سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
قسط نمبر 8
راہِ خدا میں بر ملا خرچ کرنا
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے والد ابو طالب فوت ہوئے تو ان کی وفات کے تین دن بعد قریش مکہ آئے اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا ارادہ کیا۔ اس موقع پر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مشرکین مکہ کو ہٹاتے رہے اور فرماتے رہے کہ کیا تم اس بنا پر ان کو شہید کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ ایک ہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں اور اس بات کی دلیل بھی ان کے پاس ہے اور بخدا! وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔
حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اللہ کی قسم کھا کر بتائیں کہ آلِ فرعون کے مومن اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں سے کون بہتر ہے؟ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ان سے بہتر ہیں کیونکہ وہ ایک مرد مومن تھا جس نے ایمان چھپائے رکھا اور اللہ عز وجل نے اس کی تعریف کی اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک جوانمرد ہیں جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر راہ خدا میں بر ملا خرچ کیا۔