سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
قسط نمبر 26
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خطوط
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خطوط 1957 میں برہان میں پہلی مرتبہ شائع ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے خطوط عربی میں تھے جن کا انگریزی، اردو اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ ذیل میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کچھ خطوط نمونے کے طور پر پیش کئے جارہے ہیں جو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے سپہ سالاروں اور دیگر مسلمانوں کے نام لکھے۔
یمن کے مسلمانوں کے نام خط
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب ملک شام کو فتح کرنے کے لئے لشکر بھیجا تو یمن کے مسلمانوں کو ملک شام کے جہاد میں دعوت دیتے ہوئے ذیل کا خط لکھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم! خلیفہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یمنی مومنوں اور مسلمانوں کے نام جس کو میرا یہ خط سنایا جائے ان سب کو السلام علیکم! میں اس معبود کا سپاس گزار ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ واضح رہے کہ اللہ عز وجل نے مومنوں پر جہاد لازم کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ جہاد کے لئے نکلیں چاہے پیادل ہوں یا سوار ہوں اور اس کا حکم ہے کہ جہاد کرو اپنے مال اور جان سے۔ اللہ عز وجل کی نظر میں جہاد کا بہت ثواب ہے میں یہاں کے مسلمانوں کو ملک شام میں موجود رومیوں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ملک عرب میں موجود مسلمانوں کو ہم نے جہاد کی دعوت دی تو انہوں نے اس دعوت کو قبول فرمالیا اور ہمارے ساتھ پیش قدمی کی۔ اللہ عز وجل آپ کے دین کی حفاظت کرے اور آپ کے دلوں کو ہدایت دے اور آپ کے اعمال کو برائیوں سے پاک فرمائے اور مجاہدین و صابرین کا اجر عطا فرمائے۔ والسلام علیکم۔“
مرتدین کے نام خط
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے نام خط لکھتے ہوئے فرمایا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم! خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ہر اس شخص کے نام جو اگرچہ خواص میں سے ہو یا عوام میں سے اور خواہ وہ اسلام پر قائم ہو یا مرتد ہو چکا ہو۔
سلامتی ہو ان لوگوں کے لئے جو ہدایت کی پیروی کریں اور ہدایت کے بعد گمراہی کی طرف نہ پلیٹیں۔ اللہ عز وجل کی حمد و ثنا جو وحدہ لاشریک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عز وجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے رسول ہیں جنہیں اللہ عز وجل نے ہمارے پاس حق دے کر بھیجا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ عزوجل کی وحدانیت کا درس دیں اور انہیں نیک کاموں کا اجر اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں۔ جس نے حق کو قبول کر لیا اللہ عز و جل نے اسے ہدایت سے نوازا اور جس نے حق سے روگردانی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ انہوں نے طوعاً و کرہا اسلام قبول کیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عز و جل کے امر کو نافذ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کی خیر خواہی کا بھر پور حق ادا کیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ جو فرض تھا وہ انہوں نے بخوبی ادا کیا اور اُمت تک اللہ عز وجل کا پیغام پہنچایا۔
میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ عز وجل سے ڈرتے رہو اور اس کی وحدت کی گواہی دیتے رہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پختہ ایمان رکھو اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرو۔ اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور جنہیں اللہ عزوجل نے ہدایت نہ دی وہ گمراہ ہوئے۔ جو لوگ گمراہ ہیں ان کا کوئی بھی عمل اللہ عز وجل کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوگا۔ مجھے معلوم ہوا کہ بعض لوگ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد شیطان کی چالوں میں آکر مرتد ہو گئے ہیں حالانکہ اللہ عز وجل نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اللہ عز وجل نے شیطان کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اسے ہمارا کھلا دشمن بتایا ہے اور شیطان ہمیں دوزخ کا ایندھن بنانا چاہتا ہے اس لئے ہمیں اس کی چالوں سے بچنا چاہئے اور اس کو اپنا دشمن سمجھنا چاہئے۔
میں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مہاجرین و انصار کے ایک لشکر کے ہمراہ تمہاری طرف روانہ کیا ہے اور اسے حکم دیا ہے کہ وہ پہلے تمہیں دین حق کی دعوت دے اور اللہ عز وجل کی جانب دوبارہ بلائے۔ اگر تم نے اس کی دعوت قبول کر لی اور اللہ عز وجل کے حضور سچے دل سے توبہ کر لی اور دین اسلام پر استقامت اختیار کی تو وہ تمہیں کچھ نہ کہیں گے اور اگر تم نے انکار کیا تو پھر وہ تمہارے خلاف جہاد کریں گے اور تمہیں قتل کر دیں گے۔ تم میں سے جو بھی ایمان لے آئے اس کے لئے امن ہے اور جو ایمان نہ لائے گا وہ ہمارے نزدیک واجب القتل ہے۔“
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے نام خط
مدینہ منورہ سے مسلمان سالاروں کو مدد بھیجنے کی خبر سارے شام میں پھیل چکی تھی۔ شاہ روم نے لشکر اسلام کے سالار حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو قاصد کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ ہمارے ایک بڑے شہر کی آبادی تمہاری کل فوج سے زیادہ ہے اس لئے تم ہم سے نہ ہی لڑو تو بہتر ہے۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا:
بسم الله الرحمن الرحیم! السلام و علیکم! تمہارا خط ملا تم نے لکھا کہ دشمن کی فوجیں تم سے لڑنے کے لئے روانہ کر دی گئی ہیں جن کا زمین پر سمانا مشکل ہے۔ اللہ عزوجل کی قسم! تمہاری وہاں موجودگی سے زمین ان دستوں پر تنگ کر دی گئی ہے اور بخدا مجھے یہ امید ہے کہ عنقریب تم شاہ روم کو اس جگہ سے باہر نکال دو گے۔ بڑے شہروں کا محاصرہ نہ کرنا جب تک کہ میں تمہیں اگلا حکم نہ دے دوں اور اگر دشمن تم سے لڑنے کے لئے آگے بڑھے تو تم بھی ان سے لڑنا اور اللہ عز وجل سے دعا کرتے رہنا ان شاء اللہ تم غالب رہو گے۔ دشمن جتنی تعداد میں تمہارے مقابلے میں آئے گا میں اتنی ہی تعداد تمہاری مدد کے لئے بھیجوں گا اور تم اپنے آپ کو کمزور نہ سمجھنا۔ اللہ عز وجل تم کو فتح عطا فرمائے۔ عمرو کے ساتھ اچھا طرز عمل رکھنا میں نے اس کو سمجھا دیا کہ صحیح مشورہ دینے میں دریغ نہ کرے وہ تجربہ کار اور صائب الرائے آدمی ہے۔ والسلام علیکم۔“