سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
قسط نمبر 12
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں
رمضان المبارک 2 ہجری میں مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان حق و باطل کا پہلا معرکہ بدر کے مقام پر ہوا جسے تاریخ میں غزوہ بدر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بدر کا میدان مدینہ منورہ سے قریباً اسی (80) میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ تین سو تیرہ (313) مسلمان مجاہدین کا لشکر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں بدر کے مقام پر پہنچا جہاں ان کا مقابلہ ابو جہل کی سر کردگی میں کفار کے ایک ہزار (1000) لشکر سے ہوا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک ٹیلے پر سائبان بنا دیا جہاں پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ لشکر اسلام کو ہدایات دیتے رہے۔
صحیح بخاری و مسلم میں منقول ہے کہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب جنگ بدر کا موقع آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مشرکین مکہ کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے جبکہ لشکر اسلام کی تعداد صرف تین سو تیرہ ہے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر بیٹھ گئے اور اللہ عز وجل کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ بلند کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! اگر یہ مٹھی بھر مسلمان آج ختم ہو گئے تو اس زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا مانگنے کے دوران حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک کندھوں سے گرگئی۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چادر اٹھا کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر ڈالی اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ کافی ہے اللہ عزوجل اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے لشکر اسلام کی غیبی مدد فرمائی اور ہمیں مشرکین پر فتح عطا فرمائی۔
ابن اسحاق کی روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیمے میں اونگھ آگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابو بکر (رضی اللہ عنہ) تمہیں مبارک ہو اللہ عزوجل کی مدد آن پہنچی ہے اور جبرائیل علیہ السلام اپنے گھوڑے کی باگیں پکڑے آرہے ہیں۔
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا: سب سے بہادر کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں! میرا تو مقابلہ جس سے بھی ہوا میں اس کے برابر رہا لیکن میں نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر شخص کوئی نہیں دیکھا۔ جنگ بدر میں جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سائبان بنایا گیا تو سوال پیدا ہوا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے کسے مقرر کیا جائے جو کفار کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے سے روکے۔ اللہ کی قسم! اس وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہ گیا اور وہ اپنی تلوار پکڑے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرماتے رہے۔
جنگ بدر میں اللہ عز وجل نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبولیت بخشی اور مٹھی بھر مسلمانوں کو کفار پر فتح دی۔ اس جنگ میں ستر (70) کے قریب کفار کے سردار مارے گئے جبکہ چودہ (14) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جام شہادت نوش فرمایا۔ لشکر اسلام نے ستر کے قریب کفار کو اسیر بنایا جن کو مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تحویل میں دے دیا گیا اور بعد ازاں کچھ کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔
حق و باطل کی اس لڑائی میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کردار نمایاں رہا۔ جنگ بدر کی تمام تر جنگی حکمت عملی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مشوروں سے طے کی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرفتار شدہ مشرکین کے ساتھ سلوک کے بارے میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دیگر اکابرین سے مشورہ کیا تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! قریش مکہ کے جو جنگی قیدی ہیں ان میں سے اکثریت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لوگوں کی ہے میری رائے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مناسب فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں تا کہ جو فدیہ ہمیں ملے اس سے مسلمانوں کی مالی حالت بہتر کرنے میں مدد ملے اور ہم اپنے فوجی مصارف کو بھی پورا کر سکیں۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میری رائے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ والی نہیں ہو سکتی۔ میری رائے میں ہر ایک کا سر قلم کر دینا چاہئے تا کہ کفار مکہ کو پتہ چلے کہ ہمارے دل میں ان کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں اس طرح وہ ہماری سختی دیکھیں گے تو ان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بات سنی تو خیمے کے اندر تشریف لے گئے۔ کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے دل نرم کر دیتا ہے تو وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں اور بعض کے دل سخت کر دیتا ہے تو وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سی ہے کہ وہ اللہ عز وجل کے حضور عرض کرتے ہیں:
“جو میری بات مان لے وہ میرے ساتھ ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو اس کی مغفرت فرما اور تو رحم کرنے والا ہے۔”
اور ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تمہاری مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سی ہے جو اللہ عز وجل کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:
“اے اللہ! انہیں عذاب دے تو حق ہے کہ یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تیرا اختیار ہے کہ تو غالب و حکیم ہے۔”
اور اے عمر (رضی اللہ عنہ) تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام کی سی ہے جو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں یوں دعا فرماتے ہیں:
“اے پروردگار! زمین پر کسی کافر کو نہ رہنے دے۔”
اور عمر (رضی اللہ عنہ) تمہاری مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سی ہے جو اللہ عزوجل کے حضور عرض کرتے ہیں:
“اے پروردگار! ان کے مال تباہ کر دے ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ یہ درد ناک عذاب دیکھے بغیر ماننے والے نہیں ہیں۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کو فوقیت دی اور متعدد کفار فدیہ لے کر آزاد کر دیئے گئے۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر جو غزوہ بدر کے موقع پر مسلمان نہ ہوئے تھے اور مشرکین مکہ کے ہمراہ تھے انہوں نے مسلمان ہونے کے بعد ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ میری تلوار کی زد میں کئی مرتبہ آئے تھے مگر میں نے والد سمجھ کر آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا تھا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیٹے کی بات سن کر فرمایا: تم اس موقع پر میری تلوار کے نیچے نہ آئے اگر تم میری تلوار کے نیچے آتے تو قسم ہے اللہ عزوجل کی! میں تمہیں زندہ نہ چھوڑتا کیونکہ جنگ بدر حق اور باطل کے درمیان معرکہ تھا اور تم باطل کے نمائندے تھے۔