0

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 90 عنوان: فتح مبین

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

قسط نمبر  90

عنوان: فتح مبین

اس وقت تک حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق وہ عبارت لکھ چکےتھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اس کو مٹادو (یعنی لفظ رسول اللہ کو مٹادو)۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں تو کبھی نہيں مٹاسکتا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا مجھے دکھاؤ، یہ لفظ کس جگہ لکھاہے؟ حضرت علی رضی اللّہ عنہ نے لفظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے اسے مٹادیا اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لکھنے کا حکم فرمایا، لکھو یہ وہ سمجھوتا ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے سہیل بن عمرو کے ساتھ صلح کی۔ اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں، چاہے تم مجھے جھٹلاتے رہو اور میں ہی محمد ابن عبداللہ ہوں۔ یہ معاہدہ ابھی لکھا جارہاتھا کہ اچانک ایک مسلمان حضرت ابو جندل ابن سہیل رضی اللہ عنہ اپنی بیڑیوں کو کھینچتے وہاں تک آپہنچے۔ مشرکوں نے انھیں قید میں ڈال رکھاتھا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ اسلام کیوں قبول کیا، اسلام چھوڑ دو یا پھر قید میں رہو، یہ ابو جندل رضی اللہ عنہ اسی سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے جو معاہدہ طے کررہاتھا۔ یہ کسی طرح قید سے نکل کر وہاں تک آگئے تھے تاکہ اس ظلم سے نجات مل جائے۔ انہیں دیکھ کر سب مسلمان خوش ہوگئے اور جان بچا کر نکل آنے پر انھیں مبارکباد دینے لگے۔ ادھر جونہی سہیل نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو یک دم کھڑا ہوا، اور ایک زناٹے دار تھپڑ ان کے منہ پر دے مارا۔ یہ بھی روایت آئی ہے کہ اس نے انھیں چھڑی سے مارا پیٹا۔ مسلمان ان کی یہ حالت دیکھ کر رو پڑے۔ اب سہیل نے انھیں گریبان سے پکڑ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بولا اے محمد! یہ پہلا مسلمان ہے جو ہم لوگوں کے پاس سے یہاں آگیا ہے، اس معاہدے کے تحت آپ اسے واپس کریں، کیونکہ یہ معاہدہ لکھا جاچکاہے۔ اس کی بات سن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے، لے جاؤ۔ اس پر ابوجندل رضی اللہ عنہ بےقرار ہو کر بولے کیا آپ مجھے پھر ان مشرکوں کے ساتھ واپس بھیج دینگے؟ اسلام لانے کی وجہ سے حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ پر بہت ظلم ڈھائے گئے تھے۔ لہذا اس صورت حال پر سب لوگ بری طرح بے چین ہوگئے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ابوجندل! صبر اور ضبط سے کام لو، اللہ تعالٰی تمہارے لیے اور تم جیسے اور مسلمانوں کے لیے کشادگی اور سہولت پیدا فرمانے والا ہے، ہم قریش سے ایک معاہدہ کرچکے ہیں ۔اس معاہدے کی رو سے ہم تمہیں واپس بھیجنے کے پابند ہیں ۔ہم نے انہیں اللہ کے نام عہد دیا ہے لہٰذا اس کی خلاف ورزی ہم نہیں کریں گے۔ مسلمانوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے… وہ بےتاب ہوگئے… حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے شخص بھی رو پڑے… لیکن معاہدے کی وجہ سے سب مجبور تھے۔ اس طرح ابوجندل رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیا گیا۔ ابوجندل رضی اللہ عنہ کا اصل نام عاص تھا۔ ابوجندل ان کی کنیت تھی، ان کے ایک بھائی عبداللہ بن سہیل تھے جو کہ ان سے بھی پہلے مسلمان ہوچکے تھے۔ عبداللہ بن سہیل رضی اللہ عنہ اس طرح مسلمان ہوئے تھے کہ مشرکوں کے ساتھ بدر کے میدان میں مسلمانوں سے لڑنے کے لیے آئے تھے… لیکن بدر کے میدان میں آتے ہی یہ کافروں کا ساتھ چھوڑ کر مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوگئے تھے۔ اس معاہدے کے بعد بنو خزاعہ کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوست قبیلے کی حیثیت سے شامل ہوگئے، یعنی مسلمانوں کے حلیف بن گئے۔ معاہدہ لکھا جاچکا تو دونوں کی طرف سے اہم لوگوں نے اس پر بطور گواہ دستخط کیے، معاہدے سے فارغ ہوکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوانے اور قربانی کا حکم فرمایا۔ بلکہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوایا اور قربانی کی، پھر تمام مسلمانوں نے بھی ایسا کیا۔ پھر جب مسلمان اس مقام سے واپس روانہ ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ فتح نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں یہ خوش خبری سنائی کہ بے شک آپ کو ایک کھلی فتح دے دی گئی اور اللہ کی نعمت آپ پر تمام ہونے والی ہے۔ سفر کے دوران ایک مقام پر خوراک ختم ہوگئی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر بچھانے کا حکم فرمایا۔ پھر حکم فرمایا کہ جس کے پاس جو کچھ بچا کچا کھانا ہو، اس چادر پر ڈال دے۔ صحابہ کرام رضی الله عنہہ نے ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ پھر سب کو حکم دیا، اس چادر سے اپنے اپنے برتن بھر لیں، چنانچہ سب نے برتن بھرلیے، خوب سیر ہوکر کھایا، لیکن کھانا جوں کا توں بچارہا۔ اس موقع پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور ارشاد فرمایا: “اَشهدُ اَنٌ لَا اِلٰہ اِلااللہ وَاِنّی رَسُوْلُ اللّٰه” اللہ کی قسم ان دو گواہیوں کے ساتھ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگا، دوزخ سے محفوظ رہے گا۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ فتح نازل ہوئی تو جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ کو یہ فتح مبارک ہو۔ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسلام میں صلح حدیبیہ سے بڑی مسلمانوں کو کوئی فتح نہیں ہوئی۔ یعنی یہ اس قدر بڑی فتح تھی… جب کہ لوگ اس کی حقیقت کو اس وقت بالکل نہیں سمجھ سکے تھے، جب معاہدہ لکھا جارہا تھا۔ سہیل بن عمرو جنہوں نے یہ معاہدہ لکھا تھا… بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔ حجتہ الودع کے موقع پر انہیں اس جگہ پر کھڑے دیکھا گیا تھا جہاں قربانیاں کی جاتی ہیں۔ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کے جانور پیش کررہے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے انہیں ذبیح کررہے تھے۔ اس کے بعد سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا سر منڈانے کے لیے حجام بلایا۔ اس وقت یہ منظر دیکھا گیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بال بھی گرتا تھا، سہیل بن عمرو اسے اپنی آنکھوں سے لگاتے تھے۔ اندازہ لگایئے ان میں کس قدر زبردست تبدیلی آچکی تھی… صلح حدیبیہ کے موقع پر وہ رسول اللہ کا لفظ لکھے جانے پر طیش میں آگئے تھے اور اب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کو آنکھوں سے لگا رہے تھے۔ اسی سال چھ ہجری کو شراب حرام ہوئی، حکم آنے پر لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ دیے اور شراب بارش کے پانی کی طرح نالیوں میں بہتی نظر آئی۔  

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں