سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 71
عنوان: معرکہ احد کا آغاز
اسلامی لشکر نے جہاں پڑاؤ ڈالا اس مقام کا نام شوط تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں فجر کی نماز ادا فرمائی۔ اس وقت لشکر میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا، یہ منافق تھا۔اس کے ساتھ تین سو جوان تھے، یہ سب کے سب منافق تھے۔ اس مقام پر پہنچ کر عبداللہ بن ابی نے کہا! آپ نے میری بات نہیں مانی اور ان نوعمر لڑکوں کا مشورہ مانا۔ حالانکہ ان کا مشورہ کوئی مشورہ ہی نہیں ہے۔ اب خود ہی ہماری رائے کے بارے میں اندازہ ہوجائے گا، ہم بلاوجہ کیوں جانیں دیں۔ اس لیئے ساتھیو! واپس چلو۔ اس طرح یہ لوگ واپس لوٹ گئے۔ اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات سو صحابہ رہ گئے۔ اس روز مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے تھے۔ ان میں سے ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور دوسرا ابو بردہ رضی اللہ عنہ کا تھا۔ شوط کے مقام سے چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی گھاٹی میں پڑاؤ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالتے وقت اس بات کا خیال رکھا کہ پہاڑ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کی طرف رہے۔ اس جگہ رات بسر کی گئی۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے صبح کی آذان دی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صفیں قائم کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی
نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطبہ دیا۔ اس میں جہاد کے بارےمیں ارشاد فرمایا۔ جہاد کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال روزی کمانے کے بارےمیں بھی نصیحت فرمائی اور فرمایا جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ وحی ڈالی ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک کہ وہ اپنے حصے کے رزق کا ایک ایک دانہ حاصل نہیں کرلیتا (چاہے کچھ دیر میں حاصل ہو مگر اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی)۔ اس لیے اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور رزق کی طلب میں نیک راستے اختیار کرو (ایسا ہرگز نہیں ہوناچاہئے کہ رزق میں دیر لگنے کی وجہ سے تم اللہ کی نافرمانی حاصل کرنے لگو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ایک مومن کا دوسرے مومن سے ایسا ہی رشتہ ہے جیسے سر اور بدن کا رشتہ ہوتاہے، اگر سر میں تکلیف ہو تو سارا بدن درد سے کانپ اٹھتا ہے۔ اس کے بعد دونوں لشکر آمنے سامنے آکھڑے ہوئے ۔ مشرکوں کے لشکر کے دائیں بائیں خالد بن ولید اور عکرمہ تھے، یہ دونوں حضرات اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ایک دستہ دے کر فرمایا تم خالد بن ولید کےمقابلے پر رہنا اور اس وقت تک حرکت نہ کرنا جب تک کہ میں اجازت نہ دوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں کے ایک دستے پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس درے پر متعین فرمایا جو مسلمانوں کی پشت پر تھا۔ اس درے پر پچاس تیر انداز مقرر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ پشت کی طرف سے دشمن حملہ نہ کرسکے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پچاس تیر اندازوں سے فرمایا تم مشرکوں کے گھڑ سوار دستوں کو تیر اندازی کرکے ہم سے دور ہی رکھنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ پشت کی طرف سے آکر حملہ کردیں، ہمیں چاہے فتح ہو یا شکست، تم اپنی جگہ سے نہ ہلنا۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تلوار نکالی اور فرمایا کون مجھ سے یہ تلوار لےکر اس کا حق ادا کرسکتا ہے؟ اس پر کئی صحابہ کرام اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار انہیں نہيں دی۔ ان حضرات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابہ سے فرمایا بیٹھ جاؤ۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے بھی وہ تلوار لینے کی تین بار کوشش کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ انکار کردیا۔ آخر صحابہ کے مجمع میں سے حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا میں اس تلوار کا حق ادا کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار انہیں عطا فرمادی۔ ابودجانہ رضی اللہ عنہ بےحد بہادر تھے، جنگ کے دوران غرور کے انداز میں اکڑ کر چلا کرتےتھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دونوں لشکروں کے درمیان اکڑ کر چلتے دیکھا تو فرمایا یہ چال ایسی ہے جس سے اللہ تعالی نفرت فرماتا ہے، سوائے اس قسم کے موقعوں کے (یعنی دشمنوں کا سامنا کرتے وقت یہ چال جائز ہے تاکہ یہ ظاہر ہوکہ ایسا شخص دشمن سے ذرا بھی خوف زدہ نہیں ہے اور نہ اسے دشمن کے جنگی ساز و سامان کی پروا ہے)۔ پھر دونوں لشکر ایک دوسرے کے بالکل نزدیک آگئے۔ اس وقت مشرکوں کے لشکر سے ایک اونٹ سوار آگے نکلا اور مبارزت طلب کی یعنی مقابلے کے لیے للکارا۔ اس نے تین مرتبہ پکارا۔ تب حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اسلامی صفوں سے نکل کر اس کی طرف بڑھے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اس وقت پیدل تھے۔ جب کہ دشمن اونٹ پر سوار تھا۔ اس کے نزدیک پہنچتے ہی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ایک دم زور سے اچھلے اور اس کی اونچائی کے برابر پہنچ گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس کی گردن پکڑلی۔ دونوں میں اونٹ پر ہی زورآزمائی ہونے لگی۔ ان کی زورآزمائی دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ان میں سے جو پہلے نیچے گرے گا، وہی مارا جائےگا۔ اچانک وہ مشرک نیچے گرا پھر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اس پر گرے، گرتے ہی انہوں نے فوراً ہی اس پر تلوار کا وار کیا اور وہ جہنم رسید ہوگیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی تعریف ان الفاظ میں بیان فرمائی ہر نبی کا ایک حواری (یعنی خاص ساتھی) ہوتاہے اور میرے حواری زبیر ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اگر اس مشرک کے مقابلے کے لیے زبیر نہ نکلتے تو میں خود نکلتا۔ اس کے بعد مشرکوں کی صفوں میں سے ایک اور شخص نکلا۔ اس کا نام طلحہ بن ابو طلحہ تھا۔ یہ قبیلہ عبدالدار سے تھا۔ اس کے ہاتھ میں پرچم تھا۔ اب اس نے مبارزت طلب کی۔ اس نے بھی کئی بار مسلمانوں کو للکارا، تب حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی صفوں میں سے نکل کر اس کے سامنے پہنچ گئے، اب ان دونوں میں مقابلہ شروع ہوا۔ دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار کے وار کیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک وار اس کی ٹانگ پر لگا۔ ٹانگ کٹ گئی، وہ بری طرح گرا اور اس کے کپڑے الٹ گئے، اس طرح وہ برہنہ ہوگیا، وہ پکار اٹھا، میرے بھائی میں خدا کا واسطہ دے کر تم سے رحم کی بھیک مانگتا ہوں۔