0

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 98 عنوان: مکہ کی طرف کوچ

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

قسط نمبر  98

عنوان: مکہ کی طرف کوچ

انہوں نے اس عورت سے پوچھا وہ خط کہاں ہے۔ اس نے قسم کھاکر کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ آخر اسے اونٹ سے نیچے اتارا گیا۔ تلاشی لی گئی مگر خط نہ ملا۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں قسم کھاکر کہتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی غلط بات نہیں کہتے۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ یہ لوگ کسی طرح نہیں مانیں گے تو اس نے اپنے سر کے بال کھول ڈالے اور ان کے نیچے چھپا ہوا خط نکال کر انہیں دے دیا۔ بہرحال ان حضرات نے خط لاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ خط حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہہ نے لکھا تھا اور اس میں درج تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی تیاری شروع کردی ہے اور یہ تیاری ضرور تم لوگوں کے خلاف ہے۔ میں نے مناسب جانا کہ تمہیں اطلاع دے کر تمہارے ساتھ بھلائی کروں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا۔ انہیں خط دکھایا اور پوچھا حاطب! اس خط کو پہچانتے ہو؟ جواب میں انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں پہچانتا ہوں، میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے! میرا قریش سے کوئی تعلق نہیں، جب کہ آپ کے ساتھ جو مہاجرین مسلمان ہیں، ان سب کی قریش کے ساتھ رشتے داریاں ہیں، اس وجہ سے مشرک ہونے کے باوجود وہاں موجود ان کے رشتے دار محفوظ ہیں، وہ انہیں کچھ نہیں کہتے، لیکن چونکہ میری ان سے رشتے داری نہیں، اس لیے مجھے اپنے گھر والوں کے بارے میں تشویش رہتی ہے، میری بیوی اور بیٹا وہاں پھنسے ہوئے ہیں، سو میں نے سوچا، اس موقع پر قریش پر یہ احسان کردوں تاکہ وہ میرے گھر والوں کے ساتھ ظلم نہ کریں اور بس… اس خط سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا، قریش پر اللہ کا قہر نازل ہونے والا ہے۔ ان کی بات سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا تم نے حاطب کی بات سنی! انہوں نے سب کچھ سچ سچ بتادیا ہے… اب تم لوگ کیا کہتے ہو؟ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ اس شخص کا سر قلم کردوں، کیونکہ یہ منافق ہوگیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عمر! یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور عمر تمہیں کیا پتہ، ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر سے یہ فرمادیا ہو کہ تم جو چاہے کرو، میں نے تمہاری مغفرت کردی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الممتحنہ کی یہ آیت نازل فرمائی ترجمہ: اے ایمان والوں! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو، حالانکہ تمہارے پاس جو دین آچکا ہے، وہ اس کے منکر ہیں وہ رسول کو اور تمہیں اس بنا پر شہر بدر کرچکے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہو۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منوره سے کوچ فرمادیا۔ مدینہ میں اپنا قائم مقام ابوحضرت رہم کلثوم ابن حصن انصاری رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم 10 رمضان کو مدینہ منوره سے روانہ ہوئے۔ اس غزوے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 10 ہزار صحابہ تھے۔ یہ تعداد انجیل میں بھی آئی ہے… وہاں یہ کہا گیا ہے کہ وہ رسول دس ہزار قدسیوں کے ساتھ فاران کی چوٹیوں سے اترے گا۔ اس موقع پر مہاجرین اور انصار میں سے کوئی پیچھے نہیں رہا تھا۔ ان کے ساتھ تین سو گھوڑے اور نوسو اونٹ تھے۔ ان مقدس صحابہ کے علاوہ راستے میں کچھ قبائل بھی شامل ہوگئے تھے۔ اس سفر میں روزوں کی رخصت کی اجازت بھی ہوئی، یعنی جس کا جی چاہے سفر میں روزہ رکھ لے، جو رکھنا نہ چاہے، وہ بعد میں رکھے… اس طرح سفر اور جنگ کے موقعوں پر یہ اجازت ہوگئی۔ سفر کرتے کرتے آخر لشکر مرظہران کے مقام پر پہنچ گیا۔ اس مقام کا نام اب بطن مرد ہے۔لشکر کی روانگی سے پہلے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی تھی کہ قریش کو اسلامی لشکر کی آمد کی خبر نہ ہو… اس لیے انہیں خبر نہ ہوسکی۔ مرظہران کے مقام پر پہنچ کر رات کے وقت مسلمانوں نے آگ جلائی۔چونکہ بارہ ہزار کے قریب تعداد تھی، اس لیے بہت دور دور تک آگ کے الاؤ روشن ہوگئے۔ جس وقت یہ لشکر مدینہ منوره سے روانہ ہوا تھا، اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ منوره کی طرف روانہ ہوئے تھے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیں… لیکن نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم سے ان کی ملاقات راستے ہی میں ہوگئی۔ یہ ملاقات مقام حجِفہ پر ہوئی… حضرت عباس رضی اللہ عنہ یہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑے، انہوں نے اپنے گھر کے افراد کو مدینہ منوره بھیج دیا۔ اس موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے چچا! آپ کی یہ ہجرت اسی طرح آخری ہجرت ہے، جس طرح میری نبوت آخری نبوت ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا کہ عام طور پر مسلمان قریش کے ظلم سے تنگ آکر مدینہ منوره ہجرت کرتے تھے، لیکن اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ فتح کرنے کے لیے تشریف لے جارہے تھے، اس کے بعد تو مکہ سے ہجرت کی ضرورت ہی ختم ہوجاتی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ یہ آپ کی اسی طرح آخری ہجرت ہے۔جس طرح میری نبوت آخری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کا مکمل طور پر رد ہوگیا۔ (ختم نبوت زندہ باد)

حضرت عباس رضی اللہ عنہ اس خیال سے مکہ کی طرف چلے کہ قریش کو بتائیں، اللہ کے رسول کہاں تک آچکے ہیں اور قریش کے حق میں بہتر ہے کہ مکہ معظمہ سے نکل کر پہلے ہی آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں، ادھر یہ اس ارادے سے نکلے، ادھر ابوسفیان، بدیل بن ورقاء اور حکیم بن حزام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبریں حاصل کرنے کے لیے نکلے… کیونکہ اتنا ان لوگوں کو اس وقت معلوم ہوگیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کے ساتھ مدینہ منوره سے کوچ فرمایا ہے… لیکن انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرف گئے ہیں… اب جو یہ باہر نکلے تو ہزاروں جگہوں پر آگ روشن دیکھی تو بری طرح گھبرا گئے۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے منہ سے نکلا میں نے آج کی رات جیسی آگ کبھی نہیں دیکھی اور نہ اتنا بڑا لشکر کبھی دیکھا… یہ تو اتنی آگ ہے جتنی عرفہ کے دن حاجی جلاتے ہے۔ جس وقت ابوسفیان نے یہ الفاظ کہے، اسی وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے۔انہوں نے الفاظ سن لیے، چنانچہ انہوں نے ان حضرات کو دیکھ لیا اور ان کی طرف آگئے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوسفیان کے دوست تھے۔ ابوحنظلہ! یہ تم ہو؟ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بولے۔ ابوحنظلہ ابوسفیان کی کنیت تھی۔ ہاں! یہ میں ہوں… اور میرے ساتھ بدیل بن ورقاء اور حکیم بن حزام ہیں… تم کہاں؟ جواب میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مقابلے میں اتنا بڑا لشکر لے آئے ہیں… اب تمہارے لیے فرار کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ ابوسفیان یہ سن کر گھبرا گئے اور کہنے لگے آه! اب قریش کا کیا ہوگا… کوئی تدبیر بتاؤ۔ یہ سن کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم! اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر قابو پالیا تو تمہارا سر قلم کرادیں گے… اس لیے بہتر یہی ہے کہ میرے خچر پر سوار ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤں اور تمہاری جان بخشی کرالوں۔ حضرت ابوسفیان فوراً ہی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پیچھے خچر پر سوار ہوگئے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہہ اور ابوسفیان اس جگہ سے گزرے جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آگ جلا رکھی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا، فوراً اٹھ کر ان کی طرف آئے اور پکار اٹھے کون! اللہ کا دشمن ابوسفیان! یہ کہتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑ پڑے… یہ دیکھ کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بھی خچر کو ایڑ لگادی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے… پھر جلدی سے خچر سے اتر کر خیمے میں داخل ہوگئے۔ ان کے فوراً بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی خیمے میں داخل ہوگئے… اور بول اٹھے یارسول اللہ! یہ دشمن خدا ابوسفیان ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر بغیر کسی معاہدے کے ہمیں قابو عطا فرمایا ہے لہذا مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن ماردوں۔ مگر اس کے ساتھ ہی حضرت عباس رضی اللہ عنہہ نے فرمایا اے اللہ کے رسول! میں انہیں پناه دے چکا ہوں۔ اب منظر یہ تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ننگی تلوار سونتے کھڑے تھے کہ اِدھر حکم ہو، اُدھر وہ ابوسفیان کا سر قلم کردیں… دوسری طرف حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے اللہ کی قسم! آج رات میرے علاوہ کوئی شخص اس کی جان بچانے کی کوشش کرنے والا نہیں ہے۔  

 

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں