0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 24 کشف و کرامات

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

قسط نمبر 24 

کشف و کرامات

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جامع الکمالات اور مجمع الفضائل ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے بہترین ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ صاحب کشف و کرامت تھے اور آپ رضی اللہ عنہ سے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا۔ ذیل میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کچھ کرامات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

خون میں پیشاب

ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: امیر المؤمنین! میں اکثر خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں خون میں پیشاب کر رہا ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی بات سنی تو انتہائی غیظ وجلال کے عالم میں فرمایا: تو اپنی بیوی سے دوران حیض صحبت کرتا ہے۔ اس شخص نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ عز وجل کے حضور سچے دل سے توبہ کر اور آئندہ کے لئے اس گناہ سے باز رہو۔ اس شخص نے سچے دل سے توبہ کر لی اور آئندہ اس قسم کا خواب کبھی نہ نظر آیا۔

کلمہ طیبہ کی فضیلت

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب قیصر روم سے جنگ کے لئے مسلمانوں کا لشکر روانہ ہونے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کلمہ طیبہ پڑھ کر جہاد کا علم حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا اور ان کو نصیحت کی کہ جب بھی کوئی مشکل در پیش ہو تو تم کلمہ طیبہ پڑھ کر نعرہ تکبیر بلند کرنا اللہ عز وجل تمہاری مشکل حل فرما دے گا۔ جب اسلامی لشکر نے قیصر روم کے قلعہ کا محاصرہ کیا اور کئی روز تک قلعہ فتح نہ ہوا تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نصیحت کے مطابق کلمہ طیبہ پڑھ کر نعرہ تکبیر بلند کیا تو قلعہ کے اندر زلزلہ آگیا اور پورا قلعہ مسمار ہو گیا۔

کھانے میں برکت

بخاری شریف میں حضرت عبد الرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مہمانوں کو لے کر گھر آئے اور خود دوبارہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی مسئلہ پر گفتگو کے لئے تشریف لے گئے۔ رات گئے جب آپ رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے تو زوجہ نے دریافت فرمایا کہ آپ رضی اللہ عنہ مہمانوں کو گھر چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھا اور تم نے مہمانوں کو کھانا کھلا دیا؟ انہوں نے جواباً فرمایا کہ مہمانوں نے صاحب خانہ کی غیر موجودگی میں کھانا کھانے سے انکار کر دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ مجھ پر سخت غصے ہوئے جس کی وجہ سے میں چھپ گیا۔ جب کچھ دیر کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مہمانوں کے ساتھ کھانا کھانے کے لئے بیٹھے تو مہمانوں نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا۔ بعد میں وہ کھانا میں نے اور دیگر گھر والوں نے کھایا۔ پھر وہ کھانا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گئے جہاں بارہ قبیلوں کے سردار موجود تھے ان سرداروں کے ساتھ شتر سوار بھی تھے سب لوگوں نے وہ کھانا شکم سیر ہو کر کھایا۔

شکم مادر

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض وصال میں اپنی صاحبزادی اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ میری بیٹی! میرے پاس جو میرا مال تھا وہ اب وارثوں کا ہو چکا میری اولاد میں تمہارے دونوں بھائی عبد الرحمن و محمد اور تمہاری دونوں بہنیں ہیں لہٰذا تم لوگ میرے مال کو قرآن مجید کے حکم میں تقسیم فرما لینا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے والد بزرگوار کی بات سن کر دریافت کیا: ابا جان! میری تو ایک ہی بہن اسماء (رضی اللہ عنہا) یہ میری دوسری بہن کون سی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری بیوی بنت خارجہ اس وقت حاملہ ہے اس کے شکم میں لڑکی ہے اور وہ تمہاری بہن ہے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد ایسا ہی ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کی زوجہ بنت خارجہ کے گھر بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام ام کلثوم (رضی اللہ عنہا) رکھا گیا۔

مدفن کے بارے میں آگاہی دینا

ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو کہاں دفن کیا جائے؟ کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا خیال تھا کہ جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔ میری دلی خواہش تھی کہ میرے والد بزرگوار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں میرے حجرے میں دفن ہوں۔ چنانچہ مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہو گیا اور مجھے خواب میں ایک منادی سنائی دی کہ کوئی اعلان کر رہا تھا: حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ میں نے بیدار ہونے کے بعد اس کا ذکر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کیا تو بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس بات کا اقرار کیا کہ انہوں۔ نے بھی یہ منادی سنی تھی۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں مدفون کیا گیا۔

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دروازہ کھلنا

جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جنازہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کے سامنے جا کر رکھا گیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا: السلام عليك يا رسول الله هذا ابوبكر۔ جیسے ہی یہ الفاظ ادا ہوئے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دروازہ خود بخود کھل گیا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سے آواز آئی: حبیب کو حبیب کے دربار میں داخل کر دو۔

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں