سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 73
عنوان: پانسہ پلٹ گیا
مشرک کے اس وار کو ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی چمڑے کی ڈھال پر روکا۔ مشرک کی تلوار ان کی ڈھال میں پھنس گئی۔ بس اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے فوراً اپنی تلوار سے اس کا کام تمام کردیا۔ حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر ایک موقع پر میں نے ابودجانہ رضی اللہ عنہ کو وہی تلوار ہند بنت عتبہ کو قتل کرنےکے لئے بلند کرتے دیکھا، لیکن پھر انہوں نے اس عورت کو قتل نہ کیا۔ اس بارے میں جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا میں نے مناسب نہ سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار سے ایک عورت کا قتل کروں، اس لیے اسے چھوڑ کر ہٹ آیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی ان کی طرح انتہائی سرفروشی سے جنگ کر رہے تھے۔ اس روز حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بیک وقت دو تلواروں سے لڑ رہے تھے، یعنی ان کے دونوں ہاتھوں میں تلواریں تھیں اور لڑتے ہوئے وہ کہتے جارہے تھے، میں اللہ کا شیر ہوں۔ ایسے میں سباع بن عبدالعزی ان کے سامنے آ گیا۔انہوں نے اسے للکارا۔ پھر تیزی سے اس کی طرف بڑھے اور اس کے سر پر پہنچ کر تلوار کا وار کیا، سباع فوراً ہی ڈھیر ہوگیا۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس روز اس قدر دلیری سے لڑے کہ ان کے ہاتھ سے 31 مشرک مارے گئے۔ سباع کو قتل کرنے کے بعد وہ اس کی ذرہ اتارنے کے لیے جھکے۔ اس وقت حضرت وحشی کی نظر ان پر پڑی جو اس وقت مشرکین کے لشکر میں شامل تھے۔جھکنے کی وجہ سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ذرہ پیٹ پر سے سرک گئی تھی۔ حضرت وحشی یہ واقعہ سناتے ہوئے فرماتے تھے، میں نے فوراً نیزہ تاک کر مارا، وہ ان کے پیٹ میں لگا، میں ان کی طرف بڑھا۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور شدید زخمی حالت کے باوجود انہوں نے اٹھ کر مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن پھر کمزوری کی وجہ سے گر گئے۔ کچھ دیر تک میں ایک طرف دبکا رہا جب مجھے اطمینان ہوگیا کہ ان کی روح نکل چکی ہے، تب ان کے قریب گیا۔ وہ واقعی شہید ہوچکے تھے۔ میں وہاں سے ہٹ آیا اور اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ گیا۔ کیونکہ مجھے صرف ان کے قتل سے دلچسپی تھی اور اس جنگ میں کسی کو قتل کرنے کی خواہش نہیں تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر میں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کردیا تو مجھے آزاد کر دیا جائے گا۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے غلام تھے اور وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ادھر مشرکوں کے پرچم برادر جب ایک ایک کرکے ختم ہوگئے اور کوئی پرچم اٹھانے والا نہ رہا تو ان میں بددلی پھیل گئی، وہ پسپا ہونے لگے۔ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے۔ایسے میں وہ چیخ اور چلارہے تھے۔ ان کی عورتیں جو دیر پہلے جوش دلانے کے لیے اشعار پڑھ رہی تھیں، اپنے دف پھینک کر پہاڑ کی طرف بھاگیں۔ ان پر بدحواسی اس قدر سوار ہوئی کہ اپنے کپڑے نوچنے لگیں۔ مسلمانوں نے جب دشمن کو بھاگتے دیکھا تو ان کا پیچھا کرنے لگے، ان کے ہتھیاروں اور مال غنیمت پر قبضہ کرنے لگے۔ اب یہاں اس موقع پر ایک عجیب واقعہ رونما ہوگیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑی کے درے پر پچاس تیرانداز مقرر فرمائے تھے اور انہیں واضح طور پر ہدایت فرمائی تھی کہ وہ اپنی جگہ نہ چھوڑیں، ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ تھے، اس دستے نے جب کافروں کو بھاگتے دیکھا اور مسلمانوں کو مال غنیمت جمع کرتے دیکھا تو یہ بھی اپنی جگہ چھوڑنے لگے۔یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ بولے کہاں جارہے ہوں؟ ہمیں یہاں سے ہٹنا نہیں چاہیے ، اللہ کے رسول نے ہمیں ہدایت فرمائی تھی کہ اپنی جگہ جمے رہیں اور یہاں سے نہ ہٹیں۔ اس پر ان کے ساتھی بولے اب مشرکوں کو شکست ہوگئی ہے، اب ہم یہاں ٹھہر کر کیا کریں گے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ انہیں روکتے رہ گئے۔ لیکن وہ نہ مانے اور میدان میں چلے گئے۔لیکن حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ اور چند ساتھی البتہ وہی رکے رہے، ان کی تعداد دس سے بھی کم تھی۔ انہوں نے نیچے کا رخ کرنے والوں سے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہرگز نہیں کریں گے۔ اس طرح وہاں دس سے بھی کم مجاہد رہ گئے، اس وقت حضرت خالد بن ولید کی نظر درے پر پڑی۔ یہ کافروں کے ایک دستے کے سالار تھے۔ اور لشکر کے دائیں بازو پر مقرر تھے۔ شکست کے بعد یہ اس طرف سے پسپا ہو رہے تھے کہ درے پر نظر پڑی، جنگ کے دوران بھی یہ اس طرف سے بار بار حملہ کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے، لیکن پچاس تیرانداوں کے تیروں کی بوچھاڑ نے ان کی پیش قدمی روک دی تھی، اب انہوں نے دیکھا کہ وہاں پچاس کے بجائے چند مسلمان رہ گئے ہیں تو یہ اپنے دستے کے ساتھ ان پر حملہ آور ہوئے۔ ان کے دستے کے ساتھ ہی عکرمہ بن ابوجہل بھی اپنے دستے کے ساتھ اس طرف پلٹ پڑے۔ اس طرح پورے دو دستوں نے ان چند مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ ان کا یہ حملہ اس قدر زبردست تھا کہ پہلے ہی حملے میں حضرت عبداللہ ابن جبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی شہید ہوگئے۔ مشرکوں نے حضرت عبداللہ ابن جبیر رضی اللہ عنہ کی لاش کا مثلہ کیا۔ یعنی ان کے ناک، کان، ہاتھ اور پیر کاٹ ڈالے۔ ان کے جسم پر اتنے نیزے لگے تھے کہ پورا جسم چھلنی ہوکر رہ گیا تھا۔ لیکن آفرین ہے اس مرد مجاہد پر کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر وہاں سے نہ ہٹے۔ اب ان دونوں دستوں نے اس درے کی طرف سے مسلمانوں کی پشت پر اچانک بہت زور کا حملہ کیا۔مسلمان اس وقت مال غنیمت لوٹنے میں مصروف تھے۔ ان میں سے اکثر نے اپنی تلواریں نیام میں ڈال لی تھیں۔ اس تابڑ توڑ حملے نے انہیں بدحواس کردیا۔ کافر اس وقت پورے جوش کی حالت میں “یا ھبل یا عزیٰ” کے نعرے لگارہے تھے، یعنی اپنے بتوں کے نام پکار رہے تھے۔ مسلمان اس حملے سے اس قدر بدحواس ہوئے کہ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اس وقت تک انہوں نے جتنے کافروں کو قیدی بنالیا تھا یا جتنا مال غنیمت لوٹ چکے تھے وہ سب چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ مشرکوں کا پرچم اس وقت زمین پر پڑا تھا، ایک مشرک عورت بنت علقمہ کی نظر اس پر پڑی تو اس نے لپک کر اس کو اٹھا لیا اور بلند کردیا۔اب تک جو مشرک بھاگ رہے تھے، وہ بھی اپنے پرچم کو بلند ہوتے دیکھ کر پلٹ پڑے وہ جان گئے کہ جنگ کا پانسہ پلٹ چکا ہے۔اب سب دوڑ دوڑ کر اپنے پرچم کے گرد جمع ہونے لگے اور بدحواس مسلمانوں پر حملہ آور ہونے لگے۔ ایسے میں ایک مشرک ابن قمہ نے پکار کر کہا محمد قتل کردیئے گئے(معاذ اللہ)۔ اس خبر نے مسلمانوں کو اور زیادہ بدحواس کردیا۔