0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 13 حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنگ احد میں

 سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ 

قسط نمبر 13

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنگ احد میں 

ربیع الاول 3 ہجری میں حق اور باطل کے درمیان ایک اور معرکہ احد کے مقام پر ہوا۔ احد مدینہ منورہ سے قریباً تین میل کے فاصلے پر واقع ایک وادی ہے۔ حق اور باطل کے اس معرکہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے ایک ہزار مجاہدین کا لشکر لے کر کفار کے تین ہزار کے لشکر کے مقابلے میں نکلے۔ راستہ میں عبد اللہ بن ابی سلول منافق اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر سے علیحدہ ہو کر واپس چلا گیا اور لشکر اسلام کی تعداد سات سو ہو گئی۔ معرکہ حق و باطل شروع ہوا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو پچاس تیر اندازوں کا دستہ دے کر احد پہاڑ کی پشت پر تعینات فرمایا تا کہ اگر کوئی دشمن پیچھے سے حملہ کرے تو وہ اس کو روک سکیں۔ ابتداء میں مسلمانوں کو فتح ملی اور مشرکین میدانِ جنگ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ لشکر اسلام نے ان کا پیچھا کیا۔ اس دوران حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں تیر اندازوں کا دستہ بھی احد پہاڑ کی پشت چھوڑ کر دیگر مجاہدین کے ساتھ مل گیا جس سے کفار کے لشکر نے فائدہ اٹھایا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جو کہ اس وقت مسلمان نہ ہوئے تھے ان کی سربراہی میں کفار کے ایک لشکر نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا جس سے ستر مسلمان شہید ہو گئے۔ اس دوران کفار نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی حملہ کر دیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے رہے اور جب تک ان کے جسموں میں خون کی ایک بوند اور سانس کی ایک بھی رمق باقی رہی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے رہے۔ اس دوران حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک بھی شہید ہو گئے اور افواہ پھیل گئی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔

جنگ اُحد میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر دلعزیز چچا حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور حضرت معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ جیسے نامور صحابہ نے بھی جام شہادت نوش فرمایا۔ اس جنگ میں قریباً ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوئے جبکہ بائیس کے قریب کفار جہنم واصل ہوئے۔ جس وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کفار نے حملہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دفاع کے لئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ نے جانثاری کا ثبوت دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن کے وار سے بچاتے رہے۔

روایات میں آتا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر ایک کڑی پیوست ہو گئی۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کڑی کو اپنے دانتوں سے نکالنے کے لئے جھکے تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو قسم دے کر فرمایا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہ کڑی انہیں نکالنے دیں۔ چنانچہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے وہ کڑی اپنے دانتوں سے پکڑ کر نہایت نرمی سے نکالنا شروع کیا اور جب وہ کڑی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے نکل آئی تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے دانت مبارک سارے گر گئے۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں