سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 83
عنوان: آسمانی گواہی
حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو چہرہ مبارک پر تکلیف کے آثار ظاہر ہوتےتھے۔ یہ بات محسوس کرتے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑا اوڑھا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے نیچے ایک تکیہ رکھ دیا۔ سید عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے آثار دیکھے تو میں نے کوئی گھبراہٹ محسوس نہیں کی، کیونکہ میں بے گناہ تھی، البتہ میرے والدین پر بے تحاشہ خوف طاری تھا، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کے آثار ختم ہوئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر پسینے کے قطرے چمک رہےتھے، دوقطرے موتیوں کی طرح نظر آرہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پہلا جملہ فرمایا، وہ یہ تھا عائشہ! اللہ تعالی نے تمہیں بری کردیا ہے۔ اللہ تعالی نے اس موقع پر سورۃ نور کی آیت نازل فرمائی تھی ترجمہ: جن لوگوں نے یہ طوفان برپا کیا ہے (یعنی تہمت لگائی ہے) اے مسلمانوں! وہ تم میں سے ایک چھوٹا سا گروہ ہے، تم اس (طوفان) کو برانہ سمجھو، بلکہ یہ انجام کے اعتبار سے تمہارے حق میں بہتر ہی بہتر ہے، ان میں سے ہر شخص نے جتنا کچھ کہا تھا، اسے اسی کے مطابق گناہ ہوا اور ان میں سے جس نے اس طوفان میں سب سے زیادہ حصہ لیا (عبد اللہ بن ابی) اسے (زیادہ) سخت سزاملے گی۔ جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنے آپس والوں کے ساتھ نیک گمان کیوں نہ کیا اور زبان سے یہ کیوں نہ کہا کہ یہ صریح جھوٹ ہے۔ یہ الزام لگانے والے اپنے قول پر چار گواہ کیوں نہ لائے، سو قاعدے کےمطابق یہ لوگ چار گواہ نہیں لائے تو بس اللہ کے نزدیک یہ جھوٹے ہیں اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل نہ ہوتا تو جس کام میں تم پڑے تھے اس میں تم پر سخت عذاب واقع ہوتا۔ جب کہ تم اس جھوٹ کو اپنی زبانوں سے نقل درنقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کر رہے تھے، جس کی تمہیں کسی دلیل سے قطعاً خبر نہیں تھی اور تم اس کی ہلکی بات (یعنی گناہ واجب نہ کرنے والی) سمجھ رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بھاری بات ہے-اور تم نے جب (پہلی بار) اس بات کوسناتو یوں کیوں نہ کہا کہ ہمیں زیبا نہیں کہ ایسی بات منہ سے نکا لیں۔ معاذاللہ! یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر ایسی حرکت مت کرنا، اگر تم ایمان والے ہو۔ اللہ تم سے صاف احکام بیان کرتاہے اور اللہ جاننے والا، بڑا حکمت والاہے۔ جو لوگ (ان آیت کے نزول کے بعد بھی) چاہتے ہیں کہ بے حیائی کی بات کا مسلمانوں میں چرچاہو، ان کے لئے دنیا وآخرت میں سزا درد ناک مقرر ہےاور (اس بات پر سزاکا تعجب مت کرو) کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اے توبہ کرنے والو! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ کا فضل وکرم ہے (جس نے تمہیں توبہ کی توفیق دی) اور یہ کہ اللہ تعالیٰ بڑا شفیق، بڑارحیم ہے (توتم بھی وعید سے نہ بچتے) (سورہ نور آیات11تا20)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان آیات کہ نزول سے پہلےمیں نے خواب دیکھاتھا، خواب میں ایک نوجوان نے مجھ سے پوچھا، کیابات ہے، آپ کیوں غمگین رہتی ہیں، میں نے اسے بتایاکہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، میں اس کی وجہ سے غمگین ہوں۔ تب اس نوجوان نے کہا کہ آپ ان الفاظ میں دعاء کریں ترجمہ: اے نعمتوں کی تکمیل کرنے والے اور آئے غموں کو دور کرنے والے، پریشانیوں کو دور کرنے والے، مصیبتوں کے اندھیرے سے نکالنے والے، فیصلوں میں سب سے زیادہ انصاف کرنے والے اور ظالم سے بدلہ لینے والے، اور اے اوّل اور اے آخر! میری اس پریشانی کو دور فرما دے اور میرے لیے گلو خلاصی کی کوئی راہ نکال دے۔ دعاء سن کر میں نے کہا، بہت اچھا، اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی، میں ان الفاظ میں دعاء کی، اس کے بعد میرے لیے برأت کے دروازے کھول دیئے گئے۔ الزام لگانے والوں میں مسطح رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کی خبر گیری کرتے تھے، انہوں نے ہی انکی پرورش کی تھی، لیکن یہ بھی الزام لگانے والوں میں شامل ہوگئے،جب اللہ تعالی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بری فرما دیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے مسطح رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر سے نکال دیا اور ان سے کہا اللہ کی قسم آئندہ میں کبھی بھی تم پر اپنا مال خرچ نہیں کروں گا،نا تمہارے ساتھ کبھی محبت اور شفقت کا برتاؤ کروں گا۔ اس پر اللہ تعالی نے سورۃ النور کی یہ آیت نازل فرمائی ترجمہ: اور جو لوگ تم میں (دینی) بزرگی اور (دنیاوی) وسعت والے ہیں، وہ قرابت داروں کو اور مسکینوں کو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دینے کی قسم نہ کھا بیٹھیں، بلکہ چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم یہ بات نہیں چاہتے کہ اللہ تعالی تمہارے قصور معاف کردے، بے شک اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔ اس آیت کے نزول پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کردے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ کی قسم! میں یقینا چاہتا ہوں کہ میری مغفرت ہوجائے۔ پھر وہ مسطح رضی اللہ عنہٗ کے پاس گئے ان کا جو وظیفہ بند کر دیا تھا اس کو پھر سے جاری کردیا، نہ صرف جاری کر دیا بلکہ دوگنا کردیا اور کہا آئندہ میں کبھی مسطح کا خرچ بند نہیں کروں گا۔ انہوں نے اپنی قسم کا کفارہ بھی ادا کیا۔ اسی غزوہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار دو مرتبہ گم ہوا تھا، پہلی بار جب ہار گم ہوا تو اس کی تلاش کے سلسلے میں سب لوگ رکے رہے، اسی دوران صبح کی نماز کا وقت ہو گیا، اس وقت مسلمان کسی چشمے کے قریب نہیں تھے،اس لیے پانی کی تنگی تھی، جب لوگوں کو تکلیف ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ڈانٹا، اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں سر رکھ کر سو رہے تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سب لوگوں کی منزل کھوٹی کر دی، نہ یہاں لوگوں کی پاس پانی ہے، نہ قریب میں کوئی چشمہ ہے۔ یہ کہنے کے ساتھ ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیٹی کی کمر پر ٹوکے بھی مارے،ساتھ ہی وہ کہتے جاتے تھے لڑکی! تو سفر میں تکلیف کا سبب بن جاتی ہے،لوگوں کے پاس ذرا سا بھی پانی نہیں ہیں ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس موقع پر میں اپنے جسم کو حرکت سے روکے رہی، کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھے سو رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوتے تھے تو کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار نہیں کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بیدار ہوتے تھے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس نیند میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہورہا ہے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے وقت بیدار ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے لیے پانی طلب فرمایا تو بتایا گیا کہ پانی نہیں ہے، اس وقت اللہ تعالی نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا بیٹی! جیسا کہ تم خود بھی جانتی ہو، تم واقعی مبارک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا عائشہ! تمہارا ہار کس قدر مبارک ہے۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا اے آلِ ابی بکر! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں، اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے، آپ کے ساتھ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے خیر پیدا فرما دیتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ہار کی تلاش کے سلسلے میں ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا، جس پر میں سوار تھیں تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا۔ مطلب یہ کہ اس واقعہ کی وجہ سے مسلمانوں کو تیمم کی سہولت عطا ہوئی، اس سے پہلے مسلمانوں کو تیمم کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ اس واقعہ کے بعد جب آگے سفر ہوا تو منافقین کی سازش کا وہ واقعہ پیش آیا جو آپ نے پیچھے پڑھا۔ اسی سال چاند کو گرہن لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خسوف پڑھائی یعنی چاند گرہن کی نماز پڑھائی، جبکہ یہودی اس وقت زور زور سے ڈھول بجا رہے تھے اور کہہ رہے تھے چاند پر جادو کردیا گیا ہے۔