0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 11 مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر

 سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

قسط نمبر 11

مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر

حضور نبی کریم ﷺ کی اونٹنی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے بیٹھنے سے پہلے بنو مالک بن نجار کے ایک محلے کے میدان میں بیٹھ گئی تھی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ کے مالکوں کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ جگہ دو یتیم بھائیوں سہل اور سہیل کی ملکیت ہے اور ان کے سرپرست حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ تھے جو مدینہ منورہ میں اسلام لانے والے پہلے شخص تھے۔ یہ وہی جگہ تھی جسے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یتیم بھائیوں سے خرید کر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد رکھی۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جگہ کی قیمت حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ادا کی جو دس ہزار درہم تھی۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایثار کی ایک اور مثال تھی۔

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ شانہ بشانہ کام کیا۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مسجد کی تعمیر میں پیش پیش رہے اور اپنی کمر پر پتھر رکھ کر لاتے تھے۔ ابتداء میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی سادہ بنائی گئی اور دیواریں پتھر اور گارے سے بنائی گئیں اور چھت کھجور کے پتوں کی بنائی گئی۔

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ارد گرد حجروں کی تعمیر کا حکم دیا اور جب حجرے مکمل ہو گئے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل وعیال کے ہمراہ ان حجروں میں منتقل ہو گئے۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں کپڑے کا کاروبار کرتے تھے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں بھی یہی پیشہ اختیار کیا اور اپنے انصاری بھائی حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر کپڑے کی تجارت کا آغاز کیا۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں فروغ اسلام اور ترقی دین کے لئے اپنے روز و شب وقف کر دیئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر قیادت وعظ و تلقین کا سلسلہ شروع کیا۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بہادری اور شجاعت بے مثل تھی جس کی وجہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دفاعی شعبے کا انچارج مقرر کیا۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی صلاحیتوں سے ثابت کیا کہ وہ بلاشبہ اس منصب کے حقدار ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر مہم میں مجاہدین کی روانگی کے لئے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مشورہ کرتے اور آپ رضی اللہ عنہ کے مشورے کو دیگر پر فوقیت دیتے۔

ام المومنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیمار ہو گئے۔ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عامر رضی اللہ عنہ بن فہیره بھی شامل تھے۔ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات کی عیادت کے لئے تشریف لائے تو ان تینوں حضرات نے مختلف اشعار پڑھے جن میں موت کا ذکر تھا جسے سن کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آبدیدہ ہو گئے اور اپنے اصحاب کی صحت یابی کے لئے اللہ عز وجل کے حضور دعا کی جس سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صحت یاب ہو گئے۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں