سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
قسط نمبر 1
نام ونسب
آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبد اللہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو بکر اور القابات صدیق اور عتیق ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد ماجد کا نام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہے جن کی کنیت ابو قحافہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت سلمیٰ بنت صخر رضی اللہ عنہا ہے جو اپنی کنیت ام الخیر سے مشہور ہوئیں۔
صدیق کی وجہ تسمیہ
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لقب “صدیق” کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے بعد واپس آئے اور قریش مکہ کو اپنی معراج سے آگاہ کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی۔ جب سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو واقعہ معراج کے بارے میں پتہ چلا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج پر جانے کی تصدیق کرتا ہوں۔ چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کی اس تصدیق کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کو “صدیق” کا لقب دیا ۔
امام نووی رحمہ اللہ نے حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق اس وجہ سے ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ سچ بولا کرتے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق میں جلدی کی اور آپ رضی اللہ عنہ سے کبھی کوئی لغزش نہیں ہوئی۔
ابن سعد کی روایت ہے کہ جب معراج شریف میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی سیر کروائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میری اس سیر کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کریں گے کیونکہ وہ صدیق ہیں۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق، حضرت سیدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ احد پہاڑ پر زلزلہ آ گیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیر کی ٹھوکر لگائی اور فرمایا: اے احد! ٹھہر جا، تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔
حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال پر فرمایا کہ اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام صدیق رکھا اور پھر آپ رضی اللہ عنہ نے سورۃ الزمر کی آیت ذیل کی تلاوت فرمائی:
وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ
وہ جو سچائی لے کر آیا اور وہ جس نے اس سچائی کی تصدیق کی وہی متقی ہیں۔
عقیق کی وجہ تسمیہ
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اسم گرامی کے بارے میں اکثر محدثین کا خیال ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا نام عتیق تھا۔ عتیق کا مطلب ہے آزاد۔ جبکہ بیشتر محدثین کرام کا خیال ہے کہ عقیق آپ رضی اللہ عنہ کا لقب تھا اور اس ضمن میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت بیان فرماتے ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک روز میں اپنے حجرہ مبارک میں موجود تھی اور باہر صحن میں کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تشریف فرما تھے۔ اس دوران حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ کسی عتیق (آزاد) کو دیکھنا چاہیں وہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیں۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ عزوجل نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آگ سے آزاد کر دیا ہے۔ چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد آپ رضی اللہ عنہ عقیق کے لقب سے بھی مشہور ہوئے۔
حضرت لیث بن سعد رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو عتیق حسن صورت کی وجہ سے کہا جاتا تھا۔
ابو بکر کی وجہ تسمیہ
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر کے بارے میں منقول ہے کہ چونکہ آپ رضی اللہ عنہ اعلی خصلتوں کے مالک تھے اس لئے آپ رضی اللہ عنہ ابوبکر کے نام سے مشہور ہوئے جو بعد ازاں آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ٹھہری۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر کے بارے میں یہ سند پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتی کہ آپ رضی اللہ عنہ کو سب سے پہلے ابوبکر کے نام سے کس نے پکارا تھا۔
سلسلہ نسب
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا شجرہ نسب ذیل ہے۔
حضرت سیدنا عبد اللہ (ابوبکر صدیق) رضی اللہ عنہ بن حضرت عثمان (ابو قحافہ) رضی اللہ عنہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ہیں۔
حضرت ابو بکر صدیق صلی اللہ کا شجرہ نسب مرہ بن کعب پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔