سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  قسط نمبر 25 0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 25 فضائل صدیق اکبر قرآن وحدیث کی روشنی میں

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

قسط نمبر 25

فضائل صدیق اکبر قرآن وحدیث کی روشنی میں

حضرت سیدنا امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہی کا قول ہے کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے افضل ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ بوجہ کثرت صلوۃ و صیام تم سے افضل نہیں بلکہ اس طبعی محبت کی وجہ سے افضل ہیں جو ان کے قلب مبارک میں میرے لئے ہے۔

سورہ تو بہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:

اگر تم نبی کی مدد نہ کرو تو کیا ہو جائے گا اس کا حامی اللہ ہے وہ پہلے بھی اس کی مدد کر چکا ہے جب کفار نے اسے گھر سے نکال دیا تھا غار میں وہ دو میں سے ایک تھا اور اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم مت کرو یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

اللہ عز وجل کے اس ارشاد میں واضح طور پر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر ہے کیونکہ یار غار وہی تھے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کے سفر میں رفیق بھی وہی تھے۔

سورۃ اللیل میں اللہ عز وجل نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا: اس پر کسی کا احسان نہ تھا کہ بدلہ چکایا جا رہا ہو یہ فعل تو بس اللہ عز وجل کی خوشنودی کے لئے ہے اور وہ عنقریب راضی ہو جائے گا۔

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی شان نزول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد فرمایا تو مشرکین نے کہا کہ ضرور بلال (رضی اللہ عنہ) کا کوئی احسان ابوبکر (رضی اللہ عنہ) پر ہوگا جس کا بدلہ ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد کر کے چکایا ہے۔ اللہ عز وجل نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی کہ انہوں نے بغیر کسی احسان کے صرف اللہ عز وجل کی خوشنودی کے لئے حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد فرمایا تھا۔

الله عز وجل نے سورہ تو بہ میں ارشاد فرمایا :

اللہ نے اس پر طمانینت نازل فرمائی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کے بارے میں بتایا کہ اللہ عز وجل کی جانب سے جو طمانینت نازل فرمائی گئی وہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے تھی کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تو اللہ عز وجل کی طمانینت ہمیشہ سے تھی۔

حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت میں ابوبکر (رضی اللہ عنہ) اور عمر (رضی اللہ عنہ) سے زیادہ افضل، متقی، پرہیز گار اور عدل و انصاف والا کوئی شخص نہیں ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جہاں سے میری امت جنت میں داخل ہوگی۔ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: کاش میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا اور وہ دروازہ دیکھتا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بات سن کر فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! میری اُمت میں سب سے پہلے تم جنت میں جاؤ گے۔

حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو اسلام جاتا رہتا۔

امام احمد نے مسند احمد میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے پرندے۔۔۔؟ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا جنت کے پرندے نرم و نازک ہوں گے؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک وہ کھانے اور ذائقے میں اس سے بھی نرم ہوں گے اور مجھے قوی اُمید ہے کہ ان کو کھانے والوں میں تم بھی شامل ہو گے۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: بتائیے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر ارشاد فرمایا: حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ عز وجل کی راہ میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کرے اسے جنت کے دروازوں سے آواز دی جاتی ہے۔ جو شخص نمازی ہوتا ہے اسے نماز والے دروازے سے پکارا جاتا ہے، جو مجاہد ہوتا ہے اسے جہاد والے دروازے سے پکارا جاتا ہے، جو روزہ دار ہوتا ہے اسے باب الصیام سے پکارا جاتا ہے، جو صدقات و خیرات کرتا ہے اسے باب الصدقات سے پکارا جاتا ہے۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جسے تمام دروازوں سے پکارا جائے گا؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر (رضی اللہ عنہ)! مجھے یقین ہے وہ شخص تم ہو جسے تمام دروازوں سے پکارا جائے گا۔

حضرت حسن بصری ہی سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی علالت کے دوران حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امامت کے لئے بلایا حالانکہ اس وقت میں بالکل تندرست تھا اور وہاں موجود تھا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے سے ہم تمام صحابہ کرام ہی اہم سمجھ گئے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا ہے۔ مسند امام احمد رحمہ اللہ میں اسناد کے ساتھ منقول ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسے امیر بنایا جائے؟ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو تم اسے دنیا میں امین اور زاہد اور آخرت کی جانب رغبت کرنے والا پاؤ گے۔ حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چند لوگوں نے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ انصاف پسند اور حق بات کہنے والے اور منافقین کے لئے سب سے زیادہ سخت ہیں۔ ہم نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کو آپ رضی اللہ عنہ کی طرح نہیں دیکھا۔ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ جو کہ اس محفل میں موجود تھے ان لوگوں کی یہ بات سن کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم لوگ جھوٹ بولتے ہو، بلاشبہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح جانشین اور اس اُمت کے بہترین شخص تھے۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا کلام سنا تو فرمایا: بے شک! یہ درست ہے۔ اللہ کی قسم! حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ مہکدار تھے۔

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بن اکوع روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ نے فرمایا: انبیاء کو مستثنی کر کے دوسرے انسانوں میں سب سے بہترین ابو بکر (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ کچھ مہاجرین و انصار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کے دروازے پر کھڑے ایک دوسرے کے فضائل کا ذکر کر رہے تھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آوازیں سن کر باہر آئے اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم فضائل کا ذکر کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ابو بکر (رضی اللہ عنہ) پر کسی کو ترجیح نہ دینا کیونکہ دنیا و آخرت میں وہ تم سے بہترین ہیں۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوالدرداء تم اس شخص کے آگے چل رہے ہو جو دنیا و آخرت میں تم سے بہتر ہے، انبیاء ورسل کو چھوڑ کر ابو بکر (رضی اللہ عنہ) سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب۔

حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا کہ دودھ جِلد اور گوشت کے درمیان میری رگوں میں جاری ہے پھر اس میں سے کچھ دودھ بچ گیا جو میں نے ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کو دے دیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ علم ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عز و جل نے عطاء کیا اور جب آپ کئی اہم علم سے سیر ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی بچا ہوا حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بات سن کر فرمایا: تم نے درست کہا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مرد جنت میں داخل ہوگا اور جتنے بھی بالا خانے اور گھروں میں رہنے والے ہیں اسے مرحبا مرحبا کہہ کر خوش آمدید کہیں گے اور اسے اپنی طرف بلائیں گے۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس روز اس شخص پر کوئی نقصان نہ ہوگا؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ابو بکر (رضی اللہ عنہ) اور وہ تم ہو گے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر غار میں بھی میرے ساتھی تھے اور حوض کوثر پر بھی میرے ساتھی ہوں گے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت میں ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے بڑھ کر کوئی رحم دل نہیں ہے۔

حضرت جیش بن خالد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر، عمر، عثمان و عائشہ رضی اللہ عنہم اللہ عز وجل کی آل ہیں اور علی، حسن، حسین و فاطمہ رضی اللہ عنہم میری آل ہیں۔ عنقریب روز محشر اللہ عز وجل میری اور اپنی آل کو جنت کے باغات میں سے ایک باغ پر جمع فرمائے گا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ عز وجل نے مجھے اپنے نور سے پیدا فرمایا اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو میرے نور سے پیدا فرمایا اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نور سے پیدا فرمایا اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نور سے کل کائنات کے مومنین پیدا فرمائے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ عز وجل آسمان پر اس چیز کو نا پسندیدہ سمجھتا ہے کہ ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کوئی خطا کریں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے آسمان پر اسی ہزار فرشتے ہیں جو اس شخص کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے اور دوسرے آسمان پر اسی ہزار فرشتے ایسے ہیں جو اس شخص پر لعنت بھیجتے ہیں جو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہے۔

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب روز محشر ہر شخص کے اعمال کا حساب لیا جائے گا سوائے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے۔

حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف فرما تھا کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آحاضر ہوئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھتے ہوئے فرمایا: یہ دونوں اہل جنت کے بوڑھوں اور جوانوں کے سردار ہیں سوائے انبیاء علیہم السلام کے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں معراج کی رات فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا میں نے فرشتوں کے پاس اپنے نام کے ساتھ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام کو لکھا دیکھا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان قوموں کا کیا ہوگا جنہوں نے میرے عہد کو چھوڑ دیا اور میری حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں وصیت کو ضائع کر دیا حالانکہ وہ میرے نائب اور میرے غار کے ساتھی ہیں۔ اللہ عز و جل ایسی قوم کو میری شفاعت نصیب نہیں فرمائے گا۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں کچھ لوگ خفیہ طور پر مقرر کر رکھے تھے جو لوگوں میں گھومتے اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اطلاع پہنچاتے۔ ایک مرتبہ ان لوگوں نے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ ان کی بات سن کر جلال میں آگئے اور ان لوگوں کو بلا بھیجا۔ جب وہ لوگ حاضر ہو گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا: اے شریر لوگو! تم مسلمانوں میں فساد پھیلانا چاہتے ہو اور میرے اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان تفریق پیدا کرتے ہو۔ جان لو اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے! میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ میرے لئے جنت میں وہ مقام ہوتا جہاں سے میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھتا کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میری اُمت میں سب سے بہتر شخص ابوبکر (رضی اللہ عنہ) ہے۔

حضرت اُم موسیٰ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ ابن سبا ان کو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر فوقیت دیتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کا ارادہ کیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ رضی اللہ عنہ اس کو قتل کیوں کرنا چاہتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو قتل کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ایک ایسی بات کہتا ہے جس سے اُمت میں فساد کا خطرہ ہے اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر ہیں۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے ابن سبا کو شہر بدر کر دیا۔

حضرت زیاد بن علاقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو کہہ رہا تھا کہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح جانشین اور سب سے بہتر ہیں۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو کوڑے سے مارنا شروع کر دیا اور فرمایا: تو جھوٹ کہتا ہے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ سے اور میرے باپ سے تجھ سے اور تیرے باپ سے زیادہ بہتر ہیں۔ حضرت ابوزناد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ مہاجرین اور انصار کو کیا ہوا جو انہوں نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آپ رضی اللہ عنہ پر فوقیت دی اور ان کے دست حق پر بیعت کی۔ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو قریشی ہے تو اللہ سے معافی مانگ اور اگر مومن اللہ کی پناہ میں نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مجھ پر چار باتوں کی وجہ سے فوقیت حاصل تھی۔ اول وہ امام بننے میں مجھ پر سبقت لے گئے، دوم ہجرت کے وقت یار غار بنائے گئے، سوم اسلام کی اشاعت انہی کی وجہ سے ہوئی اور چہارم اللہ عز وجل نے سوائے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے تمام انسانوں کی مذمت فرمائی۔

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تنقیص کر رہی تھی۔ میں حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام ماجرا ان کے گوش گزار کیا۔ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے میری بات سن کر فرمایا: اللہ عز وجل کی ان پر لعنت ہو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر تھے۔ اس کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لے گئے اور ایک نہایت ہی فصیح و بلیغ خطبہ دیا:

لوگوں کو کیا ہو گیا کہ وہ قریش کے دو سرداروں اور مسلمانوں کے دو والدوں کے بارے میں اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں جس میں میرا دامن ملوث نہیں اور جو کچھ لوگ کہتے ہیں میں اس سے بری ہوں۔ یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں میں ان پر سزا نافذ کروں گا۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے بیچ پھاڑ اور نفوس پیدا کئے ان دونوں حضرات کو سوائے مومن پر ہیز گار کے اور کوئی دوست نہیں رکھے گا اور ان دونوں حضرات سے سوائے فاجر ناکارہ کے اور کوئی عداوت نہیں برتے گا۔ یہ دونوں حضرات حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچائی اور وفاداری کے ساتھ رہے، امر بالمعروف کا حکم دیتے رہے اور نہی عن المنکر بھی کرتے رہے اور ان دونوں نے کبھی بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حدود سے تجاوز نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اخلاق و اطوار کی بناء پر ان کو اپنا دوست رکھا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امام بنایا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تمام مسلمانوں نے ان کی ولایت تسلیم کی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کے بارے میں فرمایا کہ جو ان سے بغض رکھے گا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھے گا۔ چنانچہ جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بھی بغض رکھا اور یہ جان لو کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ کے بعد سب سے بہتر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان الفاظ کے ساتھ اپنی تقریر ختم کرتا ہوں اللہ عز وجل تمہاری مغفرت فرمائے۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زہد و تقویٰ اور بلند مراتب کے بارے میں بے شمار قرآنی آیات و احادیث موجود ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ذات با برکات حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بہترین نمونہ تھی اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی تمام زندگی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں بسر کی۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں