سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر  65 عنوان: فتح کےبعد 0

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 65 عنوان: فتح کےبعد

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

قسط نمبر  65

عنوان: فتح کےبعد

جب تمام مشرکوں کو گڑھے میں ڈال دیا گیا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس گڑھے کے ایک کنارے پر آکھڑے ہوئے، وہ وقت رات کا تھا۔ بخاری اور مسلم کی روایت میں ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوہ میں فتح حاصل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی مقام پر تین رات قیام فرمایا کرتے تھے۔ تیسرے دن آپ نے لشکر کو تیاری کا حکم دیا۔ وہاں سے کوچ کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس گڑے کے کنارے کھڑے ہوکر ان لاشوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں! کیا تم نے دیکھ لیا کہ اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ کتنا سچا تھا، میں نے تو اس وعدے کو سچ پایا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے نام بھی لیے مثلاً فرمایا اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ، اے امیہ بن خلف اور اے ابوجہل بن ہشام، تم لوگ نبی کا خاندان ہوتے ہوئے، بہت برے ثابت ہوئے، تم مجھے جھٹلاتے تھے جبکہ لوگ میری تصدیق کررہے تھے۔ تم نے مجھے وطن سے نکالا،ںجب کہ دوسروں نے مجھے پناه دی۔ تم نے میرے مقابلے میں جنگ کی جب کہ غیروں نے میری مدد کی۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ان مردوں سے باتیں کررہے ہیں جو بے روح لاشیں ہیں۔  اس کے جواب میں آپ نےارشاد فرمایا جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، اس کو تم لوگ اتنا نہیں سن رہے ہیں مگر یہ لوگ اب جواب نہیں دے سکتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کی خبر مدینہ منورہ بھیج دی۔ مدینہ منوره میں فتح کی خبر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ لائے تھے۔ انہوں نے یہ خوش خبری بلند آواز میں یوں سنائی اے گروہ انصار! تمہیں خوش خبری ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سلامتی اور مشرکوں کے قتل اور گرفتاری کی۔ قریشی سرداروں میں سے فلاں فلاں قتل اور فلاں فلاں گرفتار ہوگئے ہیں۔ ان کے منہ سے یہ خوش خبری سن کر اللہ کا دشمن کعب بن اشرف یہودی طیش میں آگیا اور انہیں جھٹلانے لگا، ساتھ ہی اس نے کہا اگر محمد (صلی الله علیہ وسلم) نے ان بڑےبڑے سورماﺅں کو مار ڈالا ہے تو زمین کی پشت پر رہنے سے زمین کےاندر رہنا بہتر ہے (یعنی زندگی سے موت بہتر ہے)۔ فتح کی یہ خبر وہاں اس وقت پہنچی جب مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی وفات پاچکی تھیں اور ان کے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور وہاں موجود صحابہ کرام ان کو دفن کر کے قبر کی مٹی برابر کررہے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات کی اطلاع دی گئی تو ارشاد فرمایا الحمد اللہ! اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ شریف بیٹیوں کا دفن ہونا بھی عزت کی بات ہے۔ فتح کی خبر سن کر ایک منافق بولا اصل بات یہ ہے کہ تمہارے ساتھی شکست کھا کر تتر بتر ہوگئے ہیں، اور اب وہ کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکیں گے، محمدں(صلی اللہ علیہ وسلم) بیٹھ کر آئے ہیں، اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) زندہ ہوتے تو اپنی اونٹنی پر خود سوار ہوتے مگر یہ زید ایسے بدحواس ہورہے ہیں کہ انہیں خود بھی پتا نہیں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔  اس پر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا اوہ اللہ کے دشمن! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آلینے دے، پھر تجھے معلوم ہوجائے گا، کسے فتح ہوئی اور کسے شکست ہوئی ہے؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں صفراء کی گھاٹی میں پہنچے تو اس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت تقسیم فرمایا۔ اس مال میں ایک سو پچاس اونٹ اور دس گھوڑے تھے، اس کے علاوہ ہر قسم کا سامان، ہتھیار، کپڑے اور بے شمار کھالیں، اون وغیرہ بھی اس مال غنیمت میں شامل تھا۔ یہ چیزیں مشرک تجارت کے لیے ساتھ لے آئے تھے۔  اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا جس شخص نے کسی مشرک کا قتل کیا، اس مشرک کا سامان اسی کو ملے گا اور جس نے کسی مشرک کو گرفتار کیا، وہ اسی کا قیدی ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال میں سے ان لوگوں کے بھی حصے نکالے، جو غزوہ بدر میں حاضر نہیں ہوسکے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں خودآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی وجہ سے جنگ میں حصہ لینے سے روک دیا تھا کیونکہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بہت بیمار تھیں اور خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو چیچک نکلی ہوئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اصحاب بدر میں شمار فرمایا۔ اسی طرح حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ تھے، انہیں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے پاس بطور محافظ چھوڑا تھا۔ اور حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا اور عالیہ والوں کے پاس چھوڑا تھا۔

اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا بھی حصہ نکالا جنہیں جاسوسی کی غرض سے بھیجا گیا تھا تاکہ وہ دشمن کی خبر لائیں۔ یہ لوگ اس وقت واپس لوٹے تھے جب جنگ ختم ہوچکی تھی۔ اسی مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے قیدیوں میں سے نضر بن حارث کو قتل کرنے کا حکم فرمایا۔ یہ شخص قرآن کریم اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال کرتا تھا۔ اسی طرح کچھ آگے چل کر آپ نے عقبہ بن ابی معیط کے قتل کا حکم فرمایا۔ یہ بھی بہت فتنہ پرور تھا۔ اس نے ایک بار آپ صلی الله علیہ وسلم کے چہرہ انور پر تھوکنے کی کوشش بھی کی تھی اور ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں سجدے کی حالت میں دیکھ کر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر اونٹ کی اوجھ لا کر رکھ دی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا مکہ سے باہر میں جب بھی تجھ سے ملوں گا تو اس حالت میں ملوں گا کہ تلوار سے تیرا سر قلم کروں گا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہوئے اور پھر مدینہ منوره کے قریب پہنچ گئے۔ یہاں لوگ مدینہ منوره سے باہر نکل آئے تھے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا استقبال کرسکیں اور فتح کی مبارک باد دے سکیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منوره میں داخل ہوئے تو شہر کی بچیوں نے دف بجا کر استقبال کیا۔وہ اس وقت یہ گیت گارہی تھیں ہمارے سامنے چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے، اس نعمت کے بدلے میں ہم پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے۔ دوسری طرف مکہ معظمہ میں قریش کی شکست کی خبر پہنچی،خبر لانے والے نے پکار کر کہا لوگو! عتبہ اور شیبہ قتل ہوگئے، ابوجہل اور امیہ بھی قتل ہوگئے اور قریش کے سرداروں میں سے فلاں فلاں بھی قتل ہوگئے، فلاں فلاں گرفتار کرلیے گئے۔ یہ خبر وحشت ناک تھی۔ خبر سن کر ابولہب گھسٹا ہوا باہر آیا۔ اسی وقت ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے۔ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ یہ بدر میں مشرکین کی طرف سے شریک ہوئے تھے۔ ابولہب نے انہیں دیکھتے ہی پوچھا میرے نزدیک آؤ اور سناؤ کیا خبر ہے؟

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں