0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 6 قبول اسلام

 سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ 

قسط نمبر 6 

قبول اسلام

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پیشہ کے لحاظ سے کپڑے کے تاجر تھے اور ملک شام اور ملک یمن میں تجارت کی غرض سے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے جس وقت نبوت کا اعلان کیا آپ رضی اللہ عنہ اس وقت ملک شام تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ جب واپس آئے تو آپ رضی اللہ عنہ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے بارے میں معلوم ہوا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے آپ رضی اللہ عنہ کو بھی دعوت اسلام دی جسے آپ رضی اللہ عنہ نے صدق دل سے قبول کر لیا اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔

امام سہیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دعوت اسلام دی تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی تردد کے اس دعوت کو قبول فرمالیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے سے پہلے خواب میں چاند دیکھا جو مکہ مکرمہ کی طرف نازل ہوا اور ہر گھر میں علیحدہ علیحدہ داخل ہوا۔ وہ چاند جس گھر میں بھی داخل ہوا وہاں نور چمک اٹھا۔ پھر وہ چاند میرے گھر میں داخل ہوا اور میری گود میں جمع ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے اس خواب کی تعبیر چند اہل کتاب سے معلوم کی تو انہوں نے بتایا کہ جس نبی کا انتظار تھا اس کی آمد ہو چکی ہے اور تم اس نبی کے دامن سے وابستہ ہو گے اور تمام لوگوں سے زیادہ سعادت مند ہو گے۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں خانہ کعبہ کے صحن میں تشریف فرما تھا۔ زید بن عمرو بھی میرے ہمراہ تھا۔ اس دوران امیہ بن ابی صلعت جو کہ شاعر تھا وہاں سے گزرا اور اس نے زید سے کہا: خیر کے متلاشی تم کیسے ہو؟ زید نے جواب دیا: خیریت سے ہوں۔ امیہ بن ابی صلعت نے پوچھا: کیا تم نے پالیا ہے؟ زید نے کہا: نہیں۔ تب امیہ بن ابی صلعت نے یہ شعر پڑھا جس کا مفہوم تھا کہ قیامت کے دن سارے دین مٹ جائیں گے اور صرف ایک دین باقی رہ جائے گا جس کا فیصلہ اللہ عزوجل فرمائے گا۔ پھر امیہ بن ابی صلعت نے کہا: جس کا تمہیں انتظار ہے وہ ہم میں سے ہوگا یا پھر اہل فلسطین میں سے ہوگا۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امیہ بن ابی صلعت کی بات سن کر میں ورقہ بن نوفل کے پاس گیا جنہوں نے مجھے کہا: ہاں بھتیجے! ایک نبی کا انتظار تو ہے اور اہل کتاب اور علماء کا اصرار ہے کہ وہ شخص ملک عرب کی بہترین نسل میں سے ہوگا۔

تہذیب تاریخ ابن عساکر میں منقول ہے کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ملک یمن تجارت کی غرض سے گئے۔ ملک یمن میں آپ رضی اللہ عنہ کی ملاقات قبیلہ ازد کے ایک عمر رسیدہ عالم دین سے ہوئی جو کہ تمام آسمانی کتابوں کا عالم تھا۔ اس نے جب آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو دریافت کیا کہ کیا تم حرم کے رہنے والے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں میں اہل حرم میں سے ہوں۔ اس عالم نے پوچھا: کیا تم قریشی ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں میں قریشی ہوں۔ اس عالم نے پوچھا: کیا تم تیمی ہو؟ یعنی بنوتیم سے تمہارا تعلق ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں میں تیمی ہوں اور میرا نام عبداللہ بن عثمان ہے۔ اس عالم نے آپ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم ایک نبی کے ساتھی بنو گے جو عنقریب مبعوث ہونے والا ہے۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جب ملک شام اور ملک یمن کے سفر کے بعد مکہ مکرمہ واپس آئے تو آپ رضی اللہ عنہ کو سفر کی کامیابی کی مبارکباد دینے کے لئے سرداران قریش کا ایک وفد آیا اور کامیاب تجارتی سفر کی مبارک باد دی اور کہنے لگے کہ تمہارے دوست محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ہمارے آباؤ اجداد کے دین کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے۔ ہم تمہارے ہی انتظار میں تھے کہ تم آو اور تمام معاملہ اپنے ہاتھ میں لو۔
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اسی وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تشریف لے گئے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باہر آنے کی درخواست کی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے ابو القاسم صلی اللہ علیہِ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ایک خدا کی عبادت کی دعوت دے رہے ہیں اور نبی برحق ہونے کا دعوی کرتے ہیں؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! میرے پروردگار نے مجھے ایک خاص مقصد کے لئے مبعوث فرمایا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ میں لوگوں کو خدائے واحد کی عبادت کی تلقین کروں انہیں بُرے کاموں سے روکوں اور ان تک اللہ عزوجل کا پیغام پہنچاؤں۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر فرمایا: بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ نہیں بولتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس منصب اعلیٰ کے اہل ہیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم امانت دار ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے کام کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اچھے کام کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پر بیعت کرتا ہوں اور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور پھر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق صلی اللہ نے اسلام قبول کر لیا۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں ایک روایت یہ بھی منقول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے دعوی نبوت کی دلیل مانگی تو حضور نبی کریم کی ﷺ نے فرمایا: تو نے ملک شام میں ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر بھی تو نے معلوم کی تھی۔ پھر تو ملک یمن میں ایک عالم سے ملا تھا جس نے تجھے خبر دی تھی۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب یہ باتیں سنیں تو حیرانگی سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام باتوں کی خبر کس نے دی؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عظیم فرشتہ نے جو مجھ سے پہلے انبیاء پر نازل ہوتا رہا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسی وقت اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق ہونے کی گواہی دے دی۔
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والے دوسرے شخص تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پہلے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا۔

حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے پوچھا کہ مہاجرین اور انصار نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کی بیعت میں سبقت کیوں کی جبکہ آپ رضی اللہ عنہ کو ان پر فوقیت حاصل تھی۔ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو چار باتوں میں فوقیت حاصل تھی، میں ان کا ہمسر نہیں تھا، اسلام کا اعلان کرنے میں، ہجرت میں پہل کرنے، غار میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے اور اعلانیہ نماز قائم کرنے میں وہ مجھ سے آگے تھے۔ انہوں نے اس وقت اسلام کا اظہار کیا جبکہ میں اسے چھپا رہا تھا۔ قریش مجھ کو حقیر سمجھتے تھے جبکہ وہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پورا پورا وزن دیتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یہ خصوصیات نہ ہوتیں تو اسلام اس طرح نہ پھیلتا اور طالوت کے ساتھیوں نے نہر سے پانی پی کر جس کردار کا اظہار کیا تھا اسی طرح کے کردار کا اظہار لوگ یہاں بھی کرتے۔ دیکھتے نہیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو ڈانتا وہاں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تعریف بھی کی۔

امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے ہے اور اس بات کی تائید ترمذی شریف کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قبول کیا، عورتوں میں سب سے پہلے اسلام ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے قبول کیا جبکہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے قبول کیا۔

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں