0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 16 فتح مکہ

 سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ 

قسط نمبر 16

فتح مکہ 

رمضان المبارک 8 ہجری حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ نبوت کا نہایت ہی عظیم الشان عنوان اور سیرت مقدسہ کا سنہرا باب جس کی آب و تاب سے ہر مومن کا قلب مسرتوں سے روشن ہو گیا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ قریباً آٹھ برس پہلے انتہائی دکھ اور تکلیف کی حالت میں یار غار حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بے یار و مددگار رات کی تاریکی میں ہجرت فرما کر مدینہ منورہ آئے تھے اور آٹھ برس بعد اب اللہ عز وجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک فاتح کی حیثیت سے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آبائی شہر مکہ مکرمہ میں داخل فرما دیا تھا۔ مشرکین مکہ نے معاہدہ حدیبیہ کے بارے میں عہد شکنی کی اور مسلمانوں کے حلیف قبیلے بنی خزاعہ کے مقابلے میں بنی بکر کی مدد کی جس سے بنی خزاعہ کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سردارانِ قریش کے پاس ایک قاصد بھیجا جس نے ان کے سامنے تین شرائط پیش کیں۔

1)۔     بنی خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا دیا جائے۔

2)۔     قریش بنی بکر کی حمایت سے دستبردار ہو جائے۔

3)۔     اگر پہلی دونوں شرائط منظور نہیں تو اعلان کر دیں کہ معاہدہ حدیبیہ ٹوٹ گیا ہے۔

سردارانِ قریش نے زعم میں آکر اعلان کر دیا کہ ہم معاہدہ حدیبیہ کو توڑتے ہیں۔

ابوسفیان نے بہت کوشش کی کہ دیگر سردارانِ قریش اس قسم کی باتوں سے باز رہیں لیکن وہ اس زعم میں تھے کہ ان کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ ابوسفیان خود مدینہ منورہ پہنچا اور اپنی صاحبزادی اُم المؤمنین حضرت بی بی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے مکان پر قیام پذیر ہوا۔ ابو سفیان نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو اُم المؤمنین حضرت بی بی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اس بستر پر بیٹھنے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ یہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہے۔ ابو سفیان کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی بات کا کوئی جواب نہ دیا جس پر ابوسفیان وہاں سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن انہوں نے بھی ابوسفیان کو اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ ابوسفیان باری باری حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن انہوں نے بھی ابوسفیان کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔

جب ابوسفیان ناکام ہو کر واپس لوٹ گیا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور اس مقصد کے لئے اپنے تمام حلیف قبائل کو بھی حکم نامے بھیج دیئے۔ کسی بھی صحابی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھنے کی جرات نہ کی کہ وہ کس سے جنگ کی تیاری کا حکم دے رہے ہیں یہاں تک کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی صحابی حتی کہ اپنے راز دان حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ وہ کس سے جنگ کرنا چاہتے ہیں؟ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہتھیار نکال رہی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔

الغرض جنگ کی تمام تیاریاں خاموشی کے ساتھ ہوتی رہیں۔ 10 رمضان المبارک 8 ہجری کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار جانثاروں کے ہمراہ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ جب لشکر اسلام مقام جحفہ پہنچا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو خیمہ زن ہونے کا حکم دیا۔ مقام جحفہ پر حضور نبی کریم ﷺ کے چچا حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ جو کہ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر تھے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ حاضر ہوئے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں شامل ہوئے۔

سرداران قریش کو جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع ملی تو انہوں نے تحقیق کے لئے ابو سفیان کو بھیجا اور جب ابو سفیان نے لشکر اسلامی کا جائزہ لیا تو وہ اتنا عظیم الشان لشکر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے واپس جا کر سردارانِ قریش کو کہا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ وہ جا کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگ لیں تا کہ صلح ہو جائے اور خطرہ ٹل جائے۔

الغرض لشکر اسلام فاتحانہ انداز میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ جو شخص حرم کعبہ میں پناہ لے گا اس کے لئے امان ہے، جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے گا اس کے لئے بھی امان ہے اور جو شخص ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے گا اس کے لئے بھی امان ہے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار تھے۔ قصویٰ وہی اونٹنی تھی جو ہجرت کے وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے خرید فرمائی تھی اور اسی اونٹنی پر بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوات میں شرکت فرمائی اور آج دین اسلام کی سب سے بڑی فتح مکہ مکرمہ کے وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی اونٹنی پر سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور پیچھے دس ہزار مجاہدین کا ایک لشکر عظیم تھا۔

فتح مکہ کے بعد قریباً تمام عرب کے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ فتح مکہ اصل میں دین حق کی فتح تھی۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے والد بزرگوار حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو لے کر حاضر خدمت ہوئے جو کہ اس وقت مسلمان نہ ہوئے تھے اور نابینا تھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! تم مجھے کہہ دیتے میں خود ان کے پاس چلا جاتا۔ پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو کلمہ پڑھایا اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اپنے والد کے اسلام قبول کرنے کی اتنی خوشی نہیں جنتی خوشی مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کے اسلام قبول کرنے پر ہوتی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ان کو مسلمان دیکھ کر ٹھنڈی ہوتیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بات سن کر فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! تم نے درست کہا۔

فتح مکہ کے روز حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک اور اعزاز حاصل ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کی چار نسلوں کو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

ابوداوٗد کی روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قیام مکہ مکرمہ میں سترہ روز تک رہا۔ ترمذی شریف کی روایت میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اٹھارہ روز رہا جبکہ بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں انیس دن کا ذکر ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کا نظم و نسق حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے سپرد فرماتے ہوئے انہیں مکہ مکرمہ کا گورنر نامزد کیا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو مسلموں کی تربیت کے لئے مقرر فرمایا کہ وہ نو مسلموں کو احکام دین سکھائیں۔

فتح مکہ کی تاریخ میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام مسلم کی روایت کے مطابق 16 رمضان المبارک ہے، امام احمد کی روایت کے مطابق 18 رمضان المبارک ہے، محمد بن اسحاق کی روایت کے مطابق 20 رمضان المبارک ہے اور بعض روایات کے مطابق 17 رمضان المبارک ہے۔

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں