0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 17 امیر حج

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ 

قسط نمبر 17 

امیر حج

9 ہجری میں غزوہ تبوک سے واپسی پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج مقرر فرمایا اور آپ رضی اللہ عنہ تین سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قافلہ لے کر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ حج کے لئے روانہ ہوئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے بھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کئی اہم ذمہ داریاں سونپتے رہے تھے اور اب آپ رضی اللہ عنہ کو امیر حج مقرر فرمایا تھا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امیر حج کے تمام فرائض ادا کئے اور اپنے ساتھیوں کے کھانے پینے اور سونے کا برابر انتظام کرتے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو اس طریقے سے منظم کیا کہ دشمنانِ اسلام یہی سمجھتے رہے کہ مسلمان تعداد میں زیادہ ہیں۔

 

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم مقام عرج پر پہنچے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں فجر کی نماز کے لئے پکارا۔ اس دوران ہم نے اونٹنی کے بلبلانے کی آواز سنی۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم سے فرمانے لگے کہ یہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی آواز ہے اور ہو سکتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہوں۔ اگر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہوں تو ہم ان کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔ اس دوران حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ آئے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے علی (رضی اللہ عنہ)! کیسے آنا ہوا؟ کیا قاصد بن کر آئے ہو یا قائد بن کر؟ حضرت سیدنا على المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں قائد نہیں قاصد بن کر آیا ہوں اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورہ توبہ دے کر بھیجا ہے کہ میں یہ حج کے دن لوگوں کو سناؤں۔ چنانچہ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے اور بیت اللہ شریف کا طواف کر کے فارغ ہوئے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں مناسک حج کی تعلیم دی۔ اس کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے سورہ توبہ کی تلاوت فرمائی اور اعلان کیا کہ اب کوئی بھی مشرک خانہ کعبہ میں داخل نہ ہوگا، کوئی شخص برہنہ خانہ کعبہ کا طواف نہیں کرے گا۔ پھر جب عرفہ کے دن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کا خطبہ دیا تو حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے سورہ توبہ کی ایک مرتبہ پھر تلاوت فرمائی۔ پھر جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قربانی کا حکم دیا تو قربانی کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے پھر سورہ توبہ کی تلاوت کی اور پھر جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سعی کا طریقہ بتایا اور سعی کرنے کا حکم دیا تو حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے سعی کے بعد پھر سورہ توبہ کی تلاوت فرمائی۔ یوں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق چار مرتبہ سورہ توبہ کی تلاوت فرمائی۔

 

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج مقرر فرمایا اور یوں آپ رضی اللہ عنہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اجتماعی طور پر مسلمانوں کو پہلا حج کروایا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج مقرر فرمایا حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو نقب اسلام مقرر فرمایا اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو معلم بنایا اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف سے قربانی کے لئے بیس اونٹ بھی دیئے۔

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں