سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
قسط نمبر 14
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنگ خندق میں
ذی قعده 5 ہجری کو غزوہ احزاب جسے غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے پیش آیا جس میں لشکر اسلام کی تعداد تین ہزار تھی اور دشمنانِ اسلام کی تعداد چوبیس ہزار کے قریب تھی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جنگ کی حکمت عملی مرتب کرنے کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں شہر کے اردگرد ایک خندق کھودنی چاہئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے کو پسند فرمایا اور یوں پانچ گز گہری اور پانچ گز چوڑی ایک خندق شہر مدینہ کے گرد کھو دی گئی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کی کھودائی کے لئے دس دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک گروہ تشکیل دیا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ خندق کی کھودائی میں شب و روز مشغول رہے۔ حضرت سیدنا ابو بکر صديق رضی اللہ عنہ جبل سلع کی چوٹی پر چڑھ جاتے اور چاروں طرف نظر دوڑاتے اور مدینہ منورہ میں لوگوں کو پر سکون دیکھ کر اللہ عز وجل کا شکر ادا کرتے۔
ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھک کر سو گئے تو آپ رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد پہرا دیتے رہے تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند خراب نہ ہو۔ مشرکین نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کیا مگر وہ خندق عبور کرنے میں ناکام رہے۔ بالآخر اللہ عز وجل نے لشکر اسلام کی مدد فرمائی اور ایک تیز آندھی آئی جس نے مشرکین کے خیمے اکھاڑ دیئے اور مشرکین جو کئی روز کے محاصرے سے تنگ آچکے تھے اور ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء بھی ختم ہو چکی تھیں وہ میدانِ جنگ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔