0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 10 یارِ غار

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

قسط نمبر 10

یارِ غار

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مشرکین مکہ کو دعوت حق کی تبلیغ کی تو مشرکین مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کے دشمن بن گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو طرح طرح کی اذیتیں دینا شروع کر دیں۔ اس دوران حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دیا تا کہ وہ مشرکین مکہ کے مظالم سے بچ سکیں اور تبلیغ اسلام کا کام بخوبی انجام دے سکیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی وہ جماعت جس نے حبشہ کی جانب ہجرت کی ان کے پہلے قافلے میں پندرہ مرد اور عورتیں شامل تھے جس کے بعد آہستہ آہستہ مزید قافلے حبشہ کی جانب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہجرت کر گئے اور یوں مسلمان مہاجرین کی تعداد سو سے تجاوز کر گئی جس میں تراسی (۸۳) مرد اور اٹھارہ (۱۸) عورتیں شامل تھیں۔ نجاشی کے دربار میں مہاجرین کی نمائندگی حضرت سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کرتے تھے۔ حبشہ کی جانب ہجرت کرنے والوں میں حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ مع اہلیہ،  حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام بھی شامل تھے۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی حبشہ کی جانب ہجرت کا ارادہ کیا۔ مشرکین مکہ میں سے ایک سردار ابن دغنہ کو آپ رضی اللہ عنہ کی ہجرت کا پتہ چلا تو اس نے سردارانِ قریش سے کہا کہ ابو بکر (رضی اللہ عنہ)! ایسا شخص نہیں جو اپنے وطن سے چلا جائے یا اسے وطن سے نکل جانے پر مجبور کیا جائے وہ لوگوں سے صلہ رحمی کرتا ہے اور مصائب میں گھرے ہوئے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ ابن دغنہ نے سردارانِ قریش کو ضمانت دی اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حبشہ کی جانب ہجرت کرنے سے روک دیا۔

حبشہ کی جانب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے ہجرت کرنے کے باوجود کفار مکہ کے مظالم میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ مشرکین مکہ مسلمانوں کو تنگ کرنے کے نت نئے طریقے تلاش کرتے رہتے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کفار مکہ کے مظالم نہایت ہی حوصلے سے برداشت کئے اور دین اسلام کی تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران یثرب (مدینہ منورہ کا پہلا نام) سے کچھ لوگوں کا قافلہ آیا اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پر اسلام قبول کر لیا۔ جب کفار مکہ کے مظالم میں شدت آئی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 11 نبوی میں مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دیا جس کے بعد مسلمانوں نے قافلوں کی صورت میں مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کرنا شروع کردی۔

بخاری شریف میں حضرت امام اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ہجرت کے متعلق روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے فرمایا کہ

مجھے تمہارا دار ہجرت دکھایا گیا ہے جو کھجوروں والا شہر ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہجرت کے وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی مرتبہ ہجرت کی اجازت طلب کی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جلدی مت کرو ممکن ہے اللہ تعالیٰ تمہارا کوئی نیک ساتھی بنادے۔ جس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک کثیر جماعت مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئی اور مکہ مکرمہ میں صرف حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سمیت چند صاحب حیثیت مسلمان رہ گئے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر لٹایا اور خود حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچ گئے۔ اتفاق سے اس رات کفار مکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچ چکے تھے مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آنکھوں کے سامنے سے نکل گئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچ کر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق سے فرمایا کہ اے ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! مجھے میرے رب نے ہجرت کا حکم دیا ہے اور میرے اس سفر میں تم میرے رفیق ہو۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ الفاظ سنے کہ تم میرے رفیق ہو آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کی کیفیت دیکھتے ہوئے فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تم حوض کوثر پر بھی میرے ساتھی ہو اور غار میں بھی میرے ساتھی ہو۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اپنی دونوں اونٹنیوں کو تیار کیا جنہیں آپ رضی اللہ عنہ نے پچھلے چار ماہ سے صرف اس لئے پال رہے تھے کہ کسی بھی وقت ہجرت کا حکم ہو گیا تو سفر میں مشکل در پیش نہ ہو۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن میں کئی مرتبہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گھر تشریف لاتے اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت ملی اس روز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو پہر کے وقت تشریف لائے۔ گھر والے حیران تھے کہ آج خلاف معمول حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو پہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائے ہیں۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لا رہے ہیں تو ضرور کوئی اہم بات ہے؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! اہل خانہ کو یہاں سے ہٹا دو۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی اور میرے اس سفر میں تم میرے رفیق ہو۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب یہ خوشخبری سنی تو آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت ہجرت کے لئے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دونوں اونٹنیاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیں کہ جس پر چاہیں سفر کریں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! ایسے نہیں تم مجھ سے اونٹنی کی قیمت لو۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تو ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم مجھ سے وہ قیمت لے لو جس قیمت میں تم نے یہ خریدی ہے۔ چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کی قیمت ادا کی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی اطلاع حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے علاوہ صرف حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو تھی جن کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کی امانتیں واپس کرنے کے لئے اپنے بستر پر لٹایا تھا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حضرت آسماء رضی اللہ عنہا کو کچھ درہم دیئے اور کہا کہ وہ اس سے گوشت خرید کر پکائیں تا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار ہو۔ جس وقت حضرت آسماء رضی اللہ عنہا گوشت پکارہی تھیں اس وقت ابو جہل اور دیگر مشرکین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر آئے اور حضرت آسماء رضی اللہ عنہا سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے انکار کر دیا تو اُس بدبخت نے آپ رضی اللہ عنہا کے چہرہ پر تھپڑ مارا جس سے کان کی بالی گر گئی اور کان کے نچلے حصے سے خون نکلنا شروع ہو گیا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت گھر سے نکلے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے بازار میں کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کو دیکھا اور فرمایا:

“مجھے اور اللہ کو تو بہت محبوب ہے مگر یہاں کے رہنے والے مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور کر رہے ہیں اگر یہ مجھے مجبور نہ کرتے تو میں ہرگز یہاں سے نہ جاتا۔”

جس وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سفر کے لئے گھر سے نکلنے لگے تو حضرت آسماء رضی اللہ عنہا سفر کا سامان لے کر آگئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے جب دیکھا کہ سامان باندھنے کے لئے کچھ نہیں تو اپنا ازار بند دو ٹکڑے کر کے اس سے سامان سفر کو باندھ دیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آسماء رضی اللہ عنہا کے جب اس عمل کو دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہا کو “ذات النطاطین” کا خطاب دیا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ شہر سے باہر نکلے اور جنوب کی سمت روانہ ہوئے جو ملک یمن کی جہت پر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام عامر رضی اللہ عنہ بن فہیرہ اور عبد الرحمن بن اریقط جس کا تعلق بنوویل سے تھا اور جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ بتانے کے لئے اُجرت پر رکھا تھا کے حوالے دونوں اونٹنیاں اور دیگر سامان دیا اور ان سے کہا کہ وہ انہیں تین روز بعد غار ثور میں ملیں جو مدینہ منورہ کے راستہ میں واقع تھا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سفر کا پہلا پڑاؤ غار ثور میں ہی ہوا۔ غار ثور تک کا سفر نہایت ہی دشوار گزار تھا اور کئی مقامات پر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار ہونے کا ثبوت دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد ایک محافظ کی طرح رہے۔ یہی نہیں بلکہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی مواقع پر اپنے کندھوں پر اٹھا کر سفر کیا۔

روایات میں موجود ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں بتوں کا صفایا کر رہے تھے تو اس موقع پر لات کا بت جو کہ ایک اونچی جگہ نصب تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کوحکم دیا کہ وہ آپ ﷺ کے کندھوں پر چڑھ کر اسے توڑ دیں۔ حضرت سیدناعلی المرتضی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمزور ہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھوں پر چڑھ کر اس بت کو توڑ دیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اے علی (رضی اللہ عنہ)! کیا تم نبوت کا بوجھ اٹھا لو گے؟ اور حضرت سیدنا علی المرتضى رضی اللہ عنہ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر خاموش ہو گئے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر چڑھ گئے۔ جس وقت حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر چڑھے تو عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ہاتھ اس وقت عرش معلیٰ تک پہنچ گئے ہیں اگر حکم ہو تو عرش معلیٰ کو نیچے کھینچ لوں؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی (رضی اللہ عنہ) تمہیں جو کہا گیا ہے تم وہ کرو۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ کی شان صدیقیت کی یہ بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نہ صرف حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر ہجرت میں رہے اور غار ثور میں قیام کیا اور یار غار کے لقب سے سرفراز ہوئے بلکہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کی بھی سعادت حاصل کی۔

غار ثور کے سفر کے دوران حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا گزر قبیلہ خزاعہ کی ایک نیک سیرت عورت اُم معبد کے پاس سے ہوا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت فرمایا کہ اس کے پاس اگر کجھوریں، دودھ اور گوشت ہو تو وہ انہیں بیچ دے۔ ام معبد نے عرض کیا کہ میرے پاس اس وقت کچھ نہیں ہے سوائے ایک بکری کے جو نہایت کمزور ہے اور وہ بکری حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کے تھنوں کو بسم اللہ پڑھ کر ہاتھ لگایا اور دودھ دوہنا شروع کر دیا۔ بکری کے دودھ سے برتن بھر گیا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بکری کا دودھ دوہا اور جب برتن دودھ سے بھر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ برتن ام معبد کو دیا۔ جب ابو معبد گھر واپس آیا تو اُم معبد نے سارا ماجرا ابو معبد کو بیان کیا کہ کس طرح دو نیک فرشتہ صفت انسان آئے اور ان کی کمزور بکری کا دودھ دوہا، خود بھی سیر ہو کر پیا اور ہمارے لئے بھی ایک برتن بھر کر چھوڑ گئے۔ ابو معبد نے جب حلیہ دریافت کیا تو اُم معبد نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حلیہ مبارک بیان کر دیا۔ ابو معبد نے جب حلیہ سنا تو کہا: اللہ کی قسم! یہ تو وہی ہیں جن کا تذکرہ مکہ میں ہو رہا ہے۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب میں اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے نکلے تو ساری رات سفر کے بعد صبح کے وقت ہمیں ایک چٹان نظر آئی جس کے سائے میں میں نے کپڑا بچھا دیا تا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر آرام فرما لیں۔ اس دوران ایک چرواہا ادھر نکل آیا۔ میں نے اس چرواہے سے پوچھا کہ کیا اس کی بکریاں دودھ دیتی ہیں تو اس نے ایک بکری میرے حوالے کر دی جس کے تھنوں کو صاف کر کے میں نے دودھ دوہا اور ایک برتن کو دودھ سے بھر کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں نے سیر ہو کر پیا۔

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دودھ پینے کے بعد ہم نے وہاں سے کوچ کیا۔ راستے میں سراقہ بن مالک بن جعثم کنانی نے ہمیں آن لیا۔ میں نے جب اسے دیکھا تو رو پڑا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ہماری تلاش میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غم نہ کھاؤ یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ جب کچھ دیر بعد سراقہ ہمارے نزدیک آگیا تو میں نے پھر روتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس نے ہمیں آن لیا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! روتے کیوں ہو؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے لئے نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے روتا ہوں کہ خدانخواستہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچائے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنے ہاتھ دعا کے لئے بلند کئے اور فرمایا: اے اللہ! جس ذریعے سے تو چاہے ہمیں اس سے بچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا تھا کہ سراقہ کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا اور وہ چھلانگ لگا کر گھوڑے سے نیچے اتر آیا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنے لگا کہ مجھے معلوم ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس مصیبت سے نجات دے دیں تو میں انہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کر رہے ہیں یہاں تک نہیں آنے دوں گا۔ چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں دعا کی اور اس کا گھوڑ از مین سے نکل آیا اور واپس مکہ چلا گیا۔

 سراقہ بن جعثم نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ بیان کیا ہے کہ جس وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کے لئے نکلے تو سرداران قریش نے ان کو پکڑوانے والے کے لئے سو اونٹ انعام مقرر کیا۔ میں اس وقت کچھ دوستوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے ایک شخص نے آکر کہا کہ ابھی کچھ دیر پہلے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ابوبکر (رضی اللہ عنہ) دونوں فلاں جگہ سے گزرے ہیں۔ میں فوراً گھر آیا اور گھوڑے پر زین کسی۔ پھر میں نے فال نکالی جو اچھی نہ تھی۔ میں نے دوبارہ فال نکالی تو پھر وہی نکلی۔ میں سو اونٹوں کے لالچ کے ہاتھوں مجبور ہو کر گھر سے نکلا۔ جب میں گھر سے نکلا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے پاس پہنچا تو میرا گھوڑا پھسل گیا اور اس کی اگلی دونوں ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں۔ میں چھلانگ لگا کر گھوڑے سے اُتر آیا۔ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگی اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ وہ مجھے کچھ ایسی تحریر دیں جو میرے اور ان کے درمیان نشانی ہو۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے مجھے ایک تحریر لکھ دی جسے میں نے اپنے پاس سنبھال کر رکھ لیا۔ پھر مکہ فتح ہوا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین کے بعد واپس آرہے تھے تو جعرانہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تحریر دکھائی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج ایفائے عہد اور نیکی کا دن ہے میرے قریب آؤ۔ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پر بیعت ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غار ثور میں تین دن اور تین راتیں قیام فرمایا۔ جس وقت دونوں حضرات غار ثور میں پہنچے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ انہیں پہلے غار میں جانے دیں تاکہ وہ غار کا جائزہ لیں کہ اندر کوئی زہریلا جانور یا کوئی اذیت والی چیز تو موجود نہیں ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غار کے اندر داخل ہوئے اور غار میں موجود تمام سوراخ اپنے تہبند کو پھاڑ کر اس سے بند کر دیئے اور صرف دو سوراخ باقی بچ گئے جن پر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے پاؤں رکھ دیئے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی گزارش کی۔ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار میں تشریف لائے تو آرام کی غرض سے لیٹ گئے اور سر مبارک حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی گود میں رکھ دیا۔ جن سوراخوں پر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے پاؤں رکھے ہوئے تھے ان میں سے ایک سوراخ میں سے بچھو نے آپ رضی اللہ عنہ کو ڈنک مارا جس کی درد کی شدت سے آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ آنسو بہہ کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار مبارک پر گر پڑے جس سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے معاملہ دریافت کیا۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سارا ماجرا گوش گزار کر دیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لعاب دہن بچھو کے ڈنک والی جگہ پر لگایا جس سے زہر کا اثر جاتا رہا اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تکلیف ختم ہو گئی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس تکلیف کے عوض اللہ عزوجل کے حضور دعا فرمائی کہ الٰہی! ابوبکر رضی اللہ عنہ کو روز محشر میرے ساتھ مقام عطا فرمانا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبولیت اللہ عز وجل نے بذریعہ وحی عطا فرمائی۔

غار ثور کی طرف جاتے ہوئے راستے میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کبھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلنا شروع ہو جاتے اور کبھی پیچھے کبھی دائیں اور کبھی بائیں چلنا شروع کر دیتے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! کیا معاملہ ہے تم اتنے پریشان کیوں ہو؟ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے ڈر ہے کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور نہ ہو جائے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔ پھر جب دونوں حضرات غار میں داخل ہو گئے تو اللہ عز وجل کے حکم سے غار کے باہر ایک درخت اُگ پڑا اور غار کے منہ پر دو کبوتریوں نے انڈے دے دیئے اور ایک مکڑی نے غار کے منہ پر جالا بن دیا۔ مشرکین مکہ کا ایک گروہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تلاش میں غار کے دہانے پر پہنچ گئے مگر جب انہوں نے غار کے دہانے پر کبوتریوں کو انڈوں پر بیٹھے دیکھا اور مکڑی کا جالا دیکھا تو یہ سوچ کر واپس لوٹ گئے کہ غار میں کوئی موجود نہیں ہے۔

غار ثور میں قیام کے دوران حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سامان خوراک لے کر آتے رہے اور مکہ مکرمہ کے حالات بھی بیان کرتے رہے۔ تیسرے دن حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت عامر رضی اللہ عنہ بن فہیرہ اور عبد الرحمن بن اریقط دونوں اونٹ لے کر آگئے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مدینہ منورہ کی جانب سفر کا آغاز شروع ہوا۔

غار ثور میں تین دن اور تین راتوں کے قیام کے متعلق حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ غار ثور میں قیام کے بعد مجھے کبھی بھی دین کے معاملے میں خوف اور پریشانی لاحق نہ ہوئی۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ قافلہ ساحلی راستوں سے ہوتا ہوا مدینہ منورہ کے قریب ایک بستی قُبا میں پہنچ گئی۔ قبا کے لوگوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پر جوش استقبال کیا۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی قبا میں اس قافلے میں شمولیت اختیار کی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا میں ایک مسجد کی بنیاد رکھی جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں قریباً سو لوگوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کی وجہ سے اس مسجد کا نام “مسجد جمعہ” مشہور ہوا۔ مسجد جمعہ کے بارے میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں کہ یہ وہی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔

قبا میں کچھ دن قیام کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قافلہ مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوا۔ جس وقت یہ قافلہ مدینہ منورہ میں داخل ہوا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سب سے آگے تھی اس کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اونٹنی تھی اور پھر دیگر اصحاب جو قبا میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے میں شامل ہوئے تھے۔ قافلے کا استقبال بنو نجار نے کیا اور ان کی بچیوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوشیوں بھرے گیت گائے اور دف بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے قریباً پانچ سو لوگوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قافلے کا استقبال کیا۔ انصار کی عورتیں اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑی تھیں اور ایک دوسرے سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتی تھیں۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر مشتمل قافلہ مدینہ منورہ میں داخل ہوا تو یہ قافلہ انصار کے ہر گھر کے آگے سے گزرا۔ ہر انصاری کی خواہش تھی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قافلہ اس کے گھر قیام پذیر ہو۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اونٹنی جس کے گھر کے آگے بیٹھے گی میں وہیں قیام فرماؤں گا۔ چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے آگے جا کر بیٹھ گئی اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قافلہ بارہ ربیع الاول کو مدینہ منورہ میں داخل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد اسلامی سن ہجری کا آغاز شروع ہوا۔

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں