سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 78
عنوان: شہداء احد کی تدفین
ان صحابی نے فوراً حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم تمہارا حال پوچھتے ہیں، زندوں میں ہو یا مردوں میں ہو حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے کہا میں اب مردوں میں ہوں۔ میرے جسم پر نیزوں کے بارہ زخم لگے ہیں، میں اس وقت تک لڑتا رہا جب تک کہ مجھ میں سکت باقی تھی۔ اب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا سلام عرض کرنا اور کہنا کہ ابن ربیع آپ کے لئے عرض کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری طرف سے وہی بہترین جزا عطا فرمائے جو ایک امت کی طرف سے اس کے نبی کو مل سکتی ہے، نیز میری قوم کو بھی میرا سلام پہنچادینا اور ان سے کہنا کہ سعد بن ربیع تم سے کہتا ہے کہ اگر ایسی صورت میں تم نے دشمن کو اللہ کے نبی تک پہنچنے دیا کہ تم میں سے ایک شخص بھی زندہ ہے تو اس جرم کے لئے اللہ کے ہاں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ یہ کہنے کے چند لمحے بعد ہی ان کی روح نکل گئی۔ وہ انصاری صحابی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ سعد پر رحمت فرمائے، اس نے صرف اللہ اور رسول کے لئے زندگی میں بھی اور مرتے وقت بھی (دونوں حالتوں میں) خیر خواہی کی ہے۔ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی دو صاحبزادیاں تھیں، ان کی ایک صاحبزادی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ایک مرتبہ ان سے ملنے کے لئے آئیں۔ آپ نے ان کے لئے چادر بچھادی۔ ایسے میں حضرت عمر رضٰی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ خاتون کون ہیں؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ اس شخص کی بیٹی ہے جو مجھ سے اور تم سے بہتر تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے خلیفہ رسول وہ کون شخص تھا؟ آپ نے فرمایا وہ شخص وہ تھا جو سبقت کرکے جنت میں پہنچ گیا، میں اور تم رہ گئے، یہ سعد بن ربیع کی صاحبزادی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا حضرت حمزہ رضٰی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے۔ اس وقت ایک شخص نے عرض کیا میں نے انہیں چٹانوں کے قریب دیکھا ہے، وہ اس وقت کہہ رہے تھے، میں اللہ کا شیر ہوں اور اس کے رسول کا شیر ہوں۔ اس کے بتانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان چٹانوں کی طرف چلے جہاں اس شخص نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا، آخری وادی کے درمیان میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا کی لاش نظر آئی۔ حالت یہ تھی کہ ان کا پیٹ چاک تھا اور ناک کان کاٹ ڈالے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ منظر بہت دردناک تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جیسا تکلیف دہ منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوب روئے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا روتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا جتنا آپ حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش پر روئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی الله عنہہ سے فرمایا اپنی والدہ کو اس طرف نہ آنے دینا، وہ پیارے چچا کی نعش دیکھنے نہ پائیں۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا تھا، وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ حکم سنتے ہی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے راستے پر پہنچ گئے۔ اس طرف سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا چلی آرہی تھیں، وہ انہیں دیکھتے ہی بولے ماں! آپ واپس چلی جائیں۔ اس پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے بیٹے کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کیوں چلی جاؤں؟ مجھے معلوم ہے کہ میرے بھائی کی لاش کا مثلہ کیا گیا ہے، مگر یہ سب خدا کی راہ میں ہوا ہے، میں انشاءاللہ صبر کا دامن نہیں چھوڑوں گی۔ ان کا جواب سن کر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کا جواب آپ کو بتایا، تب آپ نے فرمایا اچھا! انہیں آنے دو۔ چنانچہ انہوں نے آکر بھائی کی لاش کو دیکھا اناللہ واناالیہ وراجعون پڑھا اور ان کی مغفرت کی دعا کی۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حمزہ کے لیے کفن کا انتظام کرو۔ ایک انصاری صحابی آگے بڑھے۔ انہوں نے اپنی چادر ان پر ڈال دی۔ پھر ایک صحابی آگے بڑھا، انہوں نے بھی اپنی چادر ان پر ڈال دی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا جابر! ان میں سے ایک چادر تمہارے والد کے لیے اور دوسری چادر میرے چچا کے لیے ہوگی۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو بھی کفن کے لیے صرف ایک چادر ملی، وہ چادر اتنی چھوٹی تھی کہ سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے، پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سر کو چادر سے ڈھانپ دو اور پیروں پر گھاس ڈال دو۔ یہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ وہ تھے جو اسلام لانے سے پہلے قیمتی لباس پہنتے تھے، ان کا لباس خوشبوؤں سے مہکا کرتا تھا۔ آج ان کی میت کے لیے پورا کفن بھی میسر نہیں تھا۔ باقی شہداء کو اسی طرح کفن دیا گیا، ایک ایک چادر میں دو دو تین تین لاشوں کو لپیٹ کر ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء پر نماز جنازہ ادا فرمائی۔ غزوہ احد کے شہداء میں حضرت عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے ایک دن پہلے دعا کی تھی اے اللہ! کل کسی بہت طاقتور آدمی سے میرا مقابلہ ہو جو مجھے قتل کرے، پھر میری لاش کا مثلہ کرے، پھر میں قیامت میں تیرے سامنے حاضر ہوں تو تو مجھ سے پوچھے: اے عبداللہ! تیری ناک اور کان کس وجہ سے کاٹے گئے؟ تو میں کہوں گا کہ تیری اور تیرے رسول کی اطاعت وجہ سے اور اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائیں، تو نے سچ کہا۔ چنانچہ یہ اس لڑائی میں شہید ہوئے اور ان کی لاش کا مثلہ کیا گیا، لڑائی کے دوران ان کی تلوار ٹوٹ گئی تھی۔ تب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھجور کی ایک شاخ عطا فرمائی۔ وہ ان کے ہاتھ میں جاتے ہی تلوار بن گئی اور یہ اسی سے لڑے۔ اس جنگ میں حضرت جابر کے والد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر زخم آیا تھا۔ اس زخم کی وجہ سے جب ان کا آخری وقت آیا تو ان کا ہاتھ اس زخم پر تھا۔ جب ان کی لاش اٹھائی گئی اور ہاتھ کو زخم پر سے اٹھایا گیا تو زخم سے خون جاری ہوگیا۔ اس پر ان کے ہاتھ کو پھر زخم پر رکھ دیا گیا۔ جونہی ہاتھ رکھا گیا، خون بند ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہما کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ کافی مدت بعد احد کے میدان میں سیلاب آگیا، اس سے وہ قبر کھل گئی، لوگوں نے دیکھا کہ ان دونوں لاشوں میں ذرا بھی فرق نہیں آیا تھا، بالکل تروتازہ تھیں، یوں لگتا تھا جیسے ابھی کل ہی دفن کی گئی ہوں، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اسی طرح اس زخم پر تھا، کسی نے ان کا ہاتھ ہٹادیا، ہاتھ ہٹاتے ہی خون جاری ہوگیا، چنانچہ پھر زخم پر رکھ دیا گیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں میدان احد سے ایک نہر کھدوائی، یہ نہر شہداء کی قبروں کے درمیان سے نکالی گئی، اس لیے انہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنے اپنے مردوں کو ان قبروں سے نکال کر دوسری جگہ دفن کردیں، لوگ روتے ہوئے وہاں پہنچے، انہوں نے قبروں میں سے لاشوں کو نکالا تو تمام شہداء کی لاشیں بالکل تروتازہ تھیں، نرم، ملائم تھیں۔ ان کے تمام جوڑ نرم تھے۔ اور یہ واقعہ غزوہ احد کے چالیس سال بعد کا ہے، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش نکالنے کے لیے ان کی قبر کھودی جارہی تھی تو ان کے پاؤں میں کدال لگ گئی۔