سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر 86
عنوان: غزوہ بنی قریظہ
اس کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا اللہ تعالی نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اسی وقت بنو قریظہ کے مقابلے کے لیے کوچ کریں، میں بھی وہیں جارہا ہوں۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کرایا ہر اطاعت گزار شخص عصر کی نماز بنو قریظہ کے محلے میں پہنچ کر پڑھے۔ اس اعلان سے مراد یہ تھی کہ روانہ ہونے میں دیر نہ کی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی فوراً ہتھیار لگائے، زرہ بکتر پہنی، اپنا نیزہ دست مبارک میں لیا، تلوار گلے میں ڈالی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ہتھیار لگائے گھوڑوں پر موجود تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد تین ہزار تھی، ان میں 36 گھڑ سوار تھے، ان میں بھی تین گھوڑے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے، اس غزوہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ اپنا قائم مقام مقرر فرمایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے آگے حضرت علی رضی اللہ عنہ پرچم لیے ہوئے بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ چونکہ آگے روانہ ہوئے تھے، اس لیے پہلے وہاں پہنچے، انہوں نے مہاجرین اور انصار کے ایک دستے کے ساتھ بنو قریظہ کے قلعے کے سامنے دیوار کے نیچے پرچم نصب کیا، ایسے میں یہودیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا شروع کیا، اس پر حضرت علی اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو غصہ آگیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں یہودیوں کی بدزبانی کے بارے میں بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پوری آبادی کو گھیرے میں لینے کا حکم دے دیا، یہ محاصرہ پچیس دن تک جاری رہا ۔یہودی اس محاصرے سے تنگ آگئے، اور آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوگئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں باندھنے کا حکم فرمایا۔ ان کی مشکیں کس دی گئیں، ان کی تعداد چھ سو یا ساڑھے سات سو تھی، انہیں ایک طرف جمع کردیاگیا ۔یہ سب وہ تھے جو لڑنے والے تھے، ان کے بعد یہودی عورتوں اور بچوں کو حویلیوں سے نکال کر ایک طرف جمع کیا گیا، ان بچوں اور عورتوں کی تعداد ایک ہزار تھی، ان پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو نگران بنایا گیا۔ اب یہ لوگ بار بار آپ کے پاس آکر معافی مانگنے لگے ۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر رضامند ہو کہ تمہارے معاملے کا فیصلہ تمہارا ہی (منتخب کیا ہوا) کوئی آدمی کردے ، انہوں نے جواب دیا سعد بن معاذ (رضی اللہ عنہ) جو فیصلہ بھی کردیں، ہمیں منظور ہے۔ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ مسلمان ہونے سے پہلے ان یہودیوں کے دوست اور ان کے نزدیک قابل احترام شخصیت تھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات مان لی، سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ غزوہ خندق میں شدید زخمی ہوگئے تھے، وہ اس وقت مسجد نبوی کے قریب ایک خیمے میں تھے، اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انھیں بنو قریظہ کی آبادی میں لایا گیا، ان کی حالت بہت خراب تھی ۔آخر وہ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کے پاس پہنچ گئے، انہیں ساری بات بتائی گئی، اس پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا فیصلے کا حق تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے یا پھر اللہ کے رسول کو ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ ہی نے تمہیں حکم دیا ہے کہ یہود کے بارے میں فیصلہ کرو۔ اب انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے، ان کا مال اور دولت مال غنیمت کے طور پر لے لیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو غلام اور لونڈیاں بنالیا جائے۔ (حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہودیوں سے اپنی سابقہ دوستی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اتنا سخت فیصلہ اس لیے سنایا تھا کہ ان یہودیوں کا ظلم و ستم اور ان کی فتنہ انگیزی حد سے بڑھ گئی تھی، اگر انہیں یوں ہی زندہ چھوڑ دیا جاتا تو یقینی طور پر یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف بدترین سازشیں کرتے رہتے۔ ان کا مزاج بچھو اور سانپ کی مانند ہوچکا تھا، جو کبھی ڈسنے سے باز نہیں آسکتا، اس لیے ان کا سر کچلنا ضروری تھا)۔ ان کا فیصلہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ سنایا ہے، اس فیصلے کی شان بہت اونچی ہے، آج صبح سحر کے وقت فرشتے نے آکر مجھے اس فیصلے کی اطلاع دے دی تھی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بنو قریظہ کی حویلیوں میں جو کچھ مال اور ہتھیار وغیرہ ہیں، سب ایک جگہ جمع کردیے جائیں۔ چنانچہ سب کچھ نکال کر ایک جگہ ڈھیر کردیا گیا، اس سارے سامان میں پندرہ سو تلواریں اور تین سو زرہیں تھیں۔دو ہزار نیزے تھے، اس کے علاوہ بےشمار دولت تھی، مویشی بھی بے تحاشا تھے، سب چیزوں کے پانچ حصے کیے گئے، ان میں سے چار حصے سب مجاہدین میں تقسیم کیے گئے، یہاں شراب کے بہت سے مٹکے بھی ملے، ان کو توڑ کر شراب کو بہادیا گیا، اس کے بعد یہودی قیدیوں کو قتل کردیا گیا، قتل ہونے والوں میں ان کا سردار حئ بن اخطب بھی تھا۔بچوں اور عورتوں کو غلام اور لونڈی بنالیا گیا۔
اس واقعہ کے بعد حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ غزوہ خندق میں لگنے والے زخموں کے باعث شہید ہوگئے، ان کے جنازے میں فرشتوں نے بھی شرکت کی، انہیں دفن کیا گیا تو قبر سے خوشبو آنے لگی۔ قیدی عورتوں کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورتیں فروخت کی جائیں، اپنے بچوں سے جدا نہ کی جائیں (یعنی جہاں ماں رہے، وہیں اس کے بچے رہیں، جب تک کہ بچہ جوان نہ ہوجائیں) اگر کوئی شخص اپنی لونڈی کو فروخت کرنا چاہے تو اسے اس کے بچے سے جدا نہ کرے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو ہزیل سے ان کی ناپاک حرکت کا انتقام لینے کا ارادہ فرمایا، بنو ہذیل نے رجیع کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شہید کیا تھا، یہ لوگ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور درخواست کی تھی کہ ان کے علاقے میں اسلام کی تعلیم کے لیے کچھ حضرات کو بھیج دیا جائے۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دس صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے ساتھ روانہ فرمایا، ان لوگوں نے انہیں دھوکے سے شہید کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مظلومانہ شہادت کا بے حد رنج تھا۔ چنانچہ ان لوگوں کو سزا دینے کا فیصلہ فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تیاری کا حکم فرمایا، پھر لشکر کو لے کر روانہ ہوئے۔ بظاہر تو شام کی طرف کوچ کیا تھا، مگر اصل مقصد بنو ہزیل کے خلاف کاروائی تھی، منزل کو اس لیے خفیہ رکھا گیا تاکہ دشمنوں کو جاسوسوں کے ذریعے پہلے سے معلوم نہ ہو اور مسلمان ان ظالموں پر بے خبری میں جاپڑیں۔ مدینہ منوره میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قائم مقام حضرت عبداللہ بن اُمّ مکتوم کو مقرر فرمایا۔ اس غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کافی تعداد میں صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، ان میں سے بیس گھوڑوں پر سوار تھے۔ پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر پہنچے، جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شہید کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی، ادھر کسی طرح بنو ہزیل کو پتہ چل گیا کہ مسلمان ان پر حملہ کرنے کے لیے آرہے ہیں۔ وہ ڈر کے مارے پہاڑوں میں جا چھپے، جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے فرار کا پتہ چلا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مختلف سمتوں میں روانہ فرمایا لیکن ان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔ آخر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے، اس غزوہ کو غزوہ بنی لحیان کہا جاتا ہے۔ راستے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ابواء کے مقام سے گذرے، یہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کو دفن کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں تو اپنی والدہ کی قبر نظر آگئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دو رکعت نماز ادا کی، پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی روپڑے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے، ابھی چند راتیں ہی گذریں تھیں کہ خبر ملی، عیینہ ابن حصین نے کچھ سواروں کے ساتھ مل کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چراگاہ پر چھاپا مارا، اس چراگاہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس اونٹ تھے، اونٹوں کی حفاظت کے لیے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے، اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی بیوی بھی وہاں تھیں۔ ان حملہ آوروں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو قتل کردیا۔ اس واقعہ کا سب سے پہلے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا، وہ اپنی کمان اٹھائے صبح ہی صبح چراگاہ کی طرف جارہے تھے، ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا، وہ ان کا، گھوڑا لے کر آیا تھا اور لگام سے پکڑ کر اسے ہنکارہا تھا، راستے میں ان کی ملاقات حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام سے ہوئی۔ اس نے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ عیینہ بن حصین نے کچھ سواروں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چراگاہ پر چھاپہ مارا ہے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لے گئے ہیں، چراگاہ کے محافظ کو انہوں نے قتل کردیا اور ایک خاتون کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔ یہ سنتے ہی حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام سے کہا اس گھوڑے پر بیٹھ کر روانہ ہوجاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کردو۔ غلام تو اسی وقت روانہ ہوگی، ساتھ ہی سلمہ رضی اللہ عنہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر پکارے لوگو! دوڑو، کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لے اڑے ہیں۔ یہ اعلان تین بار دہرا کر وہ اکیلے ہی لٹیروں کی طرف دوڑ پڑے۔