0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 9 معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

قسط نمبر 9

معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 

27 رجب المرجب بروز سوموار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام براق لے کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی خوشخبری سنائی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام سے بیت المقدس تشریف لے گئے جہاں کل انبیاء کرام علیہم السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز ادا کی۔

بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے، دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام سے، تیسرے آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام سے، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے، پانچویں آسمان پر حضرت زکریا علیہ السلام سے، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔

بعد ازاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ پر تشریف لے گئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات اللہ عز وجل سے ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو چالیس نمازوں کا تحفہ ملا جو بعد میں پانچ نمازوں تک ہو گیا۔ معراج سے واپسی پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میری اس معراج کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس معراج کی تصدیق ابوبکر رضی اللہ عنہ کریں گے کیونکہ وہ صدیق ہیں۔

چنانچہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معراج سے واپس آئے اور لوگوں کو اپنی معراج کے بارے میں بتایا تو مشرکین مکہ نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر طنزیہ لہجے میں کہا کہ اب تمہارا دوست کہتا ہے کہ وہ آسمانوں کی سیر کر کے آیا ہے؟ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب مشرکین مکہ کی زبانی سنا تو بر ملا کہا کہ اگر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ وہ آسمانوں کی سیر کو گئے تھے تو وہ درست کہتے ہیں اور میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں کی سیر کو تشریف لے گئے تھے۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تصدیق کے بعد اللہ عز وجل نے بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ معراج کو سند بخشی اور قرآن مجید میں سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا:

پاک ہے وہ ذات جو لے گئی راتوں رات اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں بے شک اللہ ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے

پھر اللہ عز وجل نے سورہ النجم نازل فرمائی جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ معراج کی تصدیق کی گئی۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ نے مشرکین مکہ سے فرمایا کہ اگر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے کہ مجھ سمیت میرے گھر والوں کو بھی معراج کی سعادت حاصل ہوئی ہے تو میں یقیناً اس بات کو بھی بلاتردر قبول کر لیتا۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں