سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر  59 عنوان: ابتدائی غزوات 0

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 59 عنوان: ابتدائی غزوات

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

قسط نمبر  59

عنوان: ابتدائی غزوات

چند یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال پوچھا آپ یہ بتائیں، اس وقت لوگ کہاں ہوں گے جب قیامت کے دن زمین اور آسمان کی شکلیں تبدیل ہوجائیں گی؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا اس وقت لوگ پل صراط کے قریب اندھیرے میں ہوں گے۔ اسی طرح ایک مرتبہ یہودیوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے بادلوں کی گرج اور کڑک کے بارے میں پوچھا۔ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا یہ اس فرشتے کی آواز ہے جو بادلوں کا نگران ہے، اس کے ہاتھ میں آگ کا ایک کوڑا ہے، اس سے وہ بادلوں کو ہانکتا ہوا اس طرف لے جاتا ہے جہاں پہنچنے کے لیے اللہ تعالٰی کا حکم ہوتا ہے۔  ان یہودیوں ہی میں سے ایک گروہ منافقین کا تھا، یہ بات ذرا وضاحت سے سمجھ لیں، مدینہ منورہ میں جب اسلام کو عروج حاصل ہوا تو یہودیوں کا اقتدار ختم ہوگیا، بہت سے یہودی اس خیال سے مسلمان ہوگئے کہ اب ان کی جانیں خطرے میں ہیں، سو اپنی جانیں بچانے کے لیے وہ جھوٹ موٹ کے مسلمان ہوگئے، اب اگرچہ کہنے کو وہ مسلمان تھے، لیکن ان کی ہمدردیاں اور محبتیں اب بھی یہودیوں کے ساتھ تھیں، ظاہر میں وہ مسلمان تھے، اندر سے وہی یہودی تھے۔ ان لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول نے منافق قرار دیا ہے، ان کی تعداد تین سو کے قریب تھی۔ انہی منافقوں میں عبداللہ ابن اُبیّ بھی تھا، یہ منافقوں کا سردار تھا۔ یہ منافقین ہمیشہ اس تاک میں رہتے تھے کہ کب اور کس طرح مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکیں، مسلمانوں کو پریشان کرنے اور نقصان پہنچانے کا کوئی موقع یہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے جیسا کہ آئندہ چل کر آپ پڑھیں گے۔

ہجرت کے پہلے سال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی، یعنی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر آگئیں۔ بعض روایات کے مطابق رخصتی ہجرت کے دوسرے سال ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جب نبوت عطا کی گئی تھی تو اس وقت جنگ کے بغیر تبلیغ کا حکم ہوا تھا، اللہ تعالٰی نے فرمایا تھا کہ ان کافروں سے الجھیے مت بلکہ دامن بچائے رکھیے اور صبر کیجیے۔ یہ حکم مکّہ کی زندگی تک رہا۔ پھر ہجرت کے بعد اس طرح جنگ کرنے کی اجازت ملی کہ اگر مشرک جنگ کی ابتداء کریں تو مسلمان ان سے دفاعی جنگ کرسکتے ہیں، البتہ حرام (قابل احترام) مہینوں میں جنگ نہ کریں یعنی رجب، ذوالقعدہ،  ذوالحجہ اور محرم میں۔ کچھ مدت بعد جنگ کی عام اجازت ہوگئی یعنی کافروں کے حملہ نہ کرنے کی صورت میں بھی مسلمان ان سے اقدامی جنگ کریں اور کسی بھی مہینے میں جنگ کرسکتے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالٰی کی طرف سے جہاد کی اجازت مل گئی تو 12ربیع الاول 2ہجری میں پہلی بار حضور صلی اللہ علیہ و سلم جہاد کی غرض سے مدینہ سے روانہ ہوئے۔ مدینہ سے نکل کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ودان کے مقام پر پہنچے، یہ ایک بڑی بستی تھی اور ابواء کے مقام سے چھ یا آٹھ میل کے فاصلے پر تھی، ابواء مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک گاؤں تھا، اس غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ صرف مہاجرین تھے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم قبیلہ بنی ضمرہ پر حملہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ 70 صحابہ تھے، بنی ضمرہ کے سردار نے جنگ کے بغیر صلح کرلی، صلح کا معاہدہ لکھا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم واپس تشریف لے آئے۔ اس طرح یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا پہلا غزوہ تھا، اس کو غزوہ بنی ضمرہ کہا جاتا ہے، اس غزوہ میں مسلمانوں کا جھنڈا سفید تھا اور یہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا گیا تھا۔ صلح کے معاہدے میں طے پایا تھا کہ یہ لوگ مسلمانوں کے مقابلے پر نہیں آئیں گے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم انہیں جب بھی بلائیں گے، انہیں مدد کے لیے آنا ہوگا۔ اس غزوے میں مسلمانوں کو پندرہ دن لگے۔ اس کے بعد غزوہ بواط ہوا، اس میں اسلامی لشکر میں دو سو مہاجرین تھے، جھنڈا سفید رنگ کا تھا، یہ ربیع الثانی 2ہجری میں پیش آیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ایک تجارتی قافلے کو روکنے کے لیے روانہ ہوئے تھے، اس قافلے کا سردار قریش کا سردار امیہ بن خلف تھا، اس کے ساتھ قریش کے سو آدمی تھے، قافلے میں دوہزار پانچ سو اونٹ تھے، ان پر تجارتی سامان لدا ہوا تھا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اس غزوے کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے تو اپنا قائم مقام حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بنایا، مدینہ منورہ سے روانہ ہوکر آپ صلی اللہ علیہ و سلم بواط کے مقام پر پہنچے، یہ ایک پہاڑ کا نام ہے، اسی مناسبت سے اس غزوہ کا نام غزوہ بواط پڑا، لیکن بواط پہنچنے پر دشمنوں سے سامنا نہ ہوسکا، کیونکہ قریشی قافلہ مسلمانوں کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں سے رخصت ہوچکا تھا، اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جنگ کے بغیر ہی تشریف لے آئے۔ جمادی الاولی کے مہینے میں غزوہ عشیرہ پیش آیا، اس مرتبہ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ایک قریشی قافلے کو روکنے کے لیے تشریف لے گئے، وہ قافلہ ملک شام کی طرف جارہا تھا، قریش نے اس قافلے میں اپنا بہت سا مال و اسباب شامل کررکھا تھا، غرض مکّہ کے سبھی لوگوں نے اس میں مال شامل کیا تھا، اس قافلے کے ساتھ پچاس ہزار دینار تھے، ایک ہزار اونٹ تھے، قافلے کے سردار ابوسفیان رضی اللہ عنہ تھے (جو کہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے)۔ ستائیس آدمی بھی ہمراہ تھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ میں ابوسلمہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام بنایا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ڈیڑھ سو کے قریب صحابہ کرام تھے، مدینہ منورہ سے روانہ ہوکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم عشیرہ کے مقام تک پہنچے، اس غزوے میں بھی اسلامی جھنڈے کا رنگ سفید تھا، جھنڈا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔ اسلامی لشکر بیس اونٹوں پر سوار ہوا، سب لوگ باری باری سوار ہوتے رہے، عشیرہ کے مقام پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو معلوم ہوا کہ قافلہ وہاں سے گزر کر شام کی طرف جاچکا ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پھر جنگ کے بغیر واپس تشریف لے آئے، تاہم اس دوران بنی مدلج سے امن اور سلامتی کا معاہدہ طے پایا۔ اسی سفر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب کا لقب ملا، یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک موقع پر حضرت علی اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو زمین پر اس طرح سوتے پایا کہ ان کے اوپر مٹی لگ گئی، آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پاؤں سے ہلایا اور فرمایا اےابوتراب (یعنی اے مٹی والے) اٹھو۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم غزوہ عشیرہ سے واپس آئے تو چند دن بعد ہی پھر ایک مہم پیش آگئی، ایک شخص کرز بن جابر فہری نے مدینہ منورہ کی چراگاہ پر حملہ کردیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اس کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ سفوان کی وادی میں پہنچے، یہ وادی میدان بدر کے قریب ہے، اسی مناسبت سے اس غزوے کو غزوہ بدر اولی بھی کہا جاتا ہے، کرز بن جابر مسلمانوں کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی جاچکا تھا، اس غزوے کے لیے نکلنے سے پہلے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنایا، اس مرتبہ بھی جھنڈا سفید تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا گیا تھا۔ اسی سال 2ہجری کے دوران قبلے کا رخ تبدیل ہوا اور اس وقت تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے رہے تھے۔ قبلہ کی تبدیلی کا حکم ظہر کی نماز کے وقت آیا، ایک روایت میں یہ ہے کہ عصر کی نماز میں حکم آیا تھا، قبلے کی تبدیلی اس لیے ہوئی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آرزو کی تھی کہ قبلہ بیت اللہ ہو، خاص طور پر یہ آرزو اس لیے تھی کہ یہودی کہتے تھے محمد ہماری مخالفت بھی کرتے ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز بھی پڑھتے ہیں۔ اگر ہم سیدھے راستے پر نہ ہوتے تو تم ہمارے قبلے کی طرف رخ کرکے نمازیں نہ پڑھا کرتے۔ ان کی بات پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی کہ ہمارا قبلہ بیت اللہ ہوجائے اور اللہ تعالٰی نے یہ دعا منظور فرمائی۔ قبلے کی تبدیلی کا حکم نماز کی حالت میں آیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کے دوران ہی اپنا رخ بیت اللہ کی طرف کرلیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی رخ تبدیل کرلیا، یہ نماز مسجد قبلتین میں ہورہی تھی۔

 

  

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں