سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر  72 عنوان: حق اداکردیا 0

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 72 عنوان: حق اداکردیا

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

قسط نمبر  72

عنوان: حق اداکردیا

حضرت علی رضی اللہ عنہ طلحہ بن ابو طلحہ کو چھوڑ کر لوٹ آئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا اے علی! تم نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟  انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول! اس نے مجھے خدا کا واسطہ دے کر رحم کی درخواست کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے قتل کر آؤ۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے اور اسے قتل کر ڈالا۔ اس کے قتل کے بعد مشرکوں کا پرچم اس کے بھائی عثمان بن ابو طلحہ نے لے لیا۔ اس کے مقابلے پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے اس کے نزدیک پہچتے ہی تلوار کا وار کیا، اس وار سے اس کا کندھا کٹ گیا۔ وہ گر پڑا، اور دوسرے وار سے انہوں نے اس کا خاتمہ کردیا۔ اب طلحہ کا بیٹا مسافع آگے بڑھا۔ حضرت عاصم بن ثابت بن ابوالافلح رضی اللہ عنہ نے اس پر تیر چلایا، وہ بھی ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد اس کا بھائی حارث میدان میں نکلا، حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے اسے بھی تاک کر تیر مارا، وہ بھی مارا گیا۔ ان دونوں کی ماں بھی لشکر میں موجود تھی۔ اس کا نام سلافہ تھا۔ اس کے دونوں بیٹوں نے ماں کی گود میں دم توڑا۔ مرنے سے پہلے سلافہ نے پوچھا بیٹے! تمہیں کس نے زخمی کیا ہے؟ ایک بیٹے نے جواب دیا میں نے اس کی آواز سنی ہے، تیر چلانے سے پہلے اس نے کہا تھا، لے اس کو سنبھال، میں ابوالافلح کا بیٹا ہوں۔ اس جملے سے سلافہ جان گئی کہ وہ تیر انداز حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں، چنانچہ اس نے قسم کھائی۔ اگر عاصم کا سر میرے ہاتھ لگا تو میں اس کی کھوپڑی میں شراب پیوں گی۔ ساتھ ہی اس نے اعلان کیا کہ جو شخص بھی عاصم بن ثابت کا سر کاٹ کر لائے گا، میں اسے سو اونٹ انعام میں دوں گی۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ اس جنگ میں شہید نہیں ہوئے، یہ واقعہ رجیع میں شہید ہوئے جس کا ذکر اپنے وقت پر آئے گا، ان شاءاللہ۔ ان دونوں کے قتل کے بعد ان کے بھائی کلاب بن طلحہ نے پرچم اٹھالیا، اسے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کردیا، کلاب کے بعد اس کے بھائی جلاس بن طلحہ نے پرچم اٹھایا۔ اسے حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا۔ اس طرح یہ چاروں اپنے باپ کی طرح وہیں قتل ہوگئے۔ ان کے چچا عثمان بن طلحہ اور ابوسعید بن طلحہ بھی اسی غزوہ احد میں مارے گئے تھے۔  اس کے بعد قریشی پرچم ارطاۃ بن شرجیل نے اٹھایا، اس کے مقابلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے، وہ ان کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کے بعد شریح ابن قارظ نے پرچم اٹھایا، وہ بھی مارا گیا۔ روایت میں یہ نہیں آیا کہ یہ کس کے ہاتھوں مارا گیا۔اس کے بعد پرچم ابو زید بن عمرو نے اٹھایا، اسے حضرت قزمان رضی اللہ عنہ نے قتل کیا، اس کے بعد ان لوگوں کے غلام صواب نے پرچم اٹھایا، یہ ایک حبشی تھا۔اس نے لڑنا شروع کیا، یہاں تک کہ اس کا ایک ہاتھ کٹ گیا، یہ جلدی سے بیٹھ گیا، پرچم کو اپنی گردن اور سینے کے سہارے اٹھائے رہا یہاں تک کہ وہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اب عام جنگ شروع ہوگئی۔دونوں لشکر ایکدوسرے پر پوری طاقت سے حملہ آور ہوئے۔ اس جنگ کے شروع ہی میں مشرکوں کے گھڑسوار دستے نے تین مرتبہ اسلامی لشکر پر حملہ کیا۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑی کے اوپر تیراندازوں کا جو دستہ مقرر فرمایا تھا، وہ ہر مرتبہ تیروں کی باڑھ مارکر اس دستے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتا تھا۔ مشرکین تینوں مرتبہ بدحواسی کے عالم میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد مسلمانوں نے مشرکوں پر بھرپور حملہ کیا۔ یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ مشرکوں کی طاقت کو زبردست نقصان پہنچا۔ اس وقت لڑائی پورے زوروں پر تھی۔ مشرکوں کی عورتوں میں ہندہ بھی تھی۔ یہ ابوسفیان کی بیوی تھی۔ اس وقت تک یہ اسلام نہیں لائی تھیں اور مسلمانوں کی سخت ترین دشمن اور بہت تند مزاج تھیں۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں دف لےلیا، اور ان کے ساتھ دوسری عورتیں بھی تھیں، انہوں نے بھی دف لے لیے۔ اب سب مل کر دف بجانے لگیں اور گیت گانے لگیں۔ یہ قدم انہوں نے اپنے مردوں کو جوش دلانے کے لئے اٹھایا۔ ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابودجانہ رضی اللہ عنہ کو جو تلوار عطا فرمائی تھی، انہوں نے اس کا حق ادا کردیا۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا تھا کہ اس تلوار کا حق کون ادا کرے گا تو میرے تین مرتبہ تلوار مانگنے کے باوجود آپ نے وہ تلوار مجھے مرحمت نہ فرمائی، حالانکہ میں آپ کا پھوپھی زاد تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار ابودجانہ کو دے دی تو میں نے دل میں کہا، دیکھتا ہوں کہ یہ اس تلوار کا حق کس طرح ادا کرتے ہیں؟ اس کے بعد میں نے ان کا پیچھا کیا اور سائے کی طرح ان کے ساتھ لگا رہا۔ میں نے دیکھا انھوں نے اپنے موزے میں سے ایک سرخ رنگ کی پٹی نکالی، اس پٹی پر ایک طرف لکھا تھا، اللہ کی مدد اور فتح قریب ہے۔ دوسری طرف لکھا تھا، جنگ میں بزدلی شرم کی بات ہے، جو میدان سے بھاگا وہ جہنم کی آگ سے نہیں بچ سکتا۔یہ پٹی نکال کر انھوں نے اپنے سر پر باندھ لی۔ انصاری مسلمانوں نے جب یہ دیکھا تو وہ بول اٹھے ابودجانہ نے موت کی پٹی باندھ لی ہے۔ انصاریوں میں یہ بات مشہور تھی کہ حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ جب یہ پٹی سر پر باندھ لیتے تو پھر دشمنوں پر اس طرح ٹوٹتے ہیں کہ کوئی ان کے مقابلے پر ٹک نہیں سکتا۔ چنانچہ اس پٹی کے باندھنے کے بعد انہوں نے انتہائی خوفناک انداز میں جنگ شروع کردی۔ وہ دشمن پر موت بن کر گرے، انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ دشمنوں کو اس حد تک قتل کیا کہ آخر یہ تلوار مڑگئی اور مڑ کر درانتی جیسی ہوگئی۔ اس وقت مسلمان پکار اٹھے ابودجانہ نے واقعی تلوار کا حق ادا کردیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہے کہ مشرکوں میں ایک شخص میدان جنگ میں زخمی مسلمانوں کو تلاش کرکر کے شہید کررہا تھا۔ میری نظر اس پر پڑی تو میں نے دعا مانگی یا اللہ! اس کا سامنہ ابودجانہ سے ہوجائے۔ اللہ نے میری دعا قبول فرمائی اور اس کا آمنا سامنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ سے ہوگیا۔ اب دونوں میں تلوار کے وار ہونے لگے۔ اچانک اس مشرک نے ابودجانہ رضی اللہ عنہ پر تلوار بلند کی۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں