0

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 91 عنوان: خیبر کی فتح

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

قسط نمبر  91

عنوان: خیبر کی فتح

خیبر ایک بڑا قصبہ تھا۔ اس میں یہودیوں کی بڑی بڑی حویلیاں، کھیت اور باغات تھے۔ یہ یہودی مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے اور اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ مدینہ منوره سے خیبر کا فاصلہ 150 کلومیٹر کا ہے۔ حدیبیہ سے تشریف لانے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک یا اس سے کچھ کم مدت تک یعنی ذی الحجہ 6 ہجری کے آخر تک مدینہ ہی میں رہے اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے صرف ان لوگوں کو چلنے کا حکم فرمایا جو حدیبیہ میں بھی ساتھ تھے، جو لوگ حدیبیہ کے سفر میں نہیں گئے تھے، انہوں نے بھی چلنے کا ارادہ ظاہر کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے ساتھ چلنا ہے تو صرف جہاد کے ارادے سے چلو، مال غنیمت میں سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ مدینہ منوره سے روانہ ہوتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سباع بن عرفط رضی اللہ عنہ کو مدینہ منوره میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا۔ اس غزوے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بھی ہمراہ تھیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر کے سامنے پہنچے تو یہ صبح کا وقت تھا۔حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے پیچھے تھا۔ ایسے میں میں نے “لاحول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم” پڑھا۔ میرے منہ سے یہ کلمہ سن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عبداللہ! کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتادوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہیں۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ضرور بتایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ یہی کلمہ ہے جو تم نے پڑھا ہے، یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے اور یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ خیبر کے لوگوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لشکر کو دیکھا تو چیختے چلاتے میدانوں اور کھلی جگہوں میں نکل آئے اور پکار اٹھے۔ محمد! ایک زبردست لشکر لے کر آگئے ہیں۔ یہودیوں کی تعداد وہاں تقریباً دس ہزار تھی، اور وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ مسلمان ان سے مقابلہ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوں گے۔جب مسلمان جنگ کی تیاری کررہے تھے تو اس وقت بھی حیران ہو ہو کر کہہ رہے تھے حیرت ہے… کمال ہے… نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے ان قلعوں میں سے سب سے پہلے ایک قلعہ نطات کی طرف توجہ فرمائی اور اس کا محاصرہ کرلیا۔ اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد بھی بنوائی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جتنے دن خیبر میں رہے، اسی مسجد میں نماز ادا فرماتے رہے۔ اس جنگ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زرہیں پہن رکھی تھیں اور گھوڑے پر سوار تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کا نام ظرب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں نیزه اور ڈھال بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کو پرچم دیا۔ وہ پرچم اٹھائے آگے بڑھے۔ انہوں نے زبردست جنگ کی، لیکن ناکام لوٹ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرچم ایک دوسرے صحابی کو دیا، وہ بھی ناکام لوٹ آئے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے بھائی محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ قلعہ کی دیوار کے نیچے تک پہنچ گئے۔ لیکن اوپر سے مرحب نامی یہودی نے ان کے سر پر ایک پتھر دے مارا اور وہ شہید ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ قلعہ کی دیوار کے قریب انہوں نے بہت سخت جنگ کی تھی، جب بالکل تھک گئےتو اس قلعہ کی دیوار کے سائے میں دم لینے لگے۔ اسی وقت اوپر سے مرحب نے پتھر گرایا تھا۔ قلعہ نطات کے لوگ سات دن تک برابر جنگ کرتے رہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ محمد بن مسلم رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر جنگ کے لیے نکلتے رہے۔ پڑاؤ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نگراں بناتے۔ شام کے وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ واپس آجاتے۔ زخمی مسلمان بھی وہیں پہنچا دیے جاتے۔ رات کے وقت ایک دستہ لشکر کی نگرانی کرتا، باقی لشکر سوجاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نگرانی کرنے والے دستے کے ساتھ گشت کے لیے نکلتے۔ کئی روز تک جب قلعہ فتح نہ ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا آج میں پرچم اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں، اور وہ پیٹھ دکھانے والا نہیں، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائیں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے بھائی کے قاتل پر قابو عطا فرمائے گا۔ صحابہ کرام نے جب یہ اعلان سنا تو ہر ایک نے چاہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پرچم اسے دیں، مگر پھر رسول اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا۔ ان دنوں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ چنانچہ لوگوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ ان کی تو آنکھیں دکھنے آئی ہوئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ کوئی انہیں میرے پاس لے آئے، تب حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ گئے اور انہیں لے آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا سر اپنی گود میں رکھا اور پھر ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈالا۔ لعاب کا آنکھوں میں لگنا تھا کہ وہ اسی وقت ٹھیک ہوگئیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان میں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد زندگی بھر میری آنکھوں میں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرچم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مرحمت فرمایا اور ارشاد فرمایا جاؤ اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پرچم کو لہراتے ہوئے قلعہ کی طرف روانہ ہوئے، پھر قلعہ کے نیچے پہنچ کر انہوں نے جھنڈے کو نصب کردیا، قلعہ کے اوپر بیٹھے ہوئے ایک یہودی نے انہیں دیکھ کر پوچھا تم کون ہو؟ جواب میں انہوں نے فرمایا میں علی ابن ابی طالب ہوں۔ اس پر یہودی نے کہا تم لوگوں نے بہت سر اٹھایا ہے، حالانکہ حق وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ پھر یہودی قلعہ سے نکل کر ان کی طرف بڑھے، ان میں سب سے آگے حرش تھا۔وہ ایک مرحب کا بھائی تھا۔ یہ شخص اپنی بہادری کے سلسلے میں بہت مشہور تھا، اس نے نزدیک آتے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کا وار روکا اور جوابی حملہ کیا، اس طرح دونوں کے درمیان تلوار چلتی رہی۔ آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے خون میں نہلادیا… اس کے گرتے ہی مرحب آگے آیا۔یہ اپنے بھائی سے زیادہ بہادر اور جنگ جو تھا۔ آتے ہی اس نے زبردست حملہ کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تلوار کا وار کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی تلوار کو اپنی ڈھال پر روکا… حملہ اس قدر سخت تھا کہ ڈھال ان کے ہاتھ سے نکل کر دور جاگری۔ مرحب اس وقت دو زرہیں پہننے ہوئے تھا، دو تلواریں لگا رکھی تھی اور عمامے بھی دو پہن رکھے تھے۔ ان کے اوپر خود پہن رکھا تھا۔ دیکھنے کے لیے خود میں آنکھوں کی جگہ دو سوراخ کررکھے تھے، اس کے ہاتھ میں نیزہ تھا، اس میں تین پھل لگے تھے۔ اب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر وار کیا اور ان کی تلوار اسے کاٹتی چلی گئی۔ اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا۔مرحب کے بعد اس کا بھائی یاسر آگے آیا۔ وہ آگے آکر للکارا کون ہے جو میرے مقابلے میں آئے گا۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے آگے آئے اور اسے ٹھکانے لگادیا۔ خیبر کی جنگ ہورہی تھی کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کا نام اسود راعی تھا اور وہ یہودی تھا۔ ایک شخص کا غلام تھا۔ اس کی بکریاں چراتا ہوا اس طرف آگیا تھا، اس نے کہا اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں بتایئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر طور پر اسلام کی خوبیاں بیان فرمائیں اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی، اس نے فوراً کلمہ پڑھ لیا۔ اس کے بعد یہ اسود راعی رضی اللہ عنہ تلوار لے کر مسلمانوں کے ساتھ قلعہ کی طرف بڑھے اور جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ جب ان کی لاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس غلام کو بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ اسود رضی اللہ عنہ کس قدر خوش قسمت تھے، نہ کوئی نماز پڑھی، نہ روزہ رکھا… نہ حج کیا، لیکن پھر بھی جنت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ آخر یہ قلعہ فتح ہوگیا۔اس قلعے کے محاصرے کے دوران مسلمانوں کو کھانے کہ تنگی ہوگئی۔ وہ بھوک سے بے حال ہونے لگے، لوگوں نے اس تنگی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! ان قلعوں میں سے اکثر قلعوں کو فتح کرا کہ ان میں رزق اور گھی کی بہتات ہو۔

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں