سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 74
عنوان: جب پروانے شمع رسالت پر نثار ہوئے
ایسے میں کسی صحابی نے کہا اب جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہوچکے ہیں تو ہم لڑ کر کیا کریں گے؟ اس پر کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں تو کیا تم اپنے نبی کے دین کے لیے لڑوگے، تاکہ تم شہید کی حیثیت سے اپنے خدا کے سامنے حاضر ہوں۔ حضرت ثابت بن وحداح رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا اے گروہ انصار! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں تو اللہ تعالیٰ تو زندہ ہے، اسے تو موت نہیں آسکتی۔ اپنے دین کے لیے لڑو، اللہ تعالیٰ فتح اور کامرانی عطا فرمائیں گے۔ یہ سنتے ہی انصار کے ایک گروہ نے مشرکوں کے اس دستے پر حملہ کردیا۔ جس میں خالدبن ولید، عکرمہ بن ابوجہل، عمرو بن عاص اور ضرار بن خطاب موجود تھے اور یہ چاروں زبردست جنگ جو تھے۔ انصار کے حملے کے جواب میں خالد بن ولید نے ان پر جوابی حملہ کیا۔اس جوابی حملے میں ابن وحداح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی شہید ہوگئے۔ بدحواسی کے عالم میں کچھ لوگ مدینہ کی طرف پلٹ پڑے تھے، ان کے راستے میں اُمّ ایمن رضی اللہ عنہ آگئیں۔ وہ بولیں مسلمانو! یہ کیا! تم پیٹ پھیر کر جارہے ہو؟ اس پر وہ پلٹ پڑے اور مشرکوں پر حملہ آور ہوئے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے تتر بتر ہوجانے کی وجہ سے مشرکوں کے ایک گروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سخت وقت میں بھی ثابت قدم رہے اور اپنی جگہ پر جمے رہے، اس عالم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمارہے تھے اے فلاں! میری طرف آؤ، اے فلاں! میری طرف آؤ، میں اللہ کا رسول ہوں۔ ہر طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بوچھاڑ ہورہی تھی، اس حالت میں ان تیروں سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی ۔اس نازک وقت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع رہی، یہ جماعت مشرکوں کے مسلسل حملوں کو روک رہی تھی۔ خود کو پروانوں کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کررہی تھی۔ ان میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ دشمن کے وار اپنی ڈھال پر روک رہے تھے۔ وہ بہت اچھے تیرانداز تھے، نشانہ بہت پختہ تھا۔ چنانچہ دشمنوں پر مسلسل تیر بھی چلارہے تھے اور کہتے جاتے تھے میری جان آپ پر فدا ہوجائے، میرا چہرہ آپ کے لیے ڈھال بن جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مسلمان کے ترکش میں تیر نظر آتے تو اس سے فرماتے اپنا ترکش ابوطلحہ کے سامنے الٹ دو۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس روز اس قدر تیراندازی کی کہ ان کے ہاتھ سے تین کمانیں ٹوٹ گئیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن کو دیکھنے کے لیے سر اوپر کرتے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہہ پکار اٹھتے اے اللہ کے رسول! آپ اپنا سر اوپر نہ کریں، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے۔ پھر خود پنجوں کے بل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل سامنے آجاتے تاکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ رہیں، کوئی تیر لگے تو مجھ کو لگے۔ اس دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کمان تھی، اس کا نام کتوم تھا۔ کمان کا ایک سرا ٹوٹ گیا تھا اور دست مبارک میں کمان کی بالشت بھر ڈوری رہ گئی تھی۔ حضرت عکاشہ ابن محصن رضی اللہ عنہ نے کمان کی ڈوری باندھنے کے لیے وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے لی مگر ڈوری تو چھوٹی ہوچکی تھی۔ اس پر انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول! ڈوری چھوٹی ہوگئی ہے، اس لیے بندھ نہیں سکتی۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کو کھینچو! پوری ہوجائے گی۔ عکاشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کی قسم! میں نے اس ڈوری کو کھینچا تو وہ کھینچ کر اتنی لمبی ہوگئی کہ وہ کمان کی دونوں سروں پر پوری آگئی۔ میں نے ایک سرے پر دو تین بل بھی دے دیئے اور پھر اس پر گرہ لگا دی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے، انہوں نے دشمنوں سے زبردست جنگ کی۔ان میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی تھے۔یہ بھی زبردست تیرانداز تھے۔ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیر اٹھا اٹھا کر مجھے دے رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے۔ اے سعد! تیراندازی کرتے جاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ وہ فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے مجھے ایک تیر ایسا بھی ملا جس کے سرے پر پھل (تیز دھار نوک والا حصہ) نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دیکھ لیا کہ تیر کا پھل نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہی تیر چلاؤ۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہہ نے دعا کرتے ہوئے کہا اے اللہ! یہ تیرا تیر ہے، تو اس کو دشمن کے سینے میں پیوست کردے۔ ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اے اللہ! سعد کی دعا قبول فرما۔ اے اللہ! اس کی تیراندازی کو درست فرما۔ پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا ترکش خالی ہوگیا، تیر ختم ہوگئے، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ترکش ان کے سامنے الٹ دیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ پھر تیر چلانے لگے، کہا جاتا ہے، حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات تھے، یعنی ان کی دعا قبول ہوتی تھی۔ ایک بار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا آپ کی دعائیں کیوں فوراً قبول ہوتی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا میں زندگی بھر کوئی لقمہ یہ جانے بغیر منہ تک نہیں لے گیا کی یہ کہاں سے آیا ہے؟ (مطلب یہ کہ ہمیشہ حلال کھایا ہے)۔ اس بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، جب بھی کوئی بندہ حرام لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو چالیس دن تک اس کی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں جس کا کمانا حرام ہو، جس کا پینا حرام ہو اور جس کا لباس حرام ہو، اس کی دعائیں کیسے قبول ہوسکتی ہیں؟ اس روز حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار تیر چلائے ۔ہر تیر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تیراندازی کرو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ جملہ حضرت سعد کے علاوه کسی اور کے لیے کہتے ہوئے نہیں سنا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ رشتہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں لگتے تھے، اس لیے ان کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے یہ سعد میرے ماموں ہیں، کوئی مجھے ایسا ماموں تو دکھائے۔ اس روز حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے بھی تیر چلائے جوکہ اس نازک وقت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنے والوں میں شامل تھے۔ حضرت زید بن عاصم رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت اُمّ عمارہ رضی اللہ عنہ اس روز مجاہدوں کو پانی پلارہی تھی، جب جنگ کا پانسہ پلٹا مسلمانوں کی فتح شکست میں بدلی تو یہ اس وقت بھی زخمیوں کو پانی پلا رہی تھی۔