0

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسط نمبر 18 حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بحیثیت امام

سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ 

قسط نمبر 18

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بحیثیت امام

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو عمر و بن عوف کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کے بعد ان کے درمیان صلح کروانے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاتے ہوئے حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ بلال (رضی اللہ عنہ)! اگر مجھے دیر ہو جائے اور عصر کا وقت ہو جائے تو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے کہنا کہ وہ نماز عصر میں لوگوں کی امامت کریں۔ چنانچہ نماز عصر کا وقت ہو گیا اور حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لئے اقامت کہی اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امامت کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اس دوران حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو پھلانگتے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے آکھڑے ہوئے۔ اس دوران دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو متوجہ کرنے کے لئے سیٹیاں بجائیں کیونکہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے تو پھر کسی جانب متوجہ نہ ہوتے تھے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ لوگ سیٹیاں بجانے سے رُک نہیں رہے تو انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جگہ چھوڑنی چاہی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ امامت کرتے رہو۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اللہ عز وجل کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر پیچھے ہٹ گئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور امامت فرمائی۔ نماز پڑھانے کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تم نے امامت کیوں نہ کروائی؟ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابوقحافہ کے بیٹے کا اتنا مقام کیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امام بنے۔ اس موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ وہ اگر نماز میں کوئی ایسا فعل دیکھیں تو بجائے سیٹیاں بجانے کے سبحان اللہ کہیں۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نماز کی امامت کے لئے کہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ بہت جلد مغموم ہو جاتے ہیں اور جب وہ امامت کے لئے کھڑے ہوں گے تو لوگ ان کی آواز نہ سن سکیں گے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو نماز میں امامت کے لئے کہہ دیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! ابوبکر (رضی اللہ عنہ) ہی نماز میں امامت کرے گا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امامت کا حکم دیا اور جس وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امامت کے لئے اٹھے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارک کا پردہ ہٹایا اور ہاتھ کے اشارے سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امامت کے لئے اشارہ کیا۔ صحیح بخاری میں منقول ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے وقت غسل فرما کر حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس وقت امامت فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا اور خود حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کی۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مختلف نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔

 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں