0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 15 صلح حدیبیہ

 سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ 

قسط نمبر 15 

صلح حدیبیہ 

ذی الحجہ 6 ہجری میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کے ہمراہ بیت اللہ شریف کے حج کی غرض سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ حدیبیہ کے مقام پر جو مکہ مکرمہ سے بارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ قیام فرمایا اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نمائندہ بنا کر مکہ مکرمہ روانہ کیا کہ وہ سردارانِ مکہ سے جا کر ملیں اور انہیں بتائیں کہ ہم صرف حج کی نیت سے آئے ہیں۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرمہ پہنچے تو سردارانِ مکہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو قید کر لیا اور لشکر اسلام میں یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اکٹھا فرمایا جن کی تعداد قریباً پندرہ سو (1500) کے قریب تھی اور سب سے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بدلہ لینے کی بیعت کی اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی جانب سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دوسرا ہاتھ اس بیعت میں پیش کیا۔ تاریخ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس بیعت کو بیعت رضوان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

مشرکین مکہ کو جب مسلمانوں کی اس بیعت کی خبر ہوئی تو انہوں نے گھبرا کر حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا اور اپنا ایک وفد صلح کے لئے حدیبیہ کے مقام پر بھیجا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو شرائط طے کرنے کے لئے اپنا نمائندہ مقرر فرمایا۔ گو کہ معاہدے کی تمام شقیں مشرکین کے حق میں تھیں لیکن اللہ عز وجل نے اس معاہدے کو مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑی فتح قرار دیا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح کی نوید سنائی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاہدے پر اللہ کا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبد اللہ کے نام سے اپنے دستخط کئے۔

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں صلح حدیبیہ کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ  کے سچے نبی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عمر (رضی اللہ عنہ)! میں اللہ کا سچا نبی ہوں۔ میں نے عرض کیا: کیا ہم حق پر اور کفار باطل پر نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! بے شک ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں۔ میں نے عرض کیا: پھر آپ ﷺ نے دین کے معاملے میں ہم پر یہ ذلت کیوں گوارا کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اللہ کی نافرمانی نہیں کر سکتا وہ میری مدد ضرور فرمائے گا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں فرماتے کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں یہ کہا تھا کہ ہم اس سال طواف کریں گے۔ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان شاء اللہ تم ضرور بیت اللہ شریف کا طواف کرو گے۔

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گیا اور ان سے وہی سوال پوچھے جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے تھے۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: عمر (رضی اللہ عنہ)! یاد رکھو! حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے تم بھی ان کا دامن پکڑے رکھو، بخدا! حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں۔

معاہدہ حدیبیہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دیگر اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی بطور گواہ دستخط کئے۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں