کی بیوی ان کے پاس آئیں۔ انہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ اب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں پر اسلام پیش کیا، وہ لوگ بگڑ گئے۔